03:02 pm
  انتخابات میں فوج کی مدد نہیں لی جائے گی،گلگت بلتستان کی نگران حکومت کا اعلان

انتخابات میں فوج کی مدد نہیں لی جائے گی،گلگت بلتستان کی نگران حکومت کا اعلان

03:02 pm

گلگت بلتستان(ویب ڈیسک) گلگت بلتستان  کے نگراں وزیر اعلیٰ میر افضل نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں فوج کی مدد نہیں لی جائے گی،الیکشن میں صرف پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کی مدد لی جائے گی اور ثابت کریں گے کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز الیکشن کرانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ جمعہ کوگلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر افضل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان انتخابات بغیر فوج کے کرا کے ملک میں ایک مثال قائم کریں گے، نگران حکومت غیر جانبدار ہے۔ حساس حلقے میں فوج کی تعیناتی حالات کے 
مطابق عمل میں لائی جاسکتی ہے۔الیکشن کمیشن نے اسمبلی الیکشن تک وزیر اعظم سمیت تمام حکومتی عہدیداروں کے دورے پر پابندی عائد کر دی۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز نے کہا کہ قانونی طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی حکومتی عہدیدار گلگت بلتستان نہیں آ سکتا اور نہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے۔راجا شہباز کا کہنا تھا کہ نواز لیگ اپنے امیدواروں پر کنٹرول کھو کر الیکشن کمیشن پر پولیٹیکل انجینئرنگ کے الزامات عائد کررہی ہے۔انہوں نے انتخابات کو ہر قیمت پر شفاف اور منصفانہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں گلگت بلتستان اسکائوٹس، پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مدد حاصل کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کو حالات کے مطابق انتہائی حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کے خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے انتخابات کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب گلگت بلتستان میں 15نومبر کو شیڈول عام انتخابات کیلئے 24حلقوں میں تقریبا 554امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔جی بی الیکشن کمیشن کے مطابق ضلع گلگت کی تین نشستوں کیلئے 86امیدوار، نگر کی دو نشستوں کے لیے 63، ہنزہ کی ایک نشست کے لیے 31، اسکردو کی چار نشستوں کے لیے 67، خرمنگ کی ایک نشست کے لیے 11، شگر کی ایک نشست کے لیے 5، استور کی دو نشستوں کے لیے 66، دیامر کی 4نشستوں کے لیے 67، غزر کی 3نشستوں کے لیے 84 اور گھانچے کی تین نشستوں کے لیے 47 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

تازہ ترین خبریں