08:43 am
اب تک کتنے اراکین پارلیمنٹ ، سینیٹرز اور ایم پی ایز کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں ، جانیں

اب تک کتنے اراکین پارلیمنٹ ، سینیٹرز اور ایم پی ایز کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں ، جانیں

08:43 am


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) کورونا وائرس نے عوام کے بعد اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اراکین اسمبلی کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے۔۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق اب تک کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق46 اراکین میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے جب کہ پانچ اراکین پارلیمنٹ دار فانی سے کوچ بھی کرچکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک قومی اسمبلی کے دس، سینیٹ کے چار، پنجاب اسمبلی کے سات ، سندھ اسمبلی کے 12، خیبرپختونخوا اسمبلی کے آٹھ اور بلوچستان اسمبلی کے پانچ اراکین کورونا کا
نشانہ بن چکے ہیں۔ میڈیا کے مطابق عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کی وجہ سے چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ایک ایک رکن جہان فانی سے کوچ کرگئے ہیں۔ کرونا وائرس اب تک سندھ کے وزیردیہی آبادی مرتضیٰ بلوچ ، خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن میاں جمشید کاکا خیل (پی ٹی آئی)، پنجاب اسمبلی کے اراکین شوکت منظور چیمہ (مسلم لیگ ن )، شاہین رضا (تحریک انصاف)اور بلوچستان اسمبلی کے رکن سید فضل آغا شامل (جے یو آئی ف)ہیں۔ رکن قومی اسمبلی منیراورکزئی کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے لیکن ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ کرونا سے صحتیاب ہوچکے تھے لیکن انکی موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہے ۔ قومی اسمبلی کے جن دس اراکین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ، اور وفاقی وزیر مملکت شہریار آفریدی شامل ہیں۔اسکے علاوہ پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر، ظہور حسین قریشی، کرامت کھوکھر، گل ظفر خان، محبوب شاہ، وجیہہ اکرم اورعلی وزیر بھی کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ کورونا وائرس نے 4 سینیٹرز کو بھی متاثر کیا ہے جن میں مولا بخش چانڈیو، مرزا محمد آفریدی ، فدا محمد خان اور مولانا عطا الرحمان شامل ہیں۔ پنجاب اسمبلی سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی اسپیکردوست محمد مزاری، وزیر توانائی اختر ملک ، صوبائی وزیر راجہ راشد حفیظ اور رانا عارف اقبال بھی کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں جن میں دوست محمد مزاری اور اختر ملک صحتیاب ہوچکے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے 12 اراکین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ان میں پی پی کے صوبائی وزیر سعید غنی، ڈاکٹر سہراب سرکی، لیاقت علی ، سعدیہ جاوید، ساجد جوکھیو اورنور محمد بھرگڑی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ والے ایم کیو ایم کے علی خورشیدی ، منگلا شرما، پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی شاہ نواز جدون، جی ڈے اے کے معظم عباسی اور مجلس عمل کے سید عبدالرشید بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ گورنر سندھ عمران اسماعیل میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی لیکن اب وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔ خیبرپختونخوا سمبلی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش کرونا کا نشانہ بنے ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں موجود پی ٹی آئی کے ہمایوں خان، عبدالسلام آفریدی، عنایت اللہ خان ، مدیحہ نثار اوراے این پی کے بہادر خان بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے پانچ اراکین میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جن میں وزیرخزانہ ظہور احمد بلیدِی، وزیراعلیٰ کے مشیرعبدالخالق ہزارہ، یونس عزیز زھری اورنصر اللہ خان شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے بہنوئی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں جبکہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظورپشتین کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔۔ اسکے علاوہ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کئی عہدیدار اور متحرک کارکن بھی کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں