06:05 pm
 امت مسلمہ میں تفریق  اور تقسیم پیدا کرنے کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے علمائے کرام کے تعاون کی ضرورت ہے۔ عمران خان

 امت مسلمہ میں تفریق  اور تقسیم پیدا کرنے کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے علمائے کرام کے تعاون کی ضرورت ہے۔ عمران خان

06:05 pm


اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرِ اعظم عمران خان سے علماء و مشائخ کے وفد نے ملاقات کی ۔ وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری بھی ملاقات میں موجود تھے۔ وفد میں پیر محمد امین الحسنات شاہ، پیر چراغ الدین شاہ، ڈاکٹر قبلہ ایاز، پیر نقیب الرحمن، مولانا عبدالخبیر آزاد، پیر حبیب عرفانی، صاحبزادہ محمد حامد رضا، سید ضیاء اللہ بخاری، پیر سلطان احمد علی حق باہو، علامہ محمد حسین اکبر، مفتی ابو بکر محی الدین، مولانا محمد عادل عطاری، مولانا محمد طیب قریشی، مفتی فضل جمیل رضوی، مولانا حامد الحق، پیر شمس الامین،پیر حبیب اللہ شاہ، محمد قاسم قاسمی، صاحبزادہ محمد اکرم شاہ اور پیر مخدوم عباس بنگالی شامل تھے ۔علمائے کرام نے وزیرِ اعظم کی جانب سے اقوام متحدہ میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور مغرب میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے شاندار موقف اپنانے
پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ پوری امت مسلمہ کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی ہے ۔  علمائے کرام نے وزیراعظم کی  اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنے پر بھرپور تعریف کی۔علمائے کرام نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے موضوع کو جس انداز میں وزیر اعظم نے مغرب میں اٹھایا ہے اس طرح اسلامی دنیا کے کسی لیڈر نے ماضی میں نہیں اٹھایا جس کے لئے امت مسلمہ وزیراعظم کی معترف ہے۔ علمائے کرام نے وزیر اعظم کے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کے ویژن اور اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کی تعریف۔ انہوں نے اس حوالے سے وزیراعظم کے شانہ بشانہ کردار ادا کرنے اورپاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وزیراعظم عمران خان نے علمائے کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور  امت مسلمہ میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ دو سال میں اس ضمن میں اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسلاموفوبیا کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز اٹھائی۔وزیراعظم نے علمائے کرام کے ملک کو درپیش مسائل پر،  خواہ وہ انتہا پسندی  سے نمٹنے کا مسئلہ ہو یا فرقہ واریت سے نمٹنے کا ہو ، کلیدی کردار کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ امت مسلمہ میں تفریق  اور تقسیم پیدا کرنے کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے ضمن میں علمائے کرام کے مسلسل تعاون کی ضرورت ہے۔ 
 

تازہ ترین خبریں