11:44 am
پاکستانی سکولوں نے کرونا سے بھی کمائی کا طریقہ ڈھونڈلیا ، اب بچوں کو ماسک بھی سکول سے ان کی مرضی کے مطابق خریدنے ہونگے

پاکستانی سکولوں نے کرونا سے بھی کمائی کا طریقہ ڈھونڈلیا ، اب بچوں کو ماسک بھی سکول سے ان کی مرضی کے مطابق خریدنے ہونگے

11:44 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) بد قسمتی کہیں یا بد بختی لیکن یہ حقیقت ہے کہ کوئی تہوار ہو یا قوم پر آئی کوئی مصیبت ، پاکستانیوں نے اس کا ہر طرح سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے جس میں ایسے ایسے مکروہ چہرےسامنے آئے جن کی طرف دیکھتے ہوئے بھی قے آجاتی ہے ۔ کوئی رمضان میں غریبوں کیلئے روزے مشکل بنا دیتا ہے تو کسی مہا شے نے پاکستانیوں کیلئے مرنا بھی مشکل ترین عمل بنا دیا ہے کہ قبر کون کھدوائے ، کفن تک اس قدر مہنگا کہ سن کر ہی ہوش اڑ
جائیں ۔DJ.Enrightکی نظم The Rebelکی طرح پاکستان کے باسی وہ باغی ہیں کہ جب پوری دنیا میں چیزیں سستی کی جاتی ہیں تب ہم لوگ چیزیں مہنگی کر دیتے ہیں ۔ اور اب بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے کہ جیسے جیسے عالمی وباء نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑے ہیں ویسے ویسے پاکستانیوں نے اس وائرس سے بچاؤ کے طریقوں سے اپنے اپنے کاروبار چمکانا شروع کردیے ہیں۔ اس عالمی وباء کے آتے ہی ہم نے انسانیت کے بدترین اور بہترین چہرے دیکھے ہیں، یہاں منافع خور مافیا نے ماسک بلیک میں فروخت کیے، تو کبھی پلازمہ کے نام پر لاکھوں روپے کا گندا دھندہ کیا، اور رہی سہی کسر اب سکولوں نے اس وباء کو پیسے بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ بڑے شہروں کے ایلیٹ سکولوں نے طالب علموں کیلئے لازم قرار دیا ہے کہ تمام بچے اسکول کے لوگو والے ماسک پہنیں گے ورنہ بچوں کو اسکول آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بیکن ہاؤس اور لاہور گرامر سکول نے اعلان کیا ہے کہ جو بچے اسکول کے لوگو والے ماسک استعمال نہیں کریں گے وہ کورونا وائرس سے محفوظ نہیں ہوں گے اسی لیے انہیں سکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جی یہ اعلان ایک حقیقت ہے، لوگو والے ماسک، والدین کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ اسکول کے ہی لوگو والے ماسک پہنا کر بچوں کو اسکول بھیجیں، کیونکہ اگر والدین ایسا نہیں کریں گے تو خدا نخواستہ بچے کورونا وائرس کا شکار ہونے کا زیادہ خدشہ ہے، اور ہمارے اسکول نہیں چاہتے کہ ایسا ہو کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ایک بچے کی اسکول فیس سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ ٹویٹر پر صارفین نے اس اعلان کے بعد شدید قسم کا ردعمل دیکھنے میں آیا، ایک صارف کا کہنا تھا جیسے ہوم ورک بغیر لوگو کی نوٹ بک پر قابل قبول نہیں ہے ویسے ہی بچوں کو اسکول کی حدود میں لوگو والے ماسک کے بغیر سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ بہت جلد اسکولوں کی جانب سے ایسا پیغام آنے والا ہے، ڈیئر والدین، ہم آپ کو بتانے میں خوشی محسوس کررہے ہیں کہ سکولوں نے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے لوگو والے ماسک تیار کیے ہیں، جو اسکولوں سے ہی مبلغ 500 روپے میں حاصل کیے جاسکتے ہیں، پلیز ان لوگو والے ماسک کے علاوہ کسی قسم کے ماسک قابل قبول نہیں ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں