10:22 am
یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ،ہمیں بھی اب سوچنا چاہیے،کامران خان نے کیا کہہ دیا ؟ جانیں

یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ،ہمیں بھی اب سوچنا چاہیے،کامران خان نے کیا کہہ دیا ؟ جانیں

10:22 am



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے اتفاق ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد النہیان کی جانب سے مشترکہ طور پر ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ” تاریخی پیش رفت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مشرق وسطی میں امن کی جانب بڑھا جاسکے گا”۔ متحدہ
عرب امارات کے امریکہ میں سفیر یوسف الاتابیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ خطے کے مفاد میں ہماری سفارتی جیت ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل مقبوضہ ویسٹ بینک میں اپنے متنازعہ منصوبوں کو منسوخ کردے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ” آج ایک تاریخی پیش رفت ہوئی ہے ، ہمارے 2 عظیم دوست ممالک اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا گیا ہے”۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لکھا "تاریخی دن”۔ اس سے قبل اپنے ایک ٹی وی خطاب میں نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ہم ویسٹ بینک منصوبوں کو منسوخ کررہے ہیں، مگر یہ تمام منصوبے ختم نہیں ہورہے یہ ٹیبل پر موجود رہیں گے، ان منصوبوں کے بعد ویسٹ بینک کے کچھ حصے باقاعدہ طور پر اسرائیل کا حصہ بن جائیں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ” امریکہ کے ساتھ مل کر اسرائیلی سلامتی کے میرے منصوبوں میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہے، میں اس کیلئے پرعزم ہوں، میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں وہ واحد شخص ہوں جو ویسٹ بینک کے معاملے کو زیر بحث لایا، اب یہ معاملہ زیر بحث ضرور رہے گا”۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کا کسی گلف عرب ملک کے ساتھ کوئی سفارقی تعلق نہیں تھا، تاہم ایران کے مذہبی اثر کے خلاف ان ممالک کے مشترکہ مفادات نے ان کے درمیان غیر رسمی روابط کی راہ ہموار کردی جس کے بعد آج اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یہ معاہدہ طے پاگیا ہے۔ معاہدے پر تجزیہ دیتے ہوئے سینئر صحافی کامران خان کا کہنا تھا کہ "متحدہ عرب امارات کی جانب سے پہلے کے دشمن اسرائیل کو بحیثیت ایک ملک تسلیم کرکے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا ایک بہت تاریخی پیش رفت ہے، یہ پاکستان کیلئے ایک بہت بڑا سبق ہے کیونکہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسیوں کی سمت کو عرب ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کرتا ہے، سوچنے کا وقت ہے”۔

تازہ ترین خبریں