10:14 am
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں اہم فیصلہ ،

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں اہم فیصلہ ،

10:14 am



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں فیصلہ ہوا ہے کہ ملک بھر میں اسکولز ابھی نہیں کھول سکتے،جو اسکولزکھولےگا  انتظامیہ اس کےخلاف ایکشن لے گی،7ستمبر کو این سی او سی کا اجلاس بلایا جائےگا جس میں اسکول کھولنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نےقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں بتایا ہے کہ ہمارے ملک میں اس وقت تین نظام تعلیم موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انگلش میڈیم اسکولز کی تعداد ساٹھ سے سترلاکھ کے درمیان ہے،کم فیس والے اسکولزاور سرکاری اسکولز ہیں۔انھوں نے کہا کہ 70 فیصد بچے ان اسکولز
میں پڑھتے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ تیسرا طبقہ مدارس کا ہے جوکہ زیادہ تر8ویں جماعت سے شروع ہوتےہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مدارس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت 4 سال میں سارے رجسٹر ہوں گے۔2 کروڑ بچے جواسکول سے باہر ہیں اس میں مدارس کے بچے بھی شامل ہیں۔ وفاقی وزیرکاکہنا تھا کہ یہ سارا نظام ناانصافی اور تقسیم پرمبنی ہے،قوم تقسیم ہے،اس لئےایک نصاب ضروری ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ 18ویں ترمیم کے بعد یہ ایک صوبائی سبجیکٹ ہے۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی سے پوچھا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں، پاکستان کی 205 یونیورسٹیزکا اپنا ایک نظام ہے۔ بچوں کو رٹے سے نکال کر پریکٹیکل لرننگ کی طرف لا رہے ہیں اورصوبے اپنی مرضی سےزبان کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ شفقت محمود نےکہا کہ پہلی سے پانچویں کا نصاب بنا لیا گیا ہے،اب ماڈل ٹیکسٹ بک بنائیں گے۔ اجلاس میں کمیٹی ممبر صداقت عباسی نے اعتراض کیا کہ پرائیوٹ اسکولزاپنی مرضی سےفیس کا تعین کرلیتے ہیں، کوئی چیک اینڈبیلنس ہونا چاہیے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارا سلیبس اردو زبان میں ہونا چاہیے اورکیریئر کؤنسلنگ کا مضمون بھی نصاب میں شامل کیا جائے۔

تازہ ترین خبریں