10:26 am
سچی محبت کی تلاش ، لاہور کی نوجوان خاتون ٹیچر اپنے 13سالہ طالبعلم کو گھر سے بھگا کر لے گئی؟ جانیں 

سچی محبت کی تلاش ، لاہور کی نوجوان خاتون ٹیچر اپنے 13سالہ طالبعلم کو گھر سے بھگا کر لے گئی؟ جانیں 

10:26 am


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )لاہور میں خاتون ٹیچر اپنے چھٹی جماعت کے 13سالہ طالب علم کو لاہور سے بھگا کر جڑانوالہ لے گئی ، پھر کیا ہوا ؟ تفصیلات جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے ۔ سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میںلاہور کی ایک خاتون ٹیچر او ر اسکے 13سالہ طالب علم کی کی کہانی خوب وائرل ہو رہی ہے ۔ 
کہانی کچھ یوں ہے کہ لاہور کے 2خاندانوںنے پولیس کو درخواست دی کہ چھٹی جماعت کا13 سالہ طالب علم اور اسکی ٹیوشن ٹیچر غائب ہیں ۔ خاتون ٹیچر کا نام طاہرہ جبکہ طالبعلم کا نام مزمل ہے ۔ مقدمہ درج ہوتے ہی پولیس حرکت میں آگئی اور 15دنوں بعد دونوں کو بازیاب کروالیاگیا ۔ دونوں سے جب تحقیقات کی گئیں تو پتہ چلا کہ خاتون ٹیچر طاہرہ کو گھر میں طعنے دیے جاتے تھے، اسے لفظی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا جس کی وجہ سے تنگ آکر وہ اپنے13سالہ طالبعلم مزمل کو اپنے ساتھ ایک سہارے کے طور پر بھگا کر جڑانوالہ فرار ہو گئی ۔ طاہرہ کا کہنا تھا کہ میں اکیلی کہیں نہیں جا سکتی تھی اس لیے میں نے مزمل کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ کہیں بھی بھاگ کر نئی زندگی شروع کروں گی اور مزمل کو اپنے ساتھ رکھوں گی ۔ جڑانوالہ میں طاہرہ نے مزمل کے ساتھ ایک کرائے کا گھر لے کر ایک نجی سکول میں ملازمت شروع کر دی اور مزمل کو بھی وہاں چھٹی جماعت میں داخلہ دلوا دیا ۔ یہ دونوں 15روز تک یونہی زندگی گزارتے رہے ۔ دوسری جانب پولیس بھی دونوں کو ٹریس کر رہی تھی اور بالآخر آج پولیس کو دونوں کا سراغ ملا جس کے بعد ان دونوں کو جڑانوالہ سے واپس لاہور لایا گیا جس کے بعد دونوں ابھی تک پولیس کی تحویل میں ہیں ۔طالبعلم مزمل تفتیش کے دوران ٹیچر کو آپی کہتا رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ کیونکہ آپی میری ٹیچر ہیں تو ان کا حکم ماننا میرا فرض تھا اسی لیے میں آپی کے ساتھ جڑانوالہ چلا گیا ور ہم وہاں اپنی زندگی گزارنے لگے ۔ مزمل نے بتایا کہ میں نے ایک دو بار آپی کو کہا بھی اب ہم ہم واپس چلتے ہیں لیکن انہوں نے میری بات کا جواب نہیں دیا ۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کے گھر والوں نے ایک دوسرت کیخلاف پرچہ کروایا ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں تاہم ابھی مکمل تفتیش ہونا باقی ہے جس کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا ۔