03:34 pm
پسندکی شادی کرنے والی نومسلم لڑکی کی قسمت کافیصلہ سنادیاگیا

پسندکی شادی کرنے والی نومسلم لڑکی کی قسمت کافیصلہ سنادیاگیا

03:34 pm

لاہور(ویب ڈیسک )ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنیوالی سکھ نومسلم لڑکی عائشہ بی بی کو دارالامان سے آزاد کردیا ، عدالت نے عائشہ بی بی کو مرضی کے مطابق جانے کی اجازت دے دی ،عدالت نے نومسلم لڑکی عائشہ بی بی کو حق مہر 10 لاکھ روپے بھی اداکرنے کا حکم دےدیا ۔لاہور ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنےوالی سکھ لڑکی کو دارالامان سے آزاد کرنے کا حکم د یتے ہوئے پولیس کو عائشہ بی بی فراہم کرنے اور جہاں چاہے جانے کا حکم دےدیا جبکہ نومسلم لڑکی عائشہ بی بی کا حق مہر 10 لاکھ روپے کرنے کا بھی حکم دیاگیا۔ جسٹس شہرام سرور چودھری نے عائشہ اور
حسان کی درخواستوں پر حکم سنایا۔ جسٹس شہرام سرور نے وکیل خلیل طاہر سندھو سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تاریخ پر آپ نے درخواست ملتوی کرنے کی استدعا کی، آپ صرف لڑکی کی عمر ثابت کر دیں کہ وہ نابالغ ہے۔وکیل کا کہناتھا کہ عائشہ کا سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ اس کی عمر کا تعین کرتا ہے،عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ بھی کوئی عمر تعین کرنی کی دستاویز ہوتی ہے؟وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عائشہ بی بی کی عمر کے تعین کیلئے طبی ٹیسٹ ہو چکا ہے،جس پر جسٹس شہرام سرور نےمنموہن سنگھ کے وکیل سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ عمر تعین کے سرٹیفیکیٹ کی کیا اہمیت ہے؟خلیل طاہر سندھو نے عدالت کو بتایا کہ گورنر پنجاب نے فریقین میں صلح کروائی تھی،جسٹس شہرام کا کہناتھا کہ میں کیا کروں گورنر کے فیصلے کو؟ آئینی سربراہ کا فیصلہ مجھ پر لاگو نہیں ہوتا، گورنر کےپاس پنچایت ہو گی، میں آئینی دائرہ اختیار کےتحت کیس کی سماعت کر رہا ہوں، نادرا کے ریکارڈ سے ثابت کریں کہ عائشہ عرف جگیت کور کی عمر 18 برس ہے۔خلیل طاہر سندھو نے عدالت کا کہناتھا کہغیر مسلم ہونے کی وجہ جذبات مجروح ہوں گے،جس پرجسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیے کہ مذہبی جذبات کی وجہ سے ہی دارالامان میں لڑکی کے والدین کی ملاقات کروانے کا حکم دیا تھا، یہ تمام مواقع لڑکی کے والدین کے جذبات کو تسکین دینے کیلئے ہی دیئے تھے، عائشہ بی بی آئینی حق رکھتی ہے، مجھے بتائیں کہ اگر لڑکی کو والدین کے حوالے کیا جاتا ہے تو کیا آپ گارنٹی دیتے ہیں کہ وہ اس کو کچھ نہیں کہیں گے؟ خلیل طاہر سندھو نے عدالتی سوال پر کہا کہ نہیں سر میں گارنٹی نہیں دے سکتا،عدالت کا کہناتھا کہ منموہن سنگھ عدالت لڑکی کے حق کی ذمہ دار ہے،منموہن سنگھ کا عدالت کا کہناتھا کہ ہماری بچی ہے ہم کیوں ماریں گے؟جس پر جسٹس شہرام کا نے کہا آپ کی ساری باتیں ایک ماہ پہلے ہی سن لی تھیں،لڑکی کو دارالامان سے آزاد کیا جاتا ہے،لڑکی دارالامان سے آزادی کے بعد جہاں جانا چاہے جا سکتی ہے،ایس پی سکیورٹی عائشہ بی بی کو اسکی خواہش کے مطابق مکمل سکیورٹی کے ساتھ جہاں چاہے چھوڑ کر آنے کے پابند ہیں،لڑکی عائشہ بی بی کا حق مہر کتنا لکھا ہے؟ جسٹس شہرام سرور چودھری کا حسان کے وکیل سے استفسار، عائشہ بی بی کا حق مہر 50 ہزار روپے لکھا گیا ہے،عدالت نےسلطان شیخ ایڈووکیٹ سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ بی بی کا حق مہر کتنا بڑھائیں گے؟جس پر وکیل نے جواب دیا جیسے عدالت حکم جاری کرے،بعدازاں عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ بی بی کا حق مہر 10 لاکھ روپے مقرر کیا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں