02:28 pm
پاکستان میں 884 علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا ہے، مزید کہاں کہاں لاک ڈائون کیا جائےگا ، جانیں

پاکستان میں 884 علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا ہے، مزید کہاں کہاں لاک ڈائون کیا جائےگا ، جانیں

02:28 pm


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں 884 علاقوں میں لاک ڈاؤن کردیا ہے، جہاں پر ایس اوپیز پر عمل نہیں ہوگا، انتظامیہ کاروائی کرے گی، پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤ زیادہ نہیں اور وباء بھی زیادہ مہلک نہیں ، لیکن ایس اوپیز پر عمل کرکے پھیلاؤ کو کم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ انہوں نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ قومی پالیسی میں تمام چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، لیکن ہمارے فیصلوں سے اگر کسی ایک شخص کی بھی زندگی خطرے میں پڑے گی تو یہ افسوسناک ہوگا،
اور ناقابل معافی ہے۔ ابھی تک ہماری اسٹرٹیجی جو ہے وہ شروع سے ابھی تک ویسے ہی ہے، پہلی چیز یہ ہے کہ وباء کے پھیلاؤ کی رفتار میں کمی کرنی ہے، اتنی کمی کرنی ہے کہ ہمارا صحت کا نظام مفلوج نہ ہوجائے۔ تاہم وباء کے پھیلاؤ کو روکنا ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے دو حصوں میں ایک یہ ہے کہ کورونا سے بچنے کیلئے ڈاکٹرز کی ہدایت پر عمل کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانا ہوگی۔لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ لوگ حفاظتی تدابیر نہیں اپنا رہے، اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔حکومت نے بار بار خبردار کیا، اب اگر ایس اوپیز پر عمل نہ کیا گیا تو انتظامیہ کاروائی کرے گی۔حکومت چاہتی ہے آپ آزادی سے زندگی گزاریں۔ چاہتے ہیں ہر کسی کی زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔ پاکستان میں کورونا سے1935 لوگ انتقال کرگئے، ہر شخص قیمتی تھا۔ کورونا سے ہر 10لاکھ میں 9افراد کا انتقال ہوا ہے۔ پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤ زیادہ نہیں ہے۔ہم ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں وباء زیادہ مہلک نہیں ، لیکن ہم سب نے مل کر کورونا کے پھیلاؤ کو کم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 884 علاقوں میں لاک ڈاؤن ہے۔ جب کہ 2لاکھ سے زیادہ آبادی متاثر ہے۔ دو لاکھ لوگوں کی مشکل ایک طرف جبکہ 20کروڑ عوام کی زندگی کی حفاظت کرنا زیادہ مقدم ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بیماری پھیلی ہے، جس کے پیش نظر ٹیسٹنگ کے نظام کو بہتر کیا۔جب وائرس آیا اس وقت پاکستان میں 8لیبارٹریاں تھیں،اور 472ٹیسٹ کیے گئے تھے، آج ایک سو سے زیادہ لیبارٹریاں ہیں اور 22سے 23ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔آج ہسپتالوں میں دو گنا اضافہ ہوچکا ہے۔