07:16 am
 وفاقی حکومت کا  اگلے مالی سال میں 15ارب ڈالر قرضہ لینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا اگلے مالی سال میں 15ارب ڈالر قرضہ لینے کا فیصلہ

07:16 am

اسلام آباد(آن لائن ) وفاقی حکومت نے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کیلئے اگلے مالی سال میں 15ارب ڈالر قرضہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے ، جون کے اخر تک غیر ملکی قرضوں کی مالیت25ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جس میں 16ارب ڈالر پرانے قرضوں کی ادئیگی پر خرچ ہونگے ،غیر ملکی سرمایہ کاری اور بیرون ممالک سے ترسیلات زر میں کمی کی وجہ سے معیشت پر پڑنے والے بھاری بوجھ کو کم کرنے کیلئے مذید قرضے لیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اوراگلے مالی سال کے دوران15ارب ڈالرمزید قرضہ لینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے بنا رہی ہے
ذرائع کے مطابق اگر پاکستان کو یہ قرضہ مل جاتا ہے تو اس میں سے 10ارب ڈالر سے پرانے قرضے اتارے جائیں گے جبکہ باقی رقم سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھا جائے گا ذرائع کے مطابق اگرپاکستان 15ارب ڈالر کے ان قرضوں کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ قرضے ملکی تاریخ میں کسی بھی ایک مالی سال کے دوران لیے گئے قرضے کی سب سے بڑی مالیت ہوگی اور اس سے ملک قرضوں کے مزید بوجھ تلے دب جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے غیر ملکی اور مقامی قرضوں سے نجات کیلئے ملکی برآمدات میں اضافے، ترسیلات زربڑھانے اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری توقع سے بہت کم رہی ہے جس کی وجہ سے مزید قرضے لینے پڑ رہے ہواضح رہے کہ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر12ارب ڈالرذ موجود ہیں لیکن یہ ذخائر بھی قرضوں کے ذریعے بنائے گئے ہیں جبکہ آئی ایم ایف نے اپریل کی اپنی رپورٹ میں مالی سال 2020-21 کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ڑرمبادلہ کے ذخائرکی حد 15.6ارب ڈالر مقررکررکھی ہے جسے بغیر مزید قرض حاصل کیے پورا کرنا مشکل ہے کیونکہ ملکی براّمدات میں اضافہ بہت کم ہوا ہے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی رقوم میں بھی کورونا وبا کے باعث کمی ہورہی ہے جس کی وجہ سے یہ حدف حاصل کرنا ناممکن ہوچکا ہے اور اس کو پورا کرنے کیلئے مذید قرضے لئے جائیں گے ذرائع کے مطابق جون کے آخری ہفتے تک موجودہ حکومت کی جانب سے لیے گئے غیرملکی قرضوں کی مالیت 25ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی اور اس میں سے 16.5ارب ڈالر پرانے قرضے چکانے پر خرچ ہونگے۔ حکومت آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط حاصل کرنے کیلئے اس کی شرائط پوری کرنے کے ضمن میں تمام تر کوششیں کررہی ہے اورنئے قرضوں کے حصول کیلئے حکومت کو آئی ایم ایف کے معاشی پروگرام کو بحال رکھنا ضروری ہوگا اگلے مالی سال کے دوران حکومت کو آئی ایم ایف سے 2.1 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے