12:46 pm
وہ تو بس شروعات تھی، مزید وزرا کی تبدیلیوں کا امکان ، ہٹائے جانے والے کون سے وزرا ہونگے

وہ تو بس شروعات تھی، مزید وزرا کی تبدیلیوں کا امکان ، ہٹائے جانے والے کون سے وزرا ہونگے

12:46 pm


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) آٹے چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے نتیجے میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کیے جانے والے غیر معمولی اقدامات اور تبدیلیوں کے بعد پنجاب اور وفاق میں میں جہانگیر ترین کے قریبی سمجھے جانے والے وزراء ،بیوروکریٹس اور پی ٹی آئی کے تنظیمی عہدیداروں کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
اس حوالے سے اینٹی ترین لابی کی جانب سے وزیراعظم پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے جب کہ یہ کوشش بھی کی جارہی ہے 
کہ جہانگیر ترین کی جانب سے بنائے گئے 300 ارب روپے مالیت کے وزیراعظم زرعی ایمرجنسی پروگرام پر نظر ثانی کر کے اس میں ترامیم کر ائی جائیں۔پاکستان تحریک انصاف اور اور حکومت کے باخبر افراد کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت میں موجود جہانگیر ترین مخالف لابی نے وزیراعظم عمران خان اور ان کے قریبی حلقوں کو تجویز دی ہے کہ جس طرح جہانگیرترین نے لابنگ کرکے چینی ایکسپورٹ اور سبسڈی کے فیصلے کرائے اور ویسے ہی انہوں نے اپنے افراد کو اہم حکومتی عہدوں پر تعینات کرایا،لہذا ان کو ہٹایا جائے۔ خیال رہے کہ شوگر مافیا کی طرف سے دھمکیاں ملنے کا بھی انکشاف ہوا تھا تاہم جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ واجد ضیاء کو دھمکی نہیں دی ، صرف ایک واٹس ایپ میسج کیا گیا۔ نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف جہانگیر ترین کا کہنا ہے شوگر ڈیلر ایسوسی ایشن نےاسلم فاروق کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ اگر اسی طرح سے ہراساں کیا جاتا رہا تو کام کرنا مشکل ہو جائے گا اور چینی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ جس کے بعد اسلم فاروق نے چینی بحران پر تحقیقات کرنے والے واجد ضیاء کو واٹس ایپ میسج کیا ، جس میں انہوں نے شوگرڈیلر ایسوسی ایشن کا پیغام پہنچایا اور بتایا کہ اگر شوگر ملز مالکان کو اسی طرح ہراساں کیا گیا تو چینی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ واجد ضیاء نے یہ میسج آگے بھیج دیا۔ رہنما تحریک انصاف جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو بات بڑھا چڑٖھا کر بتائی گئی ہے۔ جس کے باعث معاملات خراب ہوئے۔

تازہ ترین خبریں