06:33 am
 وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مل کرشریف خاندان کے خلاف جدوجہد کی  اب ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مل کرشریف خاندان کے خلاف جدوجہد کی اب ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،

06:33 am

لندن (ویب ڈیسک )جہانگیر خان ترین اور عمران خان کے درمیان شوگر کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد دوریاں آ گئی تھیں جس کے بعد مخلتف چہ مگوئیاں سر اٹھانے لگیں۔ کہا جا رہا تھا کہ عمران خان سے دوری ہونے کی صورت میں جہانگیر ترین نوازشریف سے ہاتھ ملانے جا رہے ہیں۔جہانگیر ترین کے لندن دورے پر بھی سوال اٹھائے گئے جس پر جہانگیر ترین نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ علاج کے سلسلے میں لندن میں ہیں علاج ہوتے ہی واپس پاکستان آ جائیں گے۔نجی ٹی وی چینل پر تجزیہ کار حبیب اکرم نے بتایا کہ ان کی جہانگیر ترین سے بات ہوئی ہے
اور انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا جہانگیر ترین نوازشریف سے ہاتھ ملانے جا رہے ہیں؟جس پر جہانگیر ترین نے جواب دیا کہ ان کا نوازشریف سے کوئی رابطہ نہیں اور وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، جہانگیر ترین نے کہا کہ بلواسطہ یا بلاواسطہ کسی بھی طریقے سے میرا نوازشریف سے کوئی رابطہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مل کر جدوجہد کی اب ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا کہ ایسی محاذ آرائی سے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا، انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں یہ غلط فہمیاں دور ہو جائیں اور اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی (ن) لیگ یا پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔