10:09 pm
ملک میں کرونا بیماری کا پھیلائو مختلف ہے، وزیر اعظم عمران خان

ملک میں کرونا بیماری کا پھیلائو مختلف ہے، وزیر اعظم عمران خان

10:09 pm


اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کوروبا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح بیماری پھیل رہی ہے ہمیں خطرہ ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں کہیں ہسپتالوں میں جگہ کم نہ پڑ جائے، پاکستان کو کورونا وبا جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہم بہت بڑے مسئلے سے بچ سکتے ہیں، جتنے زیادہ لوگ جمع ہوں گے بیماری اتنی تیزی سے پھیلے گی، ہر ملک میں کورونا بیماری کا پھیلاوَ مختلف ہے،
پاکستان میں لوگ سمجھتے ہیں بیماری ان پر اثر نہیں کرے گی، کئی علاقوں میں لوگ احتیاط نہیں کررہے، کسی نوجوان کو بیماری لگی تو اس کے گھر میں موجود بزرگوں کو خطرہ ہوسکتا ہے، کیسز کی تعداد بڑھی تو ہمارے پاس اتنے وینٹی لیٹرز نہیں ہیں کہ ان کا علاج ہو سکے، سب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کے واسطہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں،لاک ڈاؤن اس وقت کامیاب ہوگا جب لوگوں کو گھروں پر کھانا اور بنیادی ضروریات دستیاب ہوں گی۔وہ بدھ کو یہاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر اسد عمر، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، معاونین خصوصی عثمان ڈار اور ثانیہ نشتر بھی موجود تھیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک صرف 40لوگ مرے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ہمارے پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یا شاید ہمیں یہ بیماری اثر نہیں کریگی۔انہوں نے کہا کہ میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کا واسطہ اس غلط فہمی میں نہ پڑیں کیونکہ اگر یہ سوچ آ گئی تو یہ وبا بہت خطرناک ہے اور ہمارے لوگ یہ سوچ کر احتیاط نہیں کررہے کہ پاکستانیوں کو فرق نہیں پڑیگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح یہ وبا بڑھتی جا رہی ہے تو ہمیں خوف ہے کہ مہینے کے اختتام تک جن چار یا 5 فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑے گا ان کی تعداد اتنی ہو جائیگی کہ ہمارے ہسپتالوں میں آئی سی یو یا شدید بیمار مریضوں کیلئے جگہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم شدی بیمار لوگوں کا علاج کرنے سے قاصر ہوں گے، ہمارے ہسپتالوں میں اتنے وینٹی لیٹر نہیں ہوں گے اور ہم ان کا علاج نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم احتیاط کریں گے تو اگر بیماری کم شدت سے پھیلتی ہے تو ابھی ہمارے ہسپتالوں میں جگہیں ہیں۔عمران خان نے کہا کہ تین ہفتے پہلے ہم نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد ہم نے اسکول، یونیورسٹیز کے بعد فیکٹریاں دکانیں وغیرہ بند کردی تھیں تاہم یورپ، امریکا اور چین میں ہونے والے لاک ڈاؤن سے ہمارا لاک ڈاؤن مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ آبادی کا ایک بڑا یعنی تقریباً پانچ کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں تو ہمیں لاک ڈاؤن کا یورپ اور چین کی طرح نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ اگر ہم ان کی طرح لاک ڈاؤن کریں گے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو روزانہ دیہاڑی کمانے والے ہیں، رکشا چلانے والے، چھابڑی والے، دکاندار وغیرہ پر لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے کیونکہ وہ سارا دن دیہاڑی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم نے کوشش کی کہ کسی طرح سے توازن قائم ہو جائے، لاک ڈاؤن بھی ہو تاکہ بیماری نہ پھیلے اور اس کمزور طبقے پر بھی بوجھ نہ پڑ جائے اور یہی وجہ ہے تمام صوبوں اور وفاق کا ردعمل مختلف تھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا جیسے ملک میں بھی مختلف ریاستوں میں مختلف رویہ ہے، کئی نے پورا لاک ڈاؤن کردیا ہے، کئی نے جزوی لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے، یورپ میں بھی سوئیڈن کا مختلف ہے جبکہ جرمنی کا اسپین اور اٹلی سے مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے زراعت کے شعبے میں لوگوں کو کام کرنے دینا ہے کیونکہ ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا ہے کہ ہمارے 22کروڑ لوگ ہیں جنہیں ہمیں کھانا پینا بھی دینا ہے خصوصاً اب گندم کی کٹائی شروع ہو چکی ہے تو ہم نے دیہاتوں میں کہا ہے کہ کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اصل لاک ڈاؤن شہروں میں کیا ہے، اب شہروں میں بھی سب کو خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ لوگوں کے حالات برے ہیں، مزدوروں اور دیہاڑی کمانے والوں کے برے حالات ہیں تو اس کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ شعبہ تعمیرات کو کھول دیا جائے تاکہ لوگوں کو نوکریاں ملیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے مسلسل کورونا وائرس کے مقابلہ کیلئے اقدامات پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے، لوگوں کو جیلوں میں نہیں ڈال سکتے، پوری قوم کو مل کر اس وباء کا مقابلہ کرنا ہے، وباء کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، حالات احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں، کوئی حکومت موجودہ صورتحال کا اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی، قوم کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اپنی آخرت سنوارنے کیلئے عطیات دیتے ہیں، نوجوان اور یہ مخیر حضرات موجودہ مشکل صورتحال میں ہماری طاقت ہیں۔

تازہ ترین خبریں

نور مقدم کیس کے دوران عثمان مرزا کو تو سب بھول ہی گئے ، کیس میں بڑی پیش رفت ، اہم انکشافات

نور مقدم کیس کے دوران عثمان مرزا کو تو سب بھول ہی گئے ، کیس میں بڑی پیش رفت ، اہم انکشافات

سیکرٹری قانون استعفیٰ کب اور کیوںدیں گے؟ خود ہی بتا دیا

سیکرٹری قانون استعفیٰ کب اور کیوںدیں گے؟ خود ہی بتا دیا

خبردار! اے ٹی ایم استعمال کرتے ہوئے چوکنا رہیں

خبردار! اے ٹی ایم استعمال کرتے ہوئے چوکنا رہیں

ملکی بڑی شخصیات کی جانب سے کروڑوں کے پلاٹ 100روپے کنال میں خریدے جانے کا انکشاف

ملکی بڑی شخصیات کی جانب سے کروڑوں کے پلاٹ 100روپے کنال میں خریدے جانے کا انکشاف

 ،اسلام آبادسیکٹر E/11میں 1سو روپے فی کنال کے حساب سے لوٹ سیل لگ گئی ،پاکستانی حیران ، پریشان

 ،اسلام آبادسیکٹر E/11میں 1سو روپے فی کنال کے حساب سے لوٹ سیل لگ گئی ،پاکستانی حیران ، پریشان

وزارت تعلیم کا ویکسی نیشن نہ کرانیوالے اساتذہ اور سکول سٹاف کا داخلہ بند کرنے کا فیصلہ

وزارت تعلیم کا ویکسی نیشن نہ کرانیوالے اساتذہ اور سکول سٹاف کا داخلہ بند کرنے کا فیصلہ

 انتخابات میں شکست پرنام بدلنے کے سوال پر عطا ء اللہ تارڑدلچسپ ردعمل

انتخابات میں شکست پرنام بدلنے کے سوال پر عطا ء اللہ تارڑدلچسپ ردعمل

تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کے نوٹس پر موقف سامنے آگیا

تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کے نوٹس پر موقف سامنے آگیا

عید کیلیے جانے والے مہاجرین افغانستان میں پھنس گئے

عید کیلیے جانے والے مہاجرین افغانستان میں پھنس گئے

افغان مہاجرین کو اب اپنے وطن واپس جانا چاہیے

افغان مہاجرین کو اب اپنے وطن واپس جانا چاہیے

پنجاب کے 46 فیصد شہری بزدار حکومت کی کارکردگی کو ’’زیرو‘‘ قرار دیدیا

پنجاب کے 46 فیصد شہری بزدار حکومت کی کارکردگی کو ’’زیرو‘‘ قرار دیدیا

بڑھتا کورونا وائرس :سند ھ حکومت نے 8اگست تک لاک ڈائون لگا دیا

بڑھتا کورونا وائرس :سند ھ حکومت نے 8اگست تک لاک ڈائون لگا دیا

پاکستان سمیت جو بھی ان ممالک جائے گا اس پر 3سال کی پابندی لگا دی جائے،سعودی عرب نے بڑا فیصلہ کر لیا

پاکستان سمیت جو بھی ان ممالک جائے گا اس پر 3سال کی پابندی لگا دی جائے،سعودی عرب نے بڑا فیصلہ کر لیا

ڈاکٹر عشرت حسین نے استعفیٰ کیوں دیا؟ استعفیٰ دینے پر وزیراعظم عمران خان نے کیا کہا؟ جانیں 

ڈاکٹر عشرت حسین نے استعفیٰ کیوں دیا؟ استعفیٰ دینے پر وزیراعظم عمران خان نے کیا کہا؟ جانیں