02:44 pm
اکثر لوگوں کو پتہ نہیں چلتا مگر میری آنکھیں گیلی ہوتی ہیں۔۔۔ ٹریفک حادثات میں اپنے بچوں کو کھو دینے والے پاکستانی سیاستدان

اکثر لوگوں کو پتہ نہیں چلتا مگر میری آنکھیں گیلی ہوتی ہیں۔۔۔ ٹریفک حادثات میں اپنے بچوں کو کھو دینے والے پاکستانی سیاستدان

02:44 pm

اولاد ماں باپ کی کمزوری ہوتی ہے جس کا دکھ، جس کی موت والدین کو اندر سے کھوکھلا اور خالی کردیتے ہیں۔۔۔پاکستانی سیاست میں بھی ایسے کئی نام ہیں جو ملک و قوم کی فلاح اور بہبود کے لئے روز کسی نا کسی مقام پر پر آواز اٹھاتے ہیں۔۔۔لیکن ان کے اندر آج بھی اپنی اولاد کے جانے کا دکھ شور بن کر چیختا ہے جو انہیں بے چین رکھتا ہے- شہلا رضا سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ شہلا رضا نے آج سے پندرہ سال پہلے زندگی کا سب سے تکلیف دہ دن دیکھا۔۔۔جب ان کے دونوں بچے ٹریفک حادثے میں ان سے بچھڑ گئے۔۔۔بڑی بیٹی عکس بتول جن کی عمر انتقال کے
وقت تیرہ سال تھی اور بیٹے شایان کی عمر گیارہ برس تھی۔ایک انٹرویو میں شہلا رضا کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی عکس بتول کا قد محض تیرہ سال کی عمر میں بھی پانچ فٹ چار انچ تھا اور ہم اسے گڑیا پکارتے تھے۔۔۔اور اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔۔۔ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے بعد زندگی میں کمی نہیں بلکہ سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔۔۔خود کو مصروف رکھتی ہوں تاکہ جب رات میں گھر لوٹوں تو صرف بستر میں ہی جاؤں۔۔۔کسی کو پتہ نہیں چلتا لیکن اکثر میری آنکھیں بچوں کی یاد میں گیلی ہوجاتی ہیں۔۔۔وادی حسین قبرستان ان سے ملنے جاتی ہیں اور اپنی ممتا کو تسکین پہنچاتی ہیں۔۔۔ قمر زمان کائرہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا جواں سال بیٹا اسامہ کائرہ کا پچھلے سال کار حادثے میں اپنے دوست کے ساتھ انتقال کر گیا۔۔۔جس وقت یہ خبر ایک باپ تک پہنچائی گئی ، قمر زمان کائرہ اس وقت پریس کانفرنس ہی کر رہے تھے۔۔۔ان کے چہرے کو دیکھ کر ہر صاحب اولاد ان کے درد کو محسوس کر سکتا تھا۔۔۔اسامہ گورنمنٹ کالج لاہور کے طالبعلم تھے اور قمر زمان کائرہ کے بہت ہی لاڈلے تھے۔۔۔تدفین کے بعد انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا کہ جوان اولاد کا جنازہ اٹھانا کتنا مشکل ہے کل اس کا احساس ہوا۔۔۔اﷲ ہمیں صبر دے اور اس کی منزلیں آسان کرے۔۔۔ روبینہ قائم خانی ایم پی اے روبینہ قائم خانی نے دو سال قبل اپنے جواں سال بیٹے حمزہ قائم خانی کو محض سولہ سالہ کی عمر میں کھو دیا۔۔۔حمزہ کی موت ایک ٹریفک حادثے کا نتیجہ تھی۔۔۔روبینہ قائم خانی کی پہلی شادی سے یہ ایک ہی اولاد تھی حمزہ اور دوسری شادی سے ان کی دو بیٹیاں ہیں۔۔۔حمزہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور جس دن تدفین تھی ، اس دن بھی روبینہ قائم خانی اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے ووٹ ڈالنے پہنچیں اور بعد میں حیدرآباد میں حمزہ کی تدفین ہوئی۔۔۔اس حادثے نے روبینہ قائم خانی کے دل پر کیا اثر ڈالا ہوگا یہ صرف ایک ماں ہی سمجھ سکتی ہے۔۔۔کیونکہ اکلوتا اور جواں سال بیٹا جو کہ پہلوٹی کی اولاد ہو ماں کے دل کے سب سے قریب ہوتا ہے۔۔۔اﷲ انہیں اور ان جیسے والدین کو صبر دے-