11:53 am
پہلے نفرت کی گولی اوراب جوتی کھائی ،ملک خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے،احسن اقبال

پہلے نفرت کی گولی اوراب جوتی کھائی ،ملک خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے،احسن اقبال

11:53 am

لاہور(روزنامہ اوصاف)مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ پہلے نفرت کی گولی اوراب جوتی ماری گئی ،ملک امن و بھائی چارے کی بجائے خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے ،جن لوگوں نے ریاست پاکستان کی آبیاری کی،بجلی کے منصوبے لگائے ،سی پیک دیا ،گیس بحران حل کیا،جدید ترین منصوبے لگائے ان کو قومی ایوارڈ دینے کی بجائے جیلوں میں ڈال دیا گیا ،ریاست کو اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی۔لاہور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ جن کی پاکستان کیلئے خدمات کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ، ایک ایک کرکے سب کی کردار کشی کی گئی ہے
 
وہ وزیراعلی پنجاب جن کے دور میں مثالی ترقی ہوئی اور جدید ترین منصوبے لگے ، جن کی رفتار کو چین میں بھی پنجاب سپیڈ کے نام سے شناخت کیاگیا آج ان کی جس انداز میں کردار کشی کی جارہی ہے وہ قابل مذمت ہے ، اسی طرح شاہد خاقان عباسی نے ملک میں گیس کا بحران حل کیا تو ان کو بھی پابند سلاسل کیا گیا اور کردارکشی کی گئی ، خواجہ آصف نے بجلی کے منصوبے لگائے تو وہ بھی آج پابند سلاسل ہے اگر خواجہ سعد کی وزارت نے ریلوے کو پٹڑی پر چڑھایا تو ان کی بھی کردار کشی کی ، مفتاح اسماعیل کو بھی پابند سلاسل کیاگیا ۔میں نے 29 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سی پیک کی صورت میں ملک میں لائی اور مجھے بھی پابند سلاسل کیا گیا ۔وہ سب لوگ جنہیں قومی ایوارڈز ملنے چاہئیں تھے ان کو جیلوں میں ڈالا گیااور کردار کشی کی گئی جو پاکستانی ریاست کے لئے بہت بڑا سوال ہے ۔کیا کوئی بھی پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ایسا سویلین نہیں ہوسکتا جو عزت کمائے ؟ ایک ایک کرکے سیاسی رہنما کو رسوا کیا جاتا ہے میرے جسم میں آج بھی نفرت کی گولی موجود ہے میں نے نفرت کی گولی بھی کھائی اور چند روز پہلے نفرت کی جوتی بھی کھائی

لیکن کیا یہ رویے جن کی پاکستانی ریاست نے آبیاری کی ہے کیا یہ پاکستان کو امن بھائی چارے کی طرف لے کر جائیں گے یا خانہ جنگی کی طرف لے کر جائیں گے ؟ پاکستانی ریاست کو اپنی آنکھیںکھولنا پڑیں گی ،مارشل لا کے نظام فیل ہوگئے ،ہائیبرٹ نظام فیل ہوچکا ہے ایک ملک میں صرف ایک نظام عوام کو ڈیلیور کرسکتا ہے وہ آئین کے تحت وفاقی جمہوری نظام ہے ، ہمارے اٹھارہویں ترمیم نے کوئی ہاتھ نہیں باندھے تھے اس کے باوجود ہم نے فوج کو ملکی تاریخ کا بڑا دفاعی بجٹ دیا ، دہشتگردی کی جنگ کوکامیابی سے لڑا اور کراچی سے لیکر خیبرپختونخوا تک ہر جگہ امن قائم کیا ہمارے ہاتھ تو اٹھارہویں ترمیم نے نہیں پکڑے تھے کہ بجٹ نہیں ہے یاپیسہ نہیں ہے ۔بجٹ کے لئے نیت اور عقل کی ضرورت ہوتی ہے موجودہ حکمرانوں کے پاس نہ تو نیت ہے یا عقل ہے ،ان کی صبح اور شام ’’نہیں چھوڑوں گا‘‘ سے ہوتی ہے جو حسد اورخودنمائی کی آگ میں جل رہے ہوں وہ کبھی کوئی خدمت نہیں انجام دے سکتے ۔

تازہ ترین خبریں