07:14 am
کرائے کے ترجمان اورلوٹے اپناسامان باندھ لیںکیونکہ۔۔۔۔ن لیگی ترجمان نے بڑابول بول دیا

کرائے کے ترجمان اورلوٹے اپناسامان باندھ لیںکیونکہ۔۔۔۔ن لیگی ترجمان نے بڑابول بول دیا

07:14 am

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کرائے کے ترجمان اور لوٹے اپنا سامان باندھ لیں۔مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے اور اب کرائے کے ترجمان اور لوٹے بھی اپنا سامان باندھ لیں۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت شیر کے ٹوئٹر پر گرجنے سے تھر تھر کانپ رہی ہے اور اے پی سی شروع ہونے سے پہلے ہی بنی گالہ کے محل میں صف ماتم بچھ چکی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ قوم کا جذبہ بتا رہا ہے
پاکستان کا وزیر اعظم کون ہے جبکہ سلیکٹڈ حکومت پر ہفتہ اور اتوار کی شب قیامت کی رات تھی۔ سلیکٹڈ، کرپٹ اور نااہل حکومت کے خلاف پورا پاکستان متحد ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی اے پی سی آج اسلام آباد میں ہوگی اورنجی خبررساں ادارےنے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت گرانے کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا مطالبہ کرے گی، پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز پیش کی جائے گی، پیپلز پارٹی تمام تجاویز اے پی سی کے سامنے رکھے گی، اگر جماعتوں نے حمایت کی تو باضابط تحریک جمع کرائی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ اے پی سی میں رہبر کمیٹی کی طرز پر کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے خطابات بھی اہم ہوں گے، مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی خان، آفتاب شیرپاوٴ بھی خطاب کریں گے۔کانفرنس میں حکومت کی 2 سالہ کارکردگی پر غور ہوگا ساتھ ہی حکومتی ناکامیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر تمام جماعتیں حکومت گرانے اور ملک گیر منظم تحریک چلانے کا مطالبہ کریں گی۔اے پی سی میں گلگت بلتستان الیکشن، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور حکومت کی کشمیر پالیسی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ مذہبی جماعتیں بھی حالیہ صورتحال پر اپنا موقف سیاسی قیادت کے سامنے رکھیں گی۔اجلاس میں ایف اے ٹی ایف مسائل، حکومت کی متنازع قانون سازی اور خطے کی بدلتی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔ جے یو آئی کا چار رکنی وفد مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ جے یوآئی کے وفد میں مولانا فضل الرحمان،اکرم درانی اور عبدالغفور حیدری شامل ہوں گے۔تمام 11 جماعتوں سے کم از کم تین تین ارکان کا وفد اے پی سی میں شریک ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کا 13 رکنی وفد اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ مسلم لیگ نے وفد اور ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی۔مسلم لیگ ن کے وفد کی قیادت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کریں گے جب کہ وفد میں شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور مریم نواز، احسن اقبال، ایاز صادق، پرویز رشید، سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، امیر مقام اور مریم اورنگزیب شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے وفد میں مزید 2 صوبائی صدور کا اضافہ کیا گیا ہے اوراب مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ اور بلوچستان کے صدر عبدالقادر بلوچ وفد میں شامل ہیں۔پیپلز پارٹی کے وفد میں بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، نیر بخاری، راجہ پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر، قمر زمان کائرہ سمیت سینئر ارکان شریک ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق اے پی سی کے لیے بلاول بھٹو نے سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے۔ وہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ بلاول بھٹو اور فضل الرحمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں اے پی سی سمیت اہم اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو ٹیلی فون کیا اور اے پی سی میں بی این پی کا وفد بھیجنے کے فیصلے پر اظہار تشکر کیا۔اسی ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو ٹیلی فون کیا اور انہیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی جس پر آفتاب شیر پاؤ نے انہیں کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی۔پیپلز پارٹی کے وفد نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات مریم اورنگزیب کی پارلیمنٹ لاجز کی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں ہونے والی اے پی سی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب شریک تھے جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے نوید قمر، شیری رحمان، نئیر بخاری اور فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔پیپلز پارٹی نے اے پی سی کے لیے اپنی تجاویز تیار کرلیں۔

تازہ ترین خبریں