05:41 pm
زینب الرٹ ایپ کا افتتاح کر دیا گیا

زینب الرٹ ایپ کا افتتاح کر دیا گیا

05:41 pm

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)زینب کے والد نے گمشدہ اور زیادتی کا شکار بچوں کے لیے زینب الرٹ ایپ کا افتتاح کر دیا۔اس موقع پر  وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ زینب الرٹ خودکار نظام ہو گا جس کے ذریعے ریاست اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے حرکت میں آنے پر مجبور ہوں گے۔کسی بچے کے ساتھ
زیادتی ہو، یا کسی کا بچہ گم ہو جائے، اب شکایت درج کرائی جا سکتی ہے صرف ایک ایپ پر جس کا نام ہے زینب الرٹ ایپ۔یہ ایپ پاکستان سٹیزن پورٹل پربھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ زینب الرٹ ویب سائٹ بھی موجود ہے۔بچے کے ساتھ زیادتی یا گمشدگی کی شکایت پر پولیس کو فوری ایکشن لینا ہوگا کیوں کہ اس معاملے کی نگرانی وزیر اعظم پاکستان کررہے ہوں گےیپ کا افتتاح زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی ننھی زینب کے والد امین انصاری نے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر بھی موجود تھے۔شیریں مزاری نے کہا زینب الرٹ خودکار نظام ہو گا، یہ پورے پاکستان میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (ڈی پی اوز) کے ساتھ منسلک ہے، زینب الرٹ پنجاب میں 36، کے پی میں 33، سندھ میں 50 ڈی پی اوز کے ساتھ لنکڈ ہے۔زینب کے والد امین انصاری نے کہا حکومت ایسے قوانین بنائے جس سے ملک کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔زینب الرٹ ایپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا دنیا میں زیادتی سے زیادہ گھناؤنا کوئی جرم نہیں ہو سکتا، پاکستان میں ان بڑھتے کیسز پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔