11:53 am
اسد عمر اور محمد زبیر آمنے سامنے ، گزشتہ تقریر میں کپتان کا نیا روپ ،لڑائی کی بات اب اداروں سے بھی آگے جا پہنچی ، کیا ہونے والا ہے

اسد عمر اور محمد زبیر آمنے سامنے ، گزشتہ تقریر میں کپتان کا نیا روپ ،لڑائی کی بات اب اداروں سے بھی آگے جا پہنچی ، کیا ہونے والا ہے

11:53 am


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ یہ تقریر ایک وزیراعظم کی نہیں بلکہ اپوزیشن لیڈر کی لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور نوازشریف کی تقاریر میں غصہ نظر آیا، ان تقریروں کے بہت اہم نتائج نکلیں گے، یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے اس پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں آیا، سب خاموش رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نون لیگی رہنما آہستہ آہستہ بولنا شروع کریں اور اگر مگر کی زبان میں بات کرنے کی کوشش کریں گے، نوازشریف نے ان فورسز کو چیلنج کیا ہے جن کے ساتھ ماضی میں انہوں نے ڈیلز کی ہیں۔ رؤف کلاسرا نے اسد عمر کے
تازہ ٹویٹ کی جانب بھی اشارہ کیا جس میں انہوں نے نوازشریف کی جانب سے فوجی قیادت کو ہرکارہ بھیجنے کی بات کی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ گزشتہ دنوں ان کے اپنے بھائی محمد زبیر نے یہ ملاقاتیں کی تھیں تو کیا ان کا اشارہ اسی جانب تھا یا کسی اور شخص پر طنز کیا ہے؟ لفظ ہرکارہ تو ایک تضحیک آمیز لفظ ہے۔ سینئر صحافی کے مطابق اب اس لڑائی میں اسد عمر بھی شامل ہو گئے ہیں، اب یہ لڑائی گھر گھر پھیلے گی اور معاشرے میں سیاسی پولرازئیشن بڑھے گی۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف کا جس طرح دفاع کیا، وہ انہوں نے بطور وزیراعظم کرنا تھا، جب اسامہ بن لادن کے خلاف امریکیوں کا آپریشن ہوا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی جنرل کیانی کا دفاع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یہ سوچ کر خاموش نہیں رہ سکتے کہ یہ اپوزیشن اور اسٹیبلشممنٹ کی لڑائی ہے، انہیں ہر صورت فوجی قیادت کا دفاع کرنا تھا جو انہوں نے ڈٹ کر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب نون لیگ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازت میں توسیع کے لیے ووٹ دیا تھا تو ان کے تعلقات کافی بہتر محسوس ہو رہے تھے لیکن اب نوازشریف کی تقریر کے بعد ان میں تناؤ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور بظاہر واپسی کے رستے بند ہو چکے ہیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ میاں شہباز شریف نے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ میری تو بات طے ہو گئی تھی اور میری کابینہ بھی فائنل ہو گئی تھی، اسی طرح نواز شریف کو بھی باہر بھیج دیا گیا اور نون لیگ کے مختلف لوگوں کو ریلیف بھی ملنا شروع ہو گیا تھا۔ رؤف کلاسرا کے مطابق اس وقت خواجہ آصف نے بھی کہا تھا کہ اب انتخابات ہماری شرائط پر ہوں گے اور ہمیں وہ کچھ پتا ہے جس کا حکومت کو بھی علم نہیں، ان باتوں سے بھی شکوک میں اضافہ ہو گیا اور یہ تاثر ابھرنا شروع ہو گیا تھا کہ شاید سول ملٹری تعلقات اتنے ہم آہنگ نہیں رہے جس طرح پہلے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بھی شکوک و شبہات ابھرنا شروع ہو گئے تھے لیکن اب وہ خوش ہوں گے کیونکہ ن لیگ اور فوجی قیادت میں اتنی بڑی خلیج حائل ہو گئی ہے جسے شاید آسانی سے پر نہیں کیا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اب اس خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے، اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کے پاس عمران خان کی مکمل حمایت کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ رؤف کلاسرا نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں اپنے جلسوں میں نوازشریف کو مزید تقاریر کرنے کی اجازت دی جائے گی؟ کیا 18 تاریخ کو کراچی میں ہونے والے جلسے میں انہیں خطاب کی دعوت دی جائے گی؟ انہوں نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ اگر نوازشریف کو خطاب کی دعوت دی جاتی ہے تو کیا وہ پرانی باتیں دہرائیں گے یا اپنی پٹاری سے نیا تماشا نکالیں گے؟رؤف کلاسرا کے مطابق نوازشریف نے کہا تھا کہ ان کے پاس بہت سے راز ہیں، کیا وہ اپنی تقاریر میں مزید راز بھی سامنے لا سکتے ہیں؟ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے غصے کی دو وجوہات تھیں جن میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ گزشتہ روز انہیں اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں خطاب نہیں کرنے دیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری وجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ان کی اہلیہ کے متعلق الفاظ تھے جس سے عمران خان بہت خفا ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایف آئی اے سابق ڈائرکٹر بشیر میمن کا بھی ذکر کیا اور چند اہم خبریں دیں کہ عمران خان نے ان سے کیا کہا تھا۔رؤف کلاسرا کا تجزیہ ہے کہ نوازشریف کو پاکستان واپس نہیں لایا جا سکتا اور اس کی کئی وجوہات ہیں، برطانوی حکومت انہیں واپس نہیں کرے گی۔