02:18 pm
حکومت کا نواز شریف کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کرانے کا خواب ادھورا رہ گیا

حکومت کا نواز شریف کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کرانے کا خواب ادھورا رہ گیا

02:18 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) نوازشریف حکومت کی جانب سے برطانیہ کو لکھے گئے خط کے بعد بھی واپس نہیں آئیں گے۔تجزیہ نگار عمران یعقوب خان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خط کے بعد بھی نوازشریف کو واپس لانا مشکل ہے کیونکہ برطانیہ کے قوانین کے مطابق اگر کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے تو وہ اسے ڈی پورٹ نہیں کرتے۔اس طرح اگرنوازشریف کے ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں وہاں علاج کی ضرورت ہے
تو نوازشریف کو وہاں سے ڈی پورٹ کرنا ممکن نہیں ہو گا اس لئے حکومت کا خط کسی کام کا نہیں ہے کیونکہ ان کا یہ خط بھی نوازشریف کا واپس نہیں لا سکتا۔ان کا مزید کہناتھا کہ حکومت کو ابھی خود سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اس معاملے پر کیا کرے۔ان کے وزیر مختلف بیانات رکھتے ہیں۔ایک طرف خط لکھتے ہیں تو دوسری طرف سارا الزام میڈیا پر ڈال دیتے ہیں۔بات کر تے ہوئے تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ اس حکومت کا کام ہی یہی ہے کہ جو کام وہ نہ کر سکیں تو اس کا الزام وہ میڈیا پر ڈال دیتے ہیں۔یاد رہے کہ حکومت نے برطانیہ حکومت کو خط لکھنا ہے جس میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ نوازشریف کو ڈی پورٹ کر دیا جائے۔خط میں مزید موقف اپنا یا جائے گا کہ نوازشریف بیماری کا بہانا کر کے برطانیہ میں موجود ہیں، اس لئے انہیں واپس بھیجا جائے۔اسی پر بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار عمران یعقوب خان نے بتایا ہے کہ حکومت کے خط کے بعد بھی نوازشریف کو واپس لانا مشکل ہے کیونکہ برطانیہ کے قوانین کے مطابق اگر کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے تو وہ اسے ڈی پورٹ نہیں کرتے۔اس طرح اگرنوازشریف کے ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں وہاں علاج کی ضرورت ہے تو نوازشریف کو وہاں سے ڈی پورٹ کرنا ممکن نہیں ہو گا اس لئے حکومت کا خط کسی کام کا نہیں ۔واضح رہے کہ سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے علاج سے متعلق کوئی رپورٹ پنجاب حکومت کو جمع نہیں کرائی، نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کا وقت آپہنچا ہے۔ پنجاب حکومت کی رپورٹ کے بعد اب وفاقی حکومت آئندہ ہفتے برطانوی حکومت کو خط لکھے گی، جس میں نواز شریف کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کرکے واپس پاکستان بھیجنے کی استدعا کی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں