06:01 pm
پاکستانیوں کی قسمت تبدیل ہونے والی ہے ،عوام پڑھے صبح صبح خوشی کی خبر

پاکستانیوں کی قسمت تبدیل ہونے والی ہے ،عوام پڑھے صبح صبح خوشی کی خبر

06:01 pm


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانیوں کی قسمت تبدیل ہونے والی ہے ،عوام پڑھے صبح صبح خوشی کی خبر  ۔۔۔ بدھ 15 جولائی کو گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر بننے والے پاکستان کے سب سے بڑے میگا پراجیکٹ دیا میر بھاشا ڈیم کی مختلف سائٹس کا وزیراعظم عمران خان نے دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں، جو انسانون پر سرمایہ کاری کرتی ہیں، دنیا کی دوسری قومیں چین کی ترقی سے خوف زدہ ہیں، چین نے 5 ہزار بڑے ڈیم بنائے، قانون کی بالا دستی اور تعلیم دینے
سے قومیں ترقی کرتی ہیں، قوموں کو مشکل وقت میں اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں، پاکستان کی بدقسمتی رہی کہ کم وقت کیلئے فیصلے کیے گئے طویل المدتی نہیں۔ دورے کے موقع پر فیصل واوڈا، امین گنڈا پور، چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ حکام کی جانب سے وزیراعظم کو پراجیکٹ پر اب تک ہونے والے تعمیراتی کام اور اس منصوبے پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے سے ملک میں ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوگی۔ یہ منصوبہ سال 29-2028ء میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ دیا میر بھاشا ٹیم کی تفصیلاتدیامیر بھاشا ڈیم کو پاکستان کا تیسرا میگا ڈیم سمجھا جاتا ہے۔ اس ڈیم کے پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختوںخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا 6 لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر 3 ملین ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔ اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 ٹربائن لگائی جائیں گیں اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 میگا واٹ بجلی، جب کہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاؤ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جب کہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج پانچ کروڑ ایکڑ فیٹ ہے۔ ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوگا، جب کہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹریکچر کی تعمیر ہو گئی۔ دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ کئی دہائیوں سے زیر غور ہے۔ پہلی مرتبہ اس منصوبے کی تجویز 1980 کی دہائی کے آغاز میں زیر غور آئی تھی۔ واپڈا کے مطابق ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ پہلی مرتبہ 2004 میں تیار کی گئی جبکہ سنہ 2005 سے 2008 کے عرصے میں دوبارہ اس کی فزیبلٹی اور ڈیزائین پر کام ہوا تھا۔ واپڈا کے مطابق ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے 14 سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8.10 ملین ایکٹر فٹ ہو گی جبکہ اس میں ہمہ وقت 6.40 ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا۔ قبل ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانیوں کو اس منصوبے سے 16500 نوکریاں، جب کہ 4500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہو گی۔ انہوں نے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے آغاز کو بہت بڑی خوش خبری قرار دیا ہے۔ پاکستان دیامیر بھاشا ڈیم کو بجلی اور پانی کی ضرورت کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ 60 کی دہائی کے بعد اب تک پاکستان نے کوئی بھی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا ہے۔