09:50 am
پاکستان ،چین ،روس ،ایران اورترکی کوروکناہوگاور

پاکستان ،چین ،روس ،ایران اورترکی کوروکناہوگاور

09:50 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )صحافی اوراینکرپرسن عمران خان نے اپنے یوٹیوب چینل پرانکشاف کرتے ہوئے کہاکہ میں نے آپ کوچنددن قبل ایک آڈیوسنائی تھی جس میں چینی فوجی سائوتھ چائنہ سی سے امریکی فوجیوں کووارننگ دے رہے تھے۔بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے چین کادعویٰ ہے کہ یہ اس کاپانی ہے اوراس کا90فیصد علاقہ ہماراہے۔جبکہ اس سمندرکے گردبسنے والے دیگرممالک کہتے ہیں کہ یہ ہماراحصہ ہے جس میں فلپائن ،ویت نام ،ملائشیا،انڈونیشیا قابل ذکرہیں۔دوسری جانب امریکہ اوریورپی طاقتوں کے خیال میںیہ سمندرسب کامشترکہ ہے اوریہاں سے ہرکوئی گزرسکتاہے۔جبکہ چین کہتاہے کہ یہ اس کاسمندرہے اوراس پرچین کاتسلط اورکنٹرول ہوناچاہیے۔امریکہ کی جانب سے اس کوچیلنج کیاجارہاہے۔دونوں طاقتورممالک کے درمیان یہ لڑائی کیوں ہونے جارہی ہے اس حوالے سے ہارورڈ یونیورسٹی کے انٹرنیشنل ریلیشن کے پروفیسر گراہم ایلی سن نے ایک کتاب Destined for warتحریرکی ہے جوبہت مقبول ہورہی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے بتایاکہ چین اورامریکہ کے درمیان ممکنہ طورپرایک جنگ کیوں ہوسکتی ہےانہوں نے کہاکہ جب ایک پرانی طاقت ہوتی ہے اوراسے یہ لگتاہے کہ میرے مقابلے میں دنیامیں ایک اورطاقت ابھررہی ہے۔دنیاکی پچھلی 500سالہ تاریخ کے دوران 16مرتبہ عالمی طاقتوں نے ابھرتے ہوئے ممالک کوکچلنے کی کوشش کی اور16میں سے 12مرتبہ اس کوشش کے دوران زبردست جنگ ہوئی ۔جب امریکہ کولگاکہ روس بڑی طاقت کے طورپرابھررہاہے جوکہ وہ تھاتواس نے روس کے خلاف پروپیگنڈاکروایافلمیں بنوائیں دوسرے ممالک کوروس کے خلاف اکٹھاکیااورآخرکارافغان 
جنگ کے دوران روس کے ٹکڑے کروادئیے۔اسی طرح کاٹریپ برطانیہ نے 19ویں صدی میں جرمنی کے خلاف بنایا۔اب ایساہی ایک ٹریپ امریکہ چین کےخلاف بنارہاہے۔اورامریکہ نے چین کےخلاف لڑائی کے لیے جس خطے کومنتخب کیاہے وہ بحیرہ جنوبی چین کاعلاقہ ہے۔امریکہ فوج نے علاقے میں چین کوگھیرناشروع کردیاہے اورچین نے بھی اس کے مقابلے میں اپنے بحری جہاز مقابلےکے لیے لگادئیے ہیں۔چین کوگھیرنے کے لیے امریکہ بھارت کوبھی ساتھ ملالیاہے ۔بھارت نے بھی فوجی مشقیں شروع کرد ی ہیں اوربھارت بڑی لڑائی کی تیاری کررہاہے بھارت کوانتظارہے کہ امریکہ اوراس کے اتحادی سائوتھ چائنہ سی کے اندرچین سے لڑائی شروع کریں تودوسری جانب بھارت بھی لداخ میں چین کے خلاف محاذ کھول دے۔دوسری طرف چین کی تیاری کے بارے میں ایک بین الاقوامی ادارے آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق روس کے علاوہ چین اب ایک ایساملک بن گیاہے جس کودیکھتے ہوئے امریکہ اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرتاہے۔چین وہاں پہنچ گیاہے جہاں اب وہ امریکہ کامقابلہ شروع کرسکتاہے۔چین ہمیشہ اپنی فوج طاقت کوخفیہ رکھتاہے ۔چین ان ممالک میں سرفہرست ہے جو2007 سے لیکر2016تک لگاتاراپنے فوجی بجٹ میں اضافہ کرتاآرہاہے۔چین کامقصد امریکہ کوجنگ میں شکست دینانہیں ہے اس کامقصد ہے کہ امریکہ کولڑائی کے نقصانات برداشت کرناپڑیں۔امریکہ کااتنانقصان کرے کہ اس کولڑائی کی قیمت زیادہ لگنے لگ جائے۔یورپی یونین انگڑائی لے رہاہے اوروہ یہ سوچتاہے کہ شایدچین امریکہ کی جگہ لے لے گا۔کچھ ممالک چین کے ساتھ بڑی تیزی سے جڑتے چلے جارہے ہیں۔جن میں پاکستان ،روس ،ترکی اورایران قابل ذکرہیں جس کے بعد امریکہ کے لیے آنے والے دنوں میں خطرات بڑھتے چلے جارہے ہیںاگرعرب ممالک میں سے بھی کچھ چین کے ساتھ کھڑے ہوگئے توچین امریکہ کے لیے ڈرائوناخواب بن جائے گا۔

تازہ ترین خبریں