09:48 am
آصف زرداری کا نام عزیر بلوچ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے کس نے نکالا؟ علی زیدی نے کس کس کو پھنسایا؟سنسنی خیز رپورٹ جاری

آصف زرداری کا نام عزیر بلوچ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے کس نے نکالا؟ علی زیدی نے کس کس کو پھنسایا؟سنسنی خیز رپورٹ جاری

09:48 am


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )آصف زرداری کا نام عزیر بلوچ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے کس نے نکالا؟ علی زیدی نے کس کس کو پھنسایا؟سنسنی خیز رپورٹ جاری ۔۔۔ پاکستان کے نامور صحافی رؤف کلاسرا کا اپنے یوٹیوب چینل پر اپنے ویڈیو پیغام میں عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں یہاں ایک بہت ہی اہم مسئلے پر بات کرنا چاہتا ہوں اور وہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ ہے، جس کو قومی اسمبلی میں لہرا کر وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا تھا کہ سندھ حکومت وزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پبلک نہیں کر رہی جب کہ ان کو رپورٹ پبلک کرنے کے حکم عدالت نے بھی دے رکھے ہیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا
کہ وفاقی وزیر علی زیدی کی جانب سے جو رپورٹ قومی اسمبلی میں لہرائی گئی تھی اس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور پر سنگین قسم کے الزامات لگائے تھے، علی زیدی نے الزامات لگاتے ہوئے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عزیر بلوچ نے آصف علی زرداری کے کہنے پر کراچی میں قتل کروائے اور عزیر بلوچ کے بیان حلفی کے مطابق اس کو اسلحہ اور پیسے آصف علی زرداری مہیا کرتا تھا۔ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ جو رپورٹ علی زیدی کی جانب سے قومی اسمبلی میں لہرائی گئی تھی وہ 20 صفحات پر مشتمل ہے اور جو رپورٹ سندھ حکومت کی جانب سے شائع کی گئی ہے وہ 35 صفحات پر مشتمل ہے، اس کے علاوہ دونوں ہی رپورٹس میں بھی فرق بیان کیا جا رہا ہے۔ رؤف کلاسرا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال یہاں پر یہ اٹھتا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے برعکس علی زیدی کے پاس جے آئی ٹی کی رپورٹ کہاں سے آئی، جس میں آصف علی زرداری عبدالقادر پٹیل اور یوسف بلوچ کے نام شامل ہیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا کے میرے خیال سے علی زیدی نے اپنے لیے اور پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے لئے مسائل پیدا کر لیے ہیں، انہوں نے کہا کہ حیران کن بات تھی یہاں پر یہ ہے کہ سندھ حکومت اور علی زیدی کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹس پر ان تمام اداروں کے افسران کے دستخط موجود ہیں جو اس معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے لیکن ایک رپورٹ پر چار افسران جبکہ دوسری پر سات کے سات افسران کے دستخط موجود ہیں، جو یہاں مجھ سمیت تمام پاکستانیوں کو بھی تذبذب کا شکار بنا رہی ہے، کیوں کہ قانون کے مطابق حتمی رپورٹ اسے ہی تصور کیا جاتا ہے جس پر تحقیقات کرنے والے افسران کے دستخط موجود ہوتے ہیں۔رؤف کلاسرا نے بتایا کہ جو رپورٹ پہلے علی زیدی کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی، اس پر 14 لوگوں کے دستخط ہیں جبکہ باقی تین لوگوں کی تعداد موجود نہیں ہیں جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ پر تحقیقات کرنے والے سات اداروں کے سات افسران کے دستخط موجود ہیں، تاہم اب بنیادی سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ علی زیدی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر باقی تین افراد کے دستخط کیوں نہیں ہیں؟ رؤف کلاسرا نے سوال کیا کہ اگر علی زیدی کی رپورٹ پر خفیہ ایجنسی کے افسران نے دستخط کردیے تھے تو پھر انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ پر دستخط کیوں کیے؟ جسے علی زیدی کی جانب سے جاری رپورٹ قرار دی جا رہی ہے، کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تحقیقات کے دوران کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی ہے؟ رؤف کلاسرا نے اپنے تیزی میں بتایا کہ جہاں تک میرے علم میں ہے جو رپورٹ علی زیدی کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہے وہ ان کے پاس 2017 سے تھی جو ان کو انٹیلی جنس ایجنسی کے کسی افسر نے فراہم کی تھی، رؤف کلاسرا کے مطابق علی زیدی نے سپریم کورٹ سے کیس رپورٹ پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیئے ہیں؟ اگر سپریم کورٹ علی زیدی کی درخواست پر خفیہ ایجنسی کے چاروں افسران کو طلب کرتی ہے تو ان کے بیان کے بعد فیصلہ ہوگا کہ علی زیدی کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ اصلی ہے یا سندھ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ ؟ اس بات کا حتمی فیصلہ چاروں خفیہ ایجنسیوں کے افسران کے جواب کے بعد کیا جائے گا۔