09:27 am
طیارہ حادثے میں شہید ہونے والے شخص کی بہن اور پاکستان کی بیٹی کیساتھ کیا دفاتر میں کیا سلوک کیا جا رہا ہے

طیارہ حادثے میں شہید ہونے والے شخص کی بہن اور پاکستان کی بیٹی کیساتھ کیا دفاتر میں کیا سلوک کیا جا رہا ہے

09:27 am


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) عید سے دو دن قبل کراچی میں ہونے والے طیارے حادثے میں شہید ہونے والے ایک شخص کی بہن نے دلبرداشتہ ہو کر اپنا پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ طیارہ حادثے کو 7 دن ہو گئے، ہم سے ابھی تک کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ بات کرتے ہوئے ویڈیو پیغام میں خاتون نے انکشاف کیا ہے واقع گزر جانے کے 1 ہفتے بعد بھی ہم سے کسی حکومتی ادارے نے رابطہ نہیں کیا،
ہم خود مشقت کر رہے ہیں۔ خاتون نے مزید انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 5 دنوں میں ہماری ایک دفتر سے دوسرے دفتر تذلیل کی جا رہی ہے، ہم سے بدتمیزی کی جا رہی ہے، کسی محکمے میں کوئی شخص ہم سے تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس معاملے پر حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے مذکورہ خاتون نے بتایا ہے کہ دوسرے ممالک میں ایسے واقعات پیش آجائیں تو لواحقین کو گھرمیں رکھا جاتا ہے اور ان کی مدد کی جاتی ہے، لیکن یہاں ہمیں ہی ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیجا جا رہا ہے اور ہماری تذلیل کی جا رہی ہے جو کہ مناسب عمل نہیں ہے۔ خاتون نے حکومتی احکامات پر سوال اٹھاتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ابتداء میں 13 سے 15 لاشیں بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کے لوگوں کو دی گئی ہیں، وہ کس بنیاد پر دی گئی ہیں؟ خاتون نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے اقدامات میں تیزی لائی جائے اور جتنا جلد ممکن ہو ان کے بھائی کی میت انہیں فراہم کی جائے تا کہ وہ لوگ اس کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔ واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب عید سے 2 دن قبل دوپہر سوا دو بجے کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی تھی۔ ایئربس میں 107 افراد سوار تھے جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل تھے۔ ایئربس 320 ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ سے قبل طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔