03:22 pm
قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں، جوڈیشل کمیشن میں مقدمہ نہیں چل سکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں، جوڈیشل کمیشن میں مقدمہ نہیں چل سکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

03:22 pm


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرینس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرکاری عہدہ نہیں رکھتی ہیں اس لیے ان کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کیخلاف جوڈیشل کمیشن میں مقدمہ نہیں
چلایا جا سکتا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کسی عوامی عہدے پر تعینات نہیں ہیں اس لیے ان کے خلاف کیس جوڈیشل کمیشن میں نہیں چل سکتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سرینا عیسیٰ کیخلاف ریفرینس میں غلطیوں کی بھرمار تھی ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، 224 صفحات پر مشتمل فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس عطاء بندیال نے جاری کیا،فیصلے کا آغاز قرآن پاک کی سورة النساء سے کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی،صدر آئین کے مطابق صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا مختصر فیصلہ19جون کو سنایا تھا۔عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اپیل پر سماعت کا فیصلہ سنایا تھا۔ فیصلے میں لندن جائیدادوں کی انکوائری کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تفصیلی میں فیصلے میں کہا کہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے صدارتی ریفرنس غیرآئینی قرار دے دیا۔صدر آئین کے مطابق صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ صدارتی ریفرنس دائر کرنے میں حکومتی بدنیتی ثابت نہ ہوسکی۔کوئی ایسی شق نہیں کہ ججز کے خلاف ریفرنس کو خفیہ رکھنا چاہیے۔ایسٹ ریکوری یونٹ قانونی اتھارٹی کے بغیر تشکیل دیا گیا۔فیصلے میں کہا کہ آزاد ،غیرجانبدار عدلیہ کسی بھی مہذب معاشرے کی اقدار میں شامل ہے۔