09:02 pm
زینب خالد: پولیس سروس کا حصہ بننے والی ضلع مانسہرہ کی پہلی لڑکی جن کی والدہ پوری پوری رات ان کے ساتھ جاگتی تھیں

زینب خالد: پولیس سروس کا حصہ بننے والی ضلع مانسہرہ کی پہلی لڑکی جن کی والدہ پوری پوری رات ان کے ساتھ جاگتی تھیں

09:02 pm

زینب خالد نے سی ایس ایس میں 188 ویں، صوبہ خیبر پختونخوا میں ساتویں اور لڑکیوں میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے پولیس سروس میں شمولیت اختیار کی ہے۔چند روز قبل جب محمد خالد کو اپنی بیٹی کی سی ایس ایس میں کامیابی کی اطلاع ملی تو انھیں وہ وقت یاد آگیا جب محدود وسائل ہونے کی بنا پر وہ ضلع مانسہرہ کے علاقے گڑھی حبیب اللہ سے ایبٹ آباد منتقل ہونے کا فیصلہ مشکل کر رہے تھے اور جب انھوں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انھوں نے محمد خالد سے کہا کہ ’سب سے بڑی اور بہترین سرمایہ کاری بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت ہے، اس کے لیے جو کرنا پڑے کرنا
۔‘صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے پہلی خاتون پولیس افسر بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی زینب خالد کے والد محمد خالد ایبٹآباد کے ایک بینک میں فرسٹ افسر کی ملازمت کرتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں انھوں نے صرف اس وجہ سے ترقی کی آفرز کو کئی مرتبہ قبول نہیں کیا کیونکہ ترقی لینے کی صورت میں ان کا تبادلہ صوبے دور دراز کے علاقوں میں کر دیا جانا تھا اور اس وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔زینب خالد نے سی ایس ایس میں 188 ویں، صوبہ خیبر پختونخوا میں ساتویں اور لڑکیوں میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے پولیسسروس میں شمولیت اختیار کی ہے۔محمد خالد بتاتے ہیں کہ رشتہ دار کے مشورے کے بعد محدود ترین وسائل ہونے کے باوجود وہ ایبٹ آباد منتقل ہوئے اور پھر انھوں نے ناصرف مشکل وقت گزارا بلکہ اپنی زندگی کا مقصد ہی بچوں کو بہترین تعلیم و تربیت دینا بنا لیا۔’آج جب میری بیٹی پولیس افسر بنی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی بہترین سرمایہ کاری اپنے بچوں کی تعلیم پر کی ہے اور اس کا مجھے بہترین پھل ملا ہے۔ میں بیٹی کی کامیابی کے بعد اپنے رشتہ دار سے بھی ملا ہوں اور بروقت بہترین مشورہ دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔‘زینب خالد کہتی ہیں کہ ’مجھے اس مقام تک پہنچانے میں جہاں میری اپنی محنت شامل ہے وہاں پر میرے والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ میرے والد میری تعلیمی ضرورت کی ہر چیز پوری کرتے تھے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ جب میں پڑھ رہی ہوتی تو والدہ نے کبھی مجھے گھر کے کسی کام کے لیے اٹھایا ہو۔ میں رات جاگ کر پڑھتی تھی وہ وہ بھی ساری رات میرے ساتھ جاگتی تھیں کہ مجھے کسی بات کی پریشانی نہ ہو۔‘’رول ماڈل بننے کا شوق تھا‘زینب خالد کاکہنا ہے کہ ’میرا بچپن گڑھی حبیب اللہ میں گزرا اور وہاں ہی کہ ایک پرائیوٹ سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی جس کے بعد ابو ہمارے تعلیم کی خاطر ایبٹ آباد منتقل ہوئے۔ ایبٹ آباد میں تعلیم کا معیار اور گڑھی حبیب اللہکی تعلیم کے معیار میں کافیفرق تھا۔ تھوڑی سی مشکل کے بعد خود کو ایڈجسٹ کر کے میں ہر کلاس میں پہلی یا دوسری پوزیشن لیتی رہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ میٹرک امتحان میں وہ بورڈ میں ٹاپٹونٹی طلبا میں شامل تھیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں ان کی ایک پھوپھی زاد بہن میرین اقبال جی ڈی پائلٹ منتخب ہوئیں۔’انھوں نے تربیت حاصل کی اور آج وہ سکوارڈن لیڈر ہیں۔ اُس وقت گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ میں بہت باتیں ہوئیں کہ ایک لڑکی کیسے لڑاکا طیارے چلائے گئی۔ یہ کیسے ممکن ہے مگر اس نے یہ سب کر دکھایا۔ مجھے بھی لگا کہ میں بھی میرین اقبال کی طرح بہت کچھ کر سکتی ہوں۔ مجھے وردی پہنے اپنی بہن بہت متاثر کرتی تھیں۔ تھوڑی بڑی ہوئی تو مجھے لگا کہ میں پولیس میں جا کربہت کچھ تبدیل کر سکتی ہوں۔ نہ صرف لوگوں کی مدد کر سکتی ہوں بلکہ میرین اقبال کی طرح اپنے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ کی لڑکیوں کو کچھ کرنے پر ابھار سکتی ہوں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں تو لڑکیوں کے پڑھنے اور کچھ کر گزرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ مگر گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ میں ابھی اس کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ میرین اقبال کے بعد اب میں اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے رول ماڈل بن سکتی ہوں۔‘’سی ایس ایس میں کامیابی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا نتیجہ ہے‘زینب خالد کا کہنا تھا کہ ’میں پڑھائی تو کرتی ہی تھی مگر مجھے غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کا بہتشوق تھا۔ میرے ابو ٹیلی وژن پر ٹاک شو دیکھا کرتے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھا کرتی تھی۔ جس سے مجھے اخبارات پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ڈان اور دیگر اخبارات کے بچوں کے صفحات سے اخبار بینی کا آغاز کیا تھا۔ جس کے بعد میرے گھر میں اس زمانے کے مشہور بچوں کے رسالے تعلیم و تربیت، کرن وغیرہ آنا شروع ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میری معلومات میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔‘زینب خالد کا کہنا تھا کہ گریجویشنکرنے کے بعد وہ قائد اعظم یونیورسٹی سے اینمل سائنسز میں ماسٹر کرنے چلی گئیں۔ ’وہاں پر اکثر اوقات کلاس میں سوشل سائنسز کے موضوعات پر بات ہوتی تھی۔ میں ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔‘’پہلے میرا خیال تھا کہ میں ایم فل کر کے سی ایس ایس کا امتحان دوں گئی۔ مگر وہاں پر میرے ایک استاد نے مجھے کہا میرے لیے یہ ایک بہترین وقت ہے کہ میں سی ایس ایس کا امتحان دوں اور اس میں کامیابی بھی حاصل کر لوں گیکیونکہ میرا جنرل نالجاچھا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میں سکول، کالج اور یونیورسٹی میں ہر موضوع پر نہ صرف بات کرتی تھی بلکہ استاد کے سامنے سوال بھی اٹھاتےتھی۔ سی ایس ایس کا اچھا انٹرویو ہونے کی وجہ میرے سوال کرنے اور بات کرنے کی عادت اور آرمی برن ہال کالج کا ایک واقعہ تھا۔‘زینب خالد کا کہنا تھا کہ ’کلاس کے اندر ایک ٹیچر نے براہ راست مجھ سے سوال کیا کہ ایران، بلوچستان کا بارڈر کدھر ہے۔ ٹیچر نے شاید مجھ سے براہ راست سوال اس لیے کیا تھا کہ میں ہمیشہ جنرل نالج اور سوشل سائنسز پر بات کرتی تھی۔‘ٹیچر کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ چمن۔ جس پر انھوں نے مجھے کہاکہ کیا بات کر رہی ہو۔ یہ تفتان بارڈر کی بات ہے۔ میں تو سمجھی تھی کہ ابہم پھر تمھارا لیکچر سنیں گے۔ اس پر کلاس میں ایک قہقہ بھی لگا تھا۔‘زینب خالد کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد میں نے بلوچستان کے بارے میں مکمل معلومات اور اس کے جعرافیہ کو پڑھنا شروع کر دیا تھا کہ مجھے یہ بھی پتا ہونا چاہیے۔ اب قسمت دیکھیں کہ سی ایس ایس انٹرویو کی تیاری میں نے کچھ اور کی تھی۔ مگر انٹرویو میں مجھ سے پہلا سوال ہی بلوچستان کے حوالے سے ہوا تھا۔‘’پولیس فورس میں کچھ کر دکھاؤں گی‘زینب خالد کا کہنا ہے کہ پولیس فورس میں شمولیت ان کے لیے ایکخواب ہے مگر انھیں معلوم ہے کہ اگلے مراحل زیادہ کھٹن اور مشکلہیں۔’میں نے اس کے لیے خود کو تیار کرنا شروع کر دیاہے۔ میں نے ابھی سے اپنی سینیئر خواتین پولیس افسران سے سیکھنا شروعکر دیا ہے کہ جب ضروری تربیت کے بعد میدان عمل میں اُتروں تو میں ہر امتحان کے لیے تیار ہوں۔‘’میرا یہ فیصلہ ہے کہ میں پولیس فورس میں کچھ کر کے دکھاؤں گی۔ کبھی بھی انصاف، میرٹ اور قانون کے خلاف نہیں چلوں گئیں۔ مظلوم کو انصاف فراہم کرنا اور لوگوں کی مدد کرنا میری اولین ترجیح ہو گی۔‘


تازہ ترین خبریں

سائنسدان2 ہزار  سال پرانی  نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

سائنسدان2 ہزار سال پرانی نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان   حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا   اجلاس آج  ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

ترکیہ   میں زلزے  نے تباہی مچا دی ،  سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ میں زلزے نے تباہی مچا دی ، سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی