12:09 pm
ان ہائوس تبدیلی کے لیے جوڑ توڑ،وفاقی دارالحکومت کاسیاسی درجہ حرات بڑھنے لگا،سرگرمیاں تیز

ان ہائوس تبدیلی کے لیے جوڑ توڑ،وفاقی دارالحکومت کاسیاسی درجہ حرات بڑھنے لگا،سرگرمیاں تیز

12:09 pm


 اسلام آباد(ویب ڈیسک )وفاقی دارلحکومت میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی سیاسی قیادت اسلام آباد میں پڑاو ڈالے ہوئے ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ایک غیر محتاط بیان نے ایوان کا کسٹوڈین تصور کئے جانیوالے اسپیکر کے عہدے کو متنازعہ بنا دیا ہے جس سے حکومت مشکل میں آگئی ہے۔ کپتان کے اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ
کرنے سے متعلق بیان سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تناو کم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے اور پیر کو ہونے والے اجلاس میں اسکا عملی نمونہ بھی پیش کیا ہے۔اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے سپیکر قومی ا سمبلی اسد قیصر سے چیمبر میں بھی ملاقات کرنے سے انکار کردیا اور سپیکر قومی اسمبلی کے رویہ کو غیر جانبدار بنائے جانے تک پارلیمنٹ کی کاروائی چلانے میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے دوٹوک انکار کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ پیر کو بلایا جانے والا اجلاس زیادہ دیر نہیں چل سکا اور کورم کی نذر ہوگیا اور حکومت قومی اسمبلی کے اجلاس بارے اپوزیشن کے سامنے بے بس و مجبور دکھائی دے رہی ہے کیونکہ حکومت کو ایک آئینی و قانونی چییلنج کا سامنا ہے اور قومی اسمبلی کے اجلاس کے 106دن پورے کرنے کے آئینی تقاضا کو پورا کرنا ہے جس کیلئے اپوزیشن کا تعاون درکار ہے اور اپوزیشن سپیکر قومی اسمبلی کے رویہ میں بہتری تک تعاون پر آمادہ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔دوسری جانب ان ہاوس تبدیلی کیلئے بھی اپوزیشن منظم صف بندی جاری رکھے ہوئے جس کیلئے حکومت کے اہم اتحادیوں سے بیک ڈور رابطے بڑھائے جا رہے ہیں، اس صورتحال کو لے کر حکومتی حلقوں میں بھی پریشانی دکھائی دے رہی ہے اور وزیراعظم عمران خان نے بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اہم اجلاس کئے ہیں اور اراکین پارلیمنٹ سے ملاقاتیں بھی شروع کر دی ہیں جبکہ اپوزیشن اگلے ایک ماہ کے دوران سیاسی تبدیلی کا ٹاسک پورا کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ سے باہر حکومت کے خلاف صف آراء ہے تو دوسری جانب حکومت بھی اپوزیشن کھے تمام حربوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنے پتے خوبصورت انداز میں کھیل رہی ہے۔دونوں ہی اپنی سیاسی بقاء و سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے میں لگے ہیں لیکن پچھلے چند روز سے ملک میں سیاسی ہوائیں رخ بدلتی معلوم ہو رہی ہیں اپوزیشن کے بیانیہ میں بھی تبدیلی واضح دکھائی دے رہی ہے حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے بیانیہ کے ناکام ہونے اور پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھرنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن اپوزیشن اسے اپنی کامیاب حکمت عملی سے تعبیر کر رہی ہے تاہم حکومتی رہنماوں کی باڈی لینگوئج کچھ اور پتہ دے رہی ہے۔گفتار و بیانات میں بھی اب وہ پہلے والا اعتماد دکھائی نہیں دے رہا۔ دوسری طرف پہلے اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات دفاعی تھے مگر اب جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں ، ابھی چند روز قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر گفتگو میںصدر پنجاب مسلم لیگ( ن ) رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جلد انہی عدالتوں میں مقدمات چلیں گے اب چوروں کا یوم حساب آ چکا ہے، اسرائیلی اور بھارتی لابی سے پیسہ لے کر یہاں لگایا گیا، انکا کہنا تھا کہ اے این ایف میں انکے کیس کو پونے دو سال ہوگئے جعلی اور جھوٹا مقدمہ سیاسی انتقام کیلئے بنایا گیا انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کے حکم پر میرے خلاف یہ مقدمہ بنایا گیا ابھی تک مقدمے کی کاپیاں تک فراہم نہیں کی گئیں، تمام جعلی مقدمات صرف ایک حکم سے ختم ہو جائیں گے، وہ وقت آنے والا ہے، جب یہ تمام مقدمات ختم ہوں گے۔اسی قسم کے بیانات احسن اقبال و دوسرے رہنماوں کے سامنے آرہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی پہلے سے اپنے انداز سے سیاسی چالیں جاری رکھے ہوئے اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی بھی حالیہ گفتگو سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اگلے چند ماہ کو ملکی سیاست کیلئے اہم قرار دیا ہے۔البتہ انکا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم متحد ہے اور حکومت پر ہر طرف سے وار کرے گی اور حکومت سے نجات کیلئے ہر آپشن بتدریج استعمال کرے گی، آصف علی زرداری نے کپتان اور اسکی ٹیم کو بھی آڑے ہاتھوں لیا، انکی گفتگو میں بھی بین السطور ان ہاوس تبدیلی کا ہی پیغام چھپا تھا۔ جس کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سمیت کپتان کے دوسرے کھلاڑی بھی خوب گرجے ہیں انکا کہنا ہے کہ کسی مائی کے لعل میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی جرات نہیں ہے، شیخ رشید کا تو کہنا ہے کہ اپوزیشن ایک بار نہیں سوبار وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے

تازہ ترین خبریں