07:48 am
ملک ریاض کے گھر پر چھاپہ مارنے کیلئے 2بڑی ٹیمیں تیارعین موقع  پرپنجاب کی اہم ترین شخصیت کی مداخلت ،بڑا دعویٰ سامنے آگیا

ملک ریاض کے گھر پر چھاپہ مارنے کیلئے 2بڑی ٹیمیں تیارعین موقع پرپنجاب کی اہم ترین شخصیت کی مداخلت ،بڑا دعویٰ سامنے آگیا

07:48 am

لاہو ر (نیوزڈیسک) معروف صحافی عارف حمید بھٹی کا عظمی خان کیس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کہ تنقید کی جا رہی ہے کہ میڈیا پر طاقتور لوگوں کی بات نہیں کی جا رہی۔اور اس پر ہمیں طعنے بھی مل رہے ہیں کہ آپ طاقتور لوگوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرتے۔خاص طور پر جب ملک ریاض کا نام آئے تو تمام لوگ ڈر جاتے ہیں۔عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں میں دو واقعات ہوئے ایک ملک ریاض کی بیٹیوں پر مقدمہ درج ہوا اور دوسرا شہباز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے ہے۔نیب نے شہباز شریف کو اطلاع دی
اور جس نے انہیں بچایا وہ افسر ابھی تک اپنی سیٹ پر براجمان ہے۔عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ جب ملک ریاض کی بیٹیوں پر مقدمہ درج ہوا تو پہلے تو مقدمہ دو تین دن کی تاخیر سے درج کرایا گیا۔مقدمے کا اندراج ہو گیا لیکن اس میں دفعات نہیں لگی۔ڈی آئی جی انویسٹیگیشن نے مقدمے کے اندراج کے بعد قانونی تقاضوں کے مطابق یقینا ملزمان کے گھر چھاپہ مارنا تھا۔ملزمان کے گھر چھاپہ مارنے کے لیے دو بڑی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ابھی چھاپہ مار ٹیمیں ملک ریاض کے گھر نہیں پہنچی تھی کہ پنجاب کی اہم شخصیت نے مداخلت کی۔جس کے بعد وہ ٹیمیں گھروں پر ریڈ کرنے نہیں گئی بلکہ واپس آگئیں۔عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ پنجاب کی اہم ترین شخصیت پنجاب کو تباہ کر رہی ہے۔واضح رہے کہ اداکارہ عظمیٰ خان تشدد کیس کے عینی شاہد میاں داؤد ایڈووکیٹ نے پیر کے روز لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ملک ریاض اور اداکارہ عظمیٰ خان کی ڈیل ہوئی ۔میاں داؤد ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر ملک ریاض نے 4 کروڑ کی آفر کی تھی لیکن اسے منع کر دیا گیا تھا لیکن اب قیمت بڑھنے اور قابل یقین لوگوں کی شمولیت کے بعد ڈیل ہو گئی ہے۔ ایڈووکیٹ میاں داؤد نے اردوپوائنٹ کی اینکر فرخ شہباز وڑائچ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ہما خان نے اپنے بیان میں کہا کہ گلاس نیچے گر کر ٹوٹ گیا تھا اور اسکی وجہ سے انکے پاؤں میں چوٹ لگی۔، اس سے قبل دونوں بہنیں کہتی رہی تھیں کہ انہیں راڈ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن آج اداکارہ اور انکی بہن نے کہا کہ انہوں نے غلط فہمی کی بنیاد پر مقدمہ درج کروایا تھا۔ میاں داؤد نے انکشاف کیا کہ 29مئی کو گورنر پنجاب چوہدری سرور معاملے میں مشغول ہوئے، اس کے ساتھ ہی پنجاب کی ایک اور شخصیت بھی معاملے میں شامل ہوگئی۔