07:13 am
صوبائی دارالحکومت کو محفوظ بنانیوالی  تاریخی “فصیل شہر” صفحہ ہستی سےمٹنے لگی

صوبائی دارالحکومت کو محفوظ بنانیوالی تاریخی “فصیل شہر” صفحہ ہستی سےمٹنے لگی

07:13 am

پشاور (ویب ڈیسک) پشاور شہر کومحفوظ بنانے والی تاریخی “فصیل شہر” صفحہ ہستی سے مٹنے لگی، مغلیہ دور میں تعمیر ہونے والی دیوار کو سکھوں نے بحال کیا، انگریزوں نے پختہ اینٹوں سے موجودہ شکل دی۔ دو کلو میٹر طویل دیوار آبادی کے تیز بہاؤ کی زد میں آکر ڈیڑھ سو میٹر رہ گئی۔ہزاروں سال پرانے شہر پشاور کو محفوظ بنانے کےلئے مغل دور حکومت میں شہر کے گرد دیوار تعمیر 
کی گئی، اڑھائی کلومیٹر دیوار کو سکھوں کے دور حکمرانی میں بحال کیا گیا جبکہ 1930ء میں انگریزوں نے پختہ اینٹوں سے اسے موجودہ شکل دی۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب شہر میں عمارتوں کے پھیلتے جنگل نے فصیل شہر کو بھی نیست و نابود کردیا۔فصیل شہر کے اب صرف آثار ہی رہ گئے ہیں جو صرف رامداس، کوہاٹی، گنج اور جی ٹی روڈ کے ساتھ ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔ جبکہ لاہوری، نشترآباد اور لیڈی ریڈنگ اسپتال کے قریب اس تاریخی دیوارکا نام ونشان ہی نہیں،، بچی کھچی دیوار کے آثار کو محفوظ بنانے کےلئے محکمہ آثار قدیمہ متحرک ہوگیا ہے۔فصیل شہر کے چار سو میٹر بچ جانے والے حصے کو بھی تیزی سے پھیلتی آبادی کے باعث خطرات لاحق ہیں۔ماضی میں شہریوں کے تحفظ کے لئے بنائی گئی دیوارآج خود تحفظ کی طلب گار ہے ،حکومت نے اگر توجہ نہ دی تو اس تاریخی ورثے کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔