01:46 pm
مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ڈنڈے برسا دو

مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ڈنڈے برسا دو

01:46 pm

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)مولانا فضل الرحما ن نے ملتان جلسے سے قبل اپنے کارکنوں کو ہدایات دے رکھی ہیں کہ ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے دیں۔رکاوٹیں توڑ ڈالیں اور جلسہ گاہ میں پہنچیں ۔اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے ۔ سیاسی کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصاد م کے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ کارکن جلسہ گاہ تک پہنچنے کےلئے رکاوٹیں توڑنے کی کوششیں کرسکتے ہیں اور پولیس آنسو گیس شیلنگ، لاٹھی چارج کرسکتی ہے۔ عام طور پر ایسے واقعات میں بیسیوں لوگ زخمی ہو جاتے ہیں۔
درجنوں گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ پولیس اہلکاروں پر تشدد کے بھی واقعات سامنے آتے ہیں۔اور جب حالات قابو سے باہر ہوجائیں تو کارکنوں یا پولیس اہلکاروں میں چند لوگ فائرنگ کرسکتے ہیں۔اس کے نتیجے میں دو، چار ، پانچ ،سات یا پھر دس بارہ لوگوںکی جانیں بھی جاسکتی ہیں۔اگر کارکنوں کے ساتھ ایسا ہوا تو اپوزیشن جماعت غیض و غضب کی آگ میں جل سکتی ہیں۔ ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔خون کا انصاف مانگا جا سکتا ہے۔ دھرنے دیے جا سکتے ہیں۔
لانگ مارچ ریلیاں نکالی جاسکتی ہیں۔ مقدمے چلا کر عدالتی کمیشن بنوائے جا سکتے ہیں۔ پھر مذاکرات ہوں گے ۔اس کے بعد معاملات طے پائیں گے۔ خون بہا کی بہت سی صورتیں ہیں،مثلاً سینیٹ الیکشن۔ جنرل الیکشن، وفاقی میں وزارتیں۔ صوبے میں وزارتیں۔ قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت۔حکومتوں میں حصہ وغیرہ وغیرہ۔مجھے اس سے 1999کا واقعہ یاد آگیا ۔ جب مشرف کو آرمی چیف سے ہٹا کر جنرل ضیا الدین بٹ کو ان کی جگہ آرمی چیف بنادیا گیا۔صرف پی ٹی وی پر اس کا باضابطہ اعلان ہو نا باقی تھا۔پھر فوج نے پی ٹی وی کی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اور پی ٹی وی کی نشریات ملک بھر میں بند کردی گئیں۔ اس موقع پر نوازشریف
کے بڑے بیٹے حسین نواز نے اس وقت کے ایم ڈی پی ٹی وی کو فون کیا اور کہا کہ وہ جلدی سے نیوز بلیٹن چلا دیں کہ مشرف کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ اس پرایم ڈی پی ٹی وی نے جواب دیا کہ جناب عمارت کے اندر اور باہر فوجی موجود ہیں ان کے ہاتھ میں بندوقیں ہیں۔ نیوز بلیٹن چلانا تو دور کی بات ہے ہمیں تو کسی چیز کو ہاتھ لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ جس پر حسین نواز نے انھیں جواب دیا۔ جناب ! زیادہ سے زیادہ کیا ہوجائے گا،آپ کو گولی مار دی جائے گی، آپ شہید ہوجائیں گے۔ اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ کسی مقدس مشن کی تکمیل کےلئے آپ شہادت کے رتبے پر فائز ہوجائیں۔
ملکی تاریخ میں اس کی سب سے بدترین مثال سانحہ ماڈل ٹائون لاہور کے 2014کے واقعے کی صورت میں سب کے سامنےہے جب پولیس کی جانب سے تحریک منہاج القرآن کے مردو خواتین پر سیدھی گولیاں چلائی گئیںاور 14کارکنان جاں بحق ہوگئے،کئی زخمی بھی ہو گئے۔او ر یہ بھی سب کے سامنے ہے اس واقعے نے اس وقت کی حکومت کو انتظامی اور سیاسی بنیادوں پر کتنا زیادہ نقصان پہنچایا۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ اس واقعےکی ہمدردی سمیٹ کر ایک مذہبی سیاسی جماعت کس طرح لوگوں کی توجہ حاصل کی۔اور پھر ایک دوسری سیاسی جماعت نے اس قتل عا م کے خلاف احتجاجی اجاگرکرکے کیسے پذیرائی حاصل کی۔
اور پھر حکومت قائم کی۔جب حکومت بن گئی تو لوگوں کو امید ہوگئی کہ ا اب واقعے کے ذمہ دارانہ کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے۔اب قتل ہوجانے والوں کے لواحقین کو انصاف ملے گاکیونکہ اب تو احتجاج کرنے والے پاور میں آگئے ہیں۔ اب ان کے پاس اختیارات ہوں گے۔ اور مجرموں کو سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔پھر پتہ چلا کہ جس سیاسی جماعت نے مظلوموں کی جماعت کے کندھوں کے ساتھ کندھا ملایا۔ وہ جب حکومت میں آگئی تو۔اس کی منزلیں نئی تھیں۔ راستے نئے تھے۔ اہداف نئے تھے۔ اب کنٹینر کی ضرور ت نہیں تھی اب اقتدار کے ایوان کی چابی پاس تھی۔ اب احتجاج کی ضرورت نہیں تھی احتجاج کرنے والوں کی چیخوں پر محظوظ ہونا تھا۔
اب ڈنڈے کھانے نہیں ڈنڈے برسانے کو پوزیشن تھی۔ اب دھرنے دینے نہیں دھرنے روکنے کا فیصلہ کرنا تھا، اب ریاست سے ٹکرانے نہیں ریاست کو بچانے کی بات کرنا تھی۔ اب حساب مانگنے نہیں احتساب کرنے کا موقع تھا۔اب اس برسراقتدار سیاسی جماعت نے ماڈل ٹائون سانحے کا کبھی نام تک نہیں لیا۔ پھر نہ قتل ہونے والے 14کارکن کسی کو یاد رہے۔ نہ ان کے لواحقین کا کسی کو خیال آیا۔ نہ اس سانحے سے جڑے واقعات کی کوئی فوٹیج کبھی دوبارہ چلی ۔نہ کیسز پر کوئی پیش رفت دوبارہ دکھائی دی ۔نہ میڈیا پر بیانات دیے گئے۔ نہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کا کوئی تذکرہ باقی رہا،نہ جسٹس مظاہر علی اکبر کی قیادت میں
قائم عدالتی بینچ کے فیصلے پر عملدرآمدکا کوئی مطالبہ ہوا۔ پھر اس مذہبی سیاسی جماعت کو سمجھ میں آیا کہ وہ صرف وقت کا ایک مہرہ تھی ۔ جس کا کندھا استعمال ہوا۔ جس کے تو لوگ مارے گئے، لیکن انصاف نہیں ملا۔جس نے خون کی قربانی تو دی لیکن خون رنگ نہیں لایا۔ جس نے وفا تو کی لیکن بدلے میں وفا نہیں ملی۔ پھر اس مذہبی جماعت نے اپنی سیاسی حیثیت ہی ختم کردی۔ پھر اس نے کبھی احتجاج نہ کرنےکا فیصلہ کر لیا۔ پھر ا س نے اپنا کندھا دینے سے توبہ کر لی۔ آج ان قتل ہونے والوں کا نا م تک کسی کو یاد نہیں۔آ ج ان شہدا کا نام تک کوئی نہیں لیتا ، کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کون تھے، ان کے لواحقین پر کیا گزری ،
آج وہ کس حال میں ہیں۔آج تحریک کے سربراہ کو سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لواحقین کے سوالوں کا جواب دے،وہ خون کا قصاص کس سے مانگے۔ آج وہ اپنے ساتھ ہوئے ظلم کی روئیداد کس سے بیان کرے۔آج شریک سفر کون ہے۔آج کون ہے جو کنٹینر کے ساتھ کنیٹنر لگا کر بیٹھےگا۔آج کون ہے جو ساتھ تقریرکرنے آئےگا ساتھ عید پڑھے گا۔لاکھوں جانثار کارکنوں والی مذہبی سیاسی جماعتیں بہت بڑی اپوزیشن جماعتیں ثابت ہوتی ہیں۔بڑی ہی خطرناک ہوتی ہیں۔ اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا کام کرسکتی ہیں اور کسی کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے کام آسکتی ہیں۔ لیکن اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا کام لینے کے بعد انھیں کیا ملتاہے۔اسی طرح
کسی سیاسی جماعت کارکنوں کا کام صرف خون دینا ہوتا ہے وہ خون سیاستدانوں کے گلشن کی آبیاری کرتا ہے۔ اس گلشن کا ثمر سیاستدان اور ان کی نسلیں کھاتی ہیں۔ اس گلشن کے سایے دار ردرختوں میں بیٹھتی ہیں۔ اس گلشن کی بہاروں کا لطف لیتی ہیں۔پھر کسی کو یاد تک نہیں رہتا ہے کہ گلشن کی آبیاری کس نے کی۔کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس پختہ عمارت کی بنیادوں میں کس کا خون شامل ہے۔کیا آج تک کسی سیاسی جماعت کی تاریخ میں یہ بات یاد رکھی گئی کہ اس کے بڑے بڑے کارکن کون تھے؟۔ان کی برسی منانا یا قبروں پر پھول چڑھانا تو دور کی بات کیا ان کےلئے فاتحہ بھی پڑھ گئی؟ ۔کیا ان کے گھر والوں کی کسی نےخبر گیری کی
؟کیا پوچھا گیا کہ ان کے گھروں کا چولہا جل بھی رہا ہے یا نہیں؟اس سب کی وجہ کیا ہے۔درحقیقت ہمارے ملک میں ایک کلچر رائج ہے۔شخصیتوں کو بتوں کی طرح پوجنے کا کلچر۔ میرا لیڈا میرا لیڈر کے نعروں کا کلچرمیں بھٹو کا جیالا ہوں ، میرے لیڈر میاں صاحب، میں خان صاحب کا کھلاڑی ہوں۔ مولاناکے ایک اشارے پر شہادت بھی قبول ہے۔ اس ملک میں بی بی کے جاں نثار ہیں۔ قادری پر مرمٹنے والے ہیں۔ باچا خان کی فرندان ہیں۔ ان کے خیال میں ان کی زندگیاں سیاست کےلئے ہیں۔ سیاست ان کی زندگیوں کےلئے نہیں ہے۔نوکریاں چھوڑ کر، گھروں میں بیماربچے اور بیویاں چھوڑ کر، دال رروٹی اور راشن کی فکروں سے بے نیاز ہو
کر، کام دھندے سے بے فکر ہوکر یہ لوگ جلسہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔پھر یہ لوگ سمجھتے ہیںکہ یہ نظریاتی ہیں۔ جبکہ یہ شخصیت پسندی ہے نظریاتی پن نہیںہے۔ نظریاتی پن ایک سوچ کےلئے مل کر کھڑا ہونا ہے۔اس پر ڈٹ جانا ہے۔ جو بھی اس سوچ سے منحرف ہوجائے یا بغاوت کردے اسے باہر نکال دو۔اس سوچ کی بالادستی کےلئے قربانیاں بھی دو۔ مصیبتیں بھی جھیلو۔ چاہے اکیلا ہی کیوں نہ کھڑا ہونا پڑ جائے ۔شخصیت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کے پیچھے ہی چلنا ہے۔اندھا دھند چلتے جانا ہے۔اسے اپنا مائی باپ مان لینا ہے چاہے ٹھیک وہ کررہا ہے یا غلط ۔ اپنے فیصلے پر ڈٹا ہوا ہے یا پیچھے ہٹ گیا ہے۔ سچ بول رہا ہے یا
جھوٹ۔ اپنا فائدہ سوچ رہا ہے یا سب کا۔ بس اس کی باتوں کو حرف آخر سمجھنا ہے۔تو دراصل شخصیت پسندی کو نظریاتی پن سمجھنا ہی بالخصوص مذہبی سیاسی جماعتوں کی حماقت اور جہالت ہے۔اسی حماقت کا فائدہ اٹھا کر امریکہ نے اپنے سب سے بڑے حریف روس کے کئی ٹکڑے کر ڈالے۔ حالانکہ خود مغرب میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں سیاسی بنیادوں پر شخصیتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی۔ سوچ اور نظریات ہی ایک رہبراور رہنما کا کام کرتے ہیں۔ سوچ کےلئے لڑاجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں سسٹم مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہے۔ اس بد نصیب ملک کے معصوم اور بھولے بھالے لوگوں کی آئندہ نسلوں 
کو غلام گردشوں سے نہ جانے کب نجات ملے گی۔ہم کب سبق سیکھیں گے۔ کب ہمارے ٹی وی چینل آدھے گھنٹوں کی خبروں کا سارا وقت سیاست پر ضائع کرنا بند کردیں گے۔کب تک حکومتی ترجمان اپنا سارا وقت کام کرنے کی بجائے سیاسی بیانات کا بدلہ سیاسی بیانات سے دینے کا سلسلہ بند کردیں گے۔۔ کب ملک کے ایک ایک شعبے کی کارکردگی پر خبریں چلائی جائیں گی۔ کب ایک ایک وزارت ،ایک ایک سرکاری محکمے ،ایک ایک رکن اسمبلی کے حلقے کی سہولیات، اور کارکردگی پر پروگرام چلائے جائیں گے۔ کب ملک کےایک ایک علاقے کے مسائل پر بات کی جائے گی۔وہی حلقے وہی علاقے وہی شعبے جو انگریز کے زمانے
سے لے کرآج تک ویسے کہ ویسے ہی ہیں۔ اور قصور بد قسمت ملک کے بے وقوف نعرے باز لوگ ہیں۔

تازہ ترین خبریں

سینیٹ الیکشن میں مداخلت ۔۔۔پیپلز پارٹی کا گورنر سندھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔۔ الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

سینیٹ الیکشن میں مداخلت ۔۔۔پیپلز پارٹی کا گورنر سندھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔۔ الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

 لگتا ہے 27 ایکشن پلان پر عمل آمد کے بعد فیٹیف پاکستان سے مزید ناجائز مطالبات کریگا، سینیٹر رحمان ملک

لگتا ہے 27 ایکشن پلان پر عمل آمد کے بعد فیٹیف پاکستان سے مزید ناجائز مطالبات کریگا، سینیٹر رحمان ملک

 لگتا ہے 27 ایکشن پلان پر عمل آمد کے بعد فیٹیف پاکستان سے مزید ناجائز مطالبات کریگا، سینیٹر رحمان ملک

لگتا ہے 27 ایکشن پلان پر عمل آمد کے بعد فیٹیف پاکستان سے مزید ناجائز مطالبات کریگا، سینیٹر رحمان ملک

حمزہ شہباز اپنے مفرور تایا جان سے کہیں کہ وطن واپس آجائیں۔شبلی فراز

حمزہ شہباز اپنے مفرور تایا جان سے کہیں کہ وطن واپس آجائیں۔شبلی فراز

سینیٹ انتخابات کا معاملہ ۔۔۔پنجاب کے سینٹ انتخابات میں نون لیگ نے حکومت کے ساتھ مثبت بات چیت کی۔ فواد چوہدری

سینیٹ انتخابات کا معاملہ ۔۔۔پنجاب کے سینٹ انتخابات میں نون لیگ نے حکومت کے ساتھ مثبت بات چیت کی۔ فواد چوہدری

عوامی نیشنل پارٹی کا اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی کی شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلا ن،تحقیقات کا مطالبہ

عوامی نیشنل پارٹی کا اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی کی شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلا ن،تحقیقات کا مطالبہ

پی ایس ایل کا دسواں میچ ۔۔۔ پشاورزلمی کااسلام یونائیٹڈکیخلاف ٹاس جیت کرفیلڈنگ کافیصلہ

پی ایس ایل کا دسواں میچ ۔۔۔ پشاورزلمی کااسلام یونائیٹڈکیخلاف ٹاس جیت کرفیلڈنگ کافیصلہ

دلہن ٹریکٹر سے کود کر تھانے پہنچ گئی ۔۔ بھاراتیوں کا تھانے کے باہر احتجاج

دلہن ٹریکٹر سے کود کر تھانے پہنچ گئی ۔۔ بھاراتیوں کا تھانے کے باہر احتجاج

پاکستان سپر لیگ کے نویں میچ میں کراچی کنگز نے ملتان سلطانزکو7 وکٹوں سے شکست دے دی

پاکستان سپر لیگ کے نویں میچ میں کراچی کنگز نے ملتان سلطانزکو7 وکٹوں سے شکست دے دی

جیلیں مسلم لیگ(ن)کےلیےنئی بات نہیں،نوازشریف نےعمران خان کےانتقام کاسامناکیا۔ حمزہ شہباز

جیلیں مسلم لیگ(ن)کےلیےنئی بات نہیں،نوازشریف نےعمران خان کےانتقام کاسامناکیا۔ حمزہ شہباز

لاہور میں جرائم کے خاتمے کیلئے ایک اور زبردست قدم ۔۔ پیٹرولنگ کے لیے ابابیل فورس تشکیل دے دی۔

لاہور میں جرائم کے خاتمے کیلئے ایک اور زبردست قدم ۔۔ پیٹرولنگ کے لیے ابابیل فورس تشکیل دے دی۔

کورونا  ایس او پیز ۔۔۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بین الاقوامی مسافروں کی پاکستان آمد سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

کورونا ایس او پیز ۔۔۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بین الاقوامی مسافروں کی پاکستان آمد سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

سانپ کو کیسے مارا ؟  DSP آئے تو سانپ زندہ تھا۔۔۔ اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے پورا واقعہ بیان کردیا

سانپ کو کیسے مارا ؟ DSP آئے تو سانپ زندہ تھا۔۔۔ اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے پورا واقعہ بیان کردیا

امجد آفریدی، شمیم آفریدی پیپلز پارٹی میں شامل

امجد آفریدی، شمیم آفریدی پیپلز پارٹی میں شامل