02:59 pm
تین بڑوں کااستعفیٰ اورنئے وزیراعظم کاانتخاب،کب کیاتبدیلی آنے والی ہے ،صابرشاکرنے پاکستانیوں کوبڑی خبردیدی

تین بڑوں کااستعفیٰ اورنئے وزیراعظم کاانتخاب،کب کیاتبدیلی آنے والی ہے ،صابرشاکرنے پاکستانیوں کوبڑی خبردیدی

02:59 pm


لاہور (ویب ڈیسک) موجودہ پارلیمانی جمہوری سیٹ اپ کو جعلی‘الیکشن دھاندلی زدہ اور سارے کے سارے نظام کو سلیکٹرز کی پیداوار کہا جارہا ہے‘ لیکن اگر ان کی بات مان لی جاتی یا مان لی جائے اوران ہاؤس تبدیلی کی صورت میں نیا وزیراعظم آجائے تو یہ سارے الزامات واپس اور جعلی الیکشن درست قراردیے جاسکتے ہیں، ”سلیکٹرز‘‘ سے صلح ہوسکتی ہے اور سول سپریمیسی بھی بحال ہوجائے گی‘ گویا معاملہ صرف ایوانِ اقتدار
میں پہنچنا اور ان خاندانوں کا حقِ حکمرانی تسلیم کرنے کاہے نہ کہ سول سپریمیسی اور عوام کے حقِ حکمرانی کا۔اب حکمت عملی کیا ہے؟ منصوبہ بندی کیا کی گئی ہے؟ مخبروں کی اطلاع کے مطابق بھرپور مہم چلائی جائے گی‘ عوامی حمایت میسر آجانے کی صورت میں ہدف کے حصول میں زیادہ مشکل نہیں ہوگی‘ بقول رازدانوں کے نواز شریف کو سوشل میڈیا مہم کے ذریعے” سیاسی امام‘‘ اور کارکنوں کے لیے ”سول سپریمسی کا روحانی پیشوا‘‘ بنا کر پیش کیا جائے‘ جس کا اظہار بھی کیا گیا کہ جب تحریک زور شور سے چل پڑے اور اس تحریک میں اگلے مرحلے میں تاجروں‘ ٹریڈ یونینز‘ پریشر گروپس اور صحافیوں کو بھی شامل کیاجائے اور ایسا ماحول بنا دیا جائے کہ ٹاپ تھری استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر آیت اللہ خمینی یا کم از کم محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح لاہور کے ایئرپورٹ پر اترا جائے اور یہ عوامی سمندر سب کو بہا کرلے جائے‘ پھر سب کا آرٹیکل چھ کے تحت ٹرائل کیا جائے ‘کارگل سے لے کر سات ستمبر کی آخری ملاقاتوں میں کئے جانے والے انکار تک کا حساب لیا جائے۔یہ اہداف ہیں نئے بیانیے کے بعد اور ان اہداف کے حصول میں فنڈز کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا‘ بیرونی حمایت اور دباؤ بھی بڑھتا رہے گا‘ اس کے تمام ثبوت بلیک اینڈ وائٹ موجود ہیں۔ اہم ملکوں کے سفارتکار اندرون و بیرون ملک کن کن سے ملاقاتیں کررہے ہیں‘ پیغامات کا تبادلہ ہورہاہے‘ حکمت عملی کے تحت سب ایک منظم انداز میں ایک دوسرے کو سپورٹ کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں سپاٹ فکسر کہاں کہاں پائے جاتے ہیں‘ یہ پتا لگانا حکومت اور اداروں کا کام ہے کیونکہ اجیت دوول اور انڈین تجزیہ کار اور سیاسی اور فوجی حکام کے بیانات ان تمام اطلاعات کو تقویت دے رہے ہیں کہ ایجنڈے ‘ بیانیے اور اہداف میں مماثلت محض اتفاق نہیں ہے بلکہ کچھ تو ہے جو اتنی جارحیت دکھائی جارہی ہے۔ حکومت اور ادارے تاحال خاموش ہیں‘ ان حالات میں خاموشی کی نہیں بلکہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘ پاکستان کے عوام فرنٹ فُٹ پر کھیلنے کو پسند کرتے ہیں۔اُدھرفرانس کا صدر انتہا پسندی کی طرف گامزن ہے‘ کیا باقی مسلم ممالک بھی پاکستان‘ ترکی اور کویت کی طرح جرأت کا مظاہرہ کریں گے یا پھر اپنے معاشی مفادات ہی کے اسیر رہیں گے؟(تحریر: صابر شاکر)

تازہ ترین خبریں