05:22 pm
مریم نواز نے خود کی گرفتاری کا چیلنج دیدیا ، کیا اعلان کردیا ؟ بڑی خبر

مریم نواز نے خود کی گرفتاری کا چیلنج دیدیا ، کیا اعلان کردیا ؟ بڑی خبر

05:22 pm


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ اگر ہمت ہے تو قریبی لوگوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی کوشش کے بجائے مجھے گرفتار کریں۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے گرفتاری کی تفصیل بتائی۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ صبح تقریباً سوا 6 بجے کسی نے ہمارے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانا شروع کیا، جب صفدر نے دروازہ کھولا تو باہر پولیس کھڑی تھی اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔ان کے مطابق صفدر نے کہا کہ میں کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں، وہ ابھی کپڑے تبدیل کررہے تھے کہ کچھ لوگ زبردستی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور انہیں گرفتار کرکے لے گئے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو
نے فون کر کے کہا کہ وہ شرمندہ ہیں، مراد علی شاہ نے بھی فون کر کے یہی کہا، مجھے ایک لمحے کے لیے بھی ایسا نہیں لگا کہ یہ سندھ حکومت کی کارروائی ہے۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اگر اس گرفتاری کا مقصد پی ڈی ایم میں دراڑ پیدا کرنا تو انہیں جاننا چاہیے کہ آپ ناسمجھ اور بیوقوف ہو سکتے ہیں لیکن ہم بچے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جو نامعلوم افراد ہیں، وہ سب کو معلوم ہیں، اگر خلائی مخلوق سے آپ زمینی مخلوق بن گئے ہیں تو لوگ آپ کے چہرے خوب پہچانتے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ صفدر کے خلاف مدعی وقاص احمد خان خود دہشت گردی کے مقدمے میں مفرور ہے، انہوں نے سوال پوچھا کہ دہشت گردی اور غداری کے مقدمات درج کرنے والے مدعی سارے ایک جیسے کیوں ہوتے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ کیپٹن صفدر کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اور یہ انتہائی اعلیٰ سطح سے آ رہی تھیں۔ جب آپ طاقت کے نشے میں اندھے ہوتے ہیں تو دماغ سے نہیں سوچتے ہیں اور پھر غلط فیصلے کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ایکسپوز کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قوم کے سامنے یہ بات رکھ رہے ہیں کہ جب نواز شریف کہتا ہے کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں، ریاست کے اوپر ریاست، حکومت کے اوپر حکومت تو وہ بالکل سچ کہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ سے موبائل فون بھی لے لیے گئے اور انہیں سیکٹر کمانڈر کے دفتر لے جایا گیا اور ان سے گرفتاری کے احکامات پر دستخط کرنے کو کہا گیا، آئی جی نے انکار کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ دستخط کریں، گرفتاری ہم رینجرز سے کروا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب زبردستی دستخط لیے گئے تو انہیں کہا گیا کہ اب گرفتاری بھی پولیس کرے گی لیکن پولیس کے پیچھے یہ سب تھے جن کو لوگوں نے خود دیکھا ہے۔