06:04 am
پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحد کپتان کیخلاف متحد ،وزیر اعظم  عمران خان سے استعفے کا مطالبہ ، کیا ہونے والا ہے ؟ جانیں 

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحد کپتان کیخلاف متحد ،وزیر اعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ ، کیا ہونے والا ہے ؟ جانیں 

06:04 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے حکومت مخالف نیا اتحاد بنا لیا. جنوری 2021ء میں حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت مخالف الائنس کے نام پر مشاورت کے بعد اسے ‘’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’’ کا نام دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی طرز پر میثاق کی تیاری کے لیے کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔ نئے میثاق کا نام ‘’چارٹر آف پاکستان’’ ہوگا۔ اس کے علاوہ آل پارٹیز (اے پی سی) کانفرنس میں حکومت کے
خلاف لانگ مارچ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکومت مخالف یہ لانگ مارچ جنوری 2021ء کو ہوگا۔ اپوزیشن کے لانگ مارچ سے قبل ملک بھر میں ریلیاں اور جلسے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اے پی سی نے وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں 26 نکاتی قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے قومی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1947ء سے اب تک تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ٹروتھ کمیشن اور چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اپوزیشن کی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کی سمت کا تعین کرے گی جبکہ قومی اتحاد حکومت کے خلاف منظم احتجاجی تحریک چلائے گا۔ اے پی سی کی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں شفاف آزادانہ انتخابات کرائے جائیں۔ جھوٹے مقدمات میں گرفتار ارکان کو رہا کیا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے دہشتگردی واقعات میں اضافہ ہوا۔ ناتجربہ کار حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو خطرے میں ڈال دیا۔ اپوزیشن کی متفقہ قرارداد میں گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان بار کونسل کی اے پی سی قرارداد کی بھی توثیق کی گئی۔ قراردار میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کے شہریوں کو لاپتا بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اے پی سی اجلاس میں پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے، ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے مذموم ارادے اور اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی مذمت کی گئی۔ قرارداد کے متن میں الزام عائد کیا گیا کہ ‘’سلیکٹڈ’’ حکومت سقوط کشمیر کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ آغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد یقینی بنانے اور بلوچستان میں ایف سی کی جگہ سول اتھارٹی بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد میڈیا کو اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ‘’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’’ کے نام سے نیا اتحادی ڈھانچہ تشکیل دیدیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‘’سلیکٹڈ’’ حکومت کو دھاندلی سے مسلط کیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ الیکشن میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تباہ حال معیشت ملک کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آٹا، چینی، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کم کیا جائے۔ جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ پر حملوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ صدارتی نظام کے مذموم ارادے کو مسترد کرتے ہیں۔ سلیکٹڈ حکومت نے پارلیمان کو بے توقیر کرکے مفلوج کر دیا ہے۔ پارلیمان کی بالادستی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی سی اجلاس میں ‘’سلیکٹڈ’’ حکومت کو سقوط کشمیر کی ذمہ دار قرار جبکہ افغان پالیسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو رول بیک کرکے اس کا وجود ہی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ حالیہ فرقہ وارانہ تناؤ میں حکومت کی مجرمانہ غفلت کی مذمت کرتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ تمام گرفتار صحافیوں کو رہا اور مقدمات خارج کیے جائیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں غیر جانبدار ججز کو بے بنیاد مقدمات میں جکڑنے پر شدید تشویش کا اظہار اور مذمت کی گئی۔