11:45 am
’’ مجید اچکزئی کی بریت کا فیصلہ ‘‘بلوچستان پولیس نے حرکت  میں آنے کا فیصلہ کر لیا ، کیا اقدام اٹھانے جا رہی ہے ؟ جانیں 

’’ مجید اچکزئی کی بریت کا فیصلہ ‘‘بلوچستان پولیس نے حرکت میں آنے کا فیصلہ کر لیا ، کیا اقدام اٹھانے جا رہی ہے ؟ جانیں 

11:45 am

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک ) بلوچستان پولیس نے ٹریفک وارڈن قتل کیس میں مجید اچکزئی کی بریت چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے رہنماء و سابق رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی کو ٹریفک سارجنٹ قتل کیس میں عدم ثبوتوں کی بناء پر بری کردیا گیا تھا تاہم اب بلوچستان پولیس نے ٹریفک وراڈن قتل کیس میں سابق ایم پی اے مجید خان اچکزئی کی بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ایڈیشنل آئی جی بلوچستان عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ کیس میں اپیل کی درخواست کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔تفصیلی
فیصلے اور دستاویزات کا جائزہ لے کر درخواست کو حتمی شکل دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسپیشل کورٹ کے فیصلے کے خلاف جلد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔خیال رہے کہ جمعہ کو ماڈل کورٹ میں ٹریفک سارجنٹ قتل کیس کی سماعت جج دوست محمد مندوخیل نے کی سماعت کے دوران ملزم سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالمجید اچکزئی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ کامران مرتضی ایڈوکیٹ، خلیل الرحمن، نور جان بلیدی اور جعفر اعوان عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجید خان اچکزئی کو ٹریفک سارجنٹ قتل کیس سے عدم ثبوت پر باعزت بری کر دیا تھا۔سارجنٹ عطاللہ جون 2017میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہوا تھا۔ابتدائی طور پر ٹریفک پولیس انسپکٹر کی ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا تھا تاہم جب سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تو مجید خان اچکزئی کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن وہ ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔کچھ عرصہ قبل یہ مقدمہ ماڈل کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا ۔میجد خان کے اچکزئی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اگرچہ گاڑی مجید خان اچکزئی کی تھی لیکن جب حادثہ ہوا تو وہ گاڑی نہیں چلا رہے تھے۔استغاثہ یہ بات ثابت نہیں کر سکی کہ گاڑی مجید اچکزئی چلا رہے تھے جس وجہ سے انہیں بری کر دیا گیا۔گذشتہ روز آنے والے فیصلے کے بعد واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔صارفین نے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایک صارف کا کہنا ہے کہ مجید خان اچکزئی کو ٹریفک سرجنٹ قتل کیس میں عدم ثبوتوں کی بنا پر رہا کرنا پاکستانی عدلیہ کی تاریخ پر سیاہ دھبہ ثابت ہو گا اور اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہئیے۔