11:25 am
سلیکٹڈسے نظریاتی بن جانے والے سابق نوازشریف کی اصل کہانی

سلیکٹڈسے نظریاتی بن جانے والے سابق نوازشریف کی اصل کہانی

11:25 am

اسلام آباد ( رپورٹ سیف اعوان ) سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ وہاں پر ان کا علاج چل رہا ہے اوران کی صحت انھیں واپس آنے کی اجازت نہیں دیتی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اپنے خلاف قائم کرپشن کیسز کی سزا سے بچنے کےلئے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔اور لندن میں بیٹھ کر سیاست کررہے ہیں۔ تاہم کچھ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ درحقیقت نوازشریف اپنے تین ادوار میں ہوئے کچھ تلخ تجربات کے بعد اب خاصے بدل گئے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ وہ نظریاتی نہیں تھے لیکن نظریاتی
بن گئے ہیں خاصی حدتک درست ہے۔ آج عمران خان کوسلیکٹڈکہنے والے نوازشریف بھی کبھی سلیکٹڈ ہی تھے۔وہ آشیرباد  اور پشت پناہی سے سیاسی جماعت قائم کرکے  ہی دو بار اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔نوازشریف اورپیپلزپارٹی دونوں نے ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سودے بازی کرکے حکومت قائم کی تھی۔لیکن بار بار مدت پوری کیے بغیر ہی حکومت گرائے جانے کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں نے خاصا سبق سیکھ لیا تھا۔ اورسودے بازی کے اس کھیل سے بددل ہوچکی تھیں۔۔ 1990پھر 1999میں ان کی حکومت گرائے جانے کے بعد سعودی عرب میں جلا وطنی کاٹ کر  واپس آنے والے نوازشریف نے پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کی تھی۔ اس کامقصد یہی تھا کہ ملک میں عوام کے ووٹوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں بھیجے گئے لوگ ہی فیصلہ سازی کےلئے صاحب اختیار ہوں۔ پارلیمانی اورجمہوری روایات کا فروغ ہو۔اورغیر سیاسی عناصر اورریاستی اداروں کی مداخلت کا سلسلہ بند ہوجائے۔سویلین بالادستی سے ہی ملک میں تعمیر و ترقی کے منصوبےشروع کیے جائیں اورلوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کی کوشش کی جائے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوازشریف خاصی حد تک اپنے وژن میں کامیاب بھی ہورہے تھے۔ ملک بھرمیں موٹر ویز کا جال بچھانا، ڈیم بنا کر سستی بجلی پیدا کرکے ملک بھر سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نواز حکومت کی دو ایسی کامیابیاں تھیں جن کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچے۔اسی طرح پارکوں، پلوں ، ہسپتالوں کے قیام کے ذریعے عوام کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ سستی روٹی، لیپ ٹاپ سکیم،ییلو کیپ سکیم، گرین ٹریکٹر سکیم، مکینیکل تندور اور کئی دوسرے پراجیکٹ سے غربت اورپسماندگی کا شکار پاکستانی معاشرے کی بہبود کا گراف خاصی حد تک بلند ہواتھا۔ 2013کے انتخابات میں مسلم لیگ دو تہائی کی واضح اکثریت کے ساتھ جیتی تھی۔لیکن اگلے ہی سال یعنی 2014ہی میںتحریک انصاف اورعوامی تحریک کے دھرنے سے ہی نوازشریف نے اپنے گرد منڈلاتے ہوئے خطرات کو محسوس کرنا شروع کردیا تھا۔2016میں پانامہ لیکس میں نامزد ہونے پر نوازشریف نے قوم سے خطاب کے دوران اپنےہی خلاف آزادانہ تحقیقات کےلئے عدالتی کمیشن بنانے کی پیشکش کر ڈالی تھی۔ ان کے قریبی ساتھیوں نے انھیں ایسا کرنے سے روکا لیکن نوازشریف اپنے فیصلے پرقائم رہے۔ اس کے بعد جس سرعت سے جے آئی ٹی بنی اوران کے خلاف تحقیقات ہوئیں ۔ اورپھر ان کی نااہلی، اورسزا کے فیصلے ہوئے۔وہ اور ان کی پارٹی کے سرکردہ رہنما چیخ چیخ کرکہتے رہے کہ انھیں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن عمران خان کے جلسوں ، ان کو ملنے والی میڈیا کوریج اوران کی سوشل میڈیا ٹیم کے پوری طرح متحرک ہونے جانے کی وجہ سے نوازشریف اوران کی خدمات کی تصویر ماند پڑتی گئی۔ وہ بدنامی سے بدترین ترین تذلیل کے دلدل میں دھکیلے جاتے رہے۔ یہاں تک کہ پورے ملک میں ایک رائے عامہ ہموار کردی گئی کہ شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) کےتمام رہنما کرپٹ اوربددیانت ہیں۔ اور اس سیاسی جماعت کے فالوورز جاہل اور کند ذہن ہیں جو اندھا دھند نعرے بازی کرتے ہیں۔ نوازشریف کی قیادت میں قائم کیا گیا ہر منصوبہ کرپشن ،کمیشن  اور کک بیک کےلئےتھا،۔دوسری جانب پورے ملک میں پلوں ، سڑکوں اوربسوں جیسے پراجیکٹس کو مخصوص لیگی سوچ بتا کر لوگوں میں ان  تعمیراتی منصوبوں سے بددل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ نوازشریف ادوار میں کی گئی تعمیر و ترقی اورقومی خدمات کے نقوش ہی لوگوں کے ذہنوں سے مٹ جائیں۔یہاں تک کہ ڈالر کی قیمت کو روک کر رکھنے کے اقدام کو بھی مصنوعی قرا ردیا گیا، آئی ایم ایف سے قرضے لینے کو بھی ناپسندیدہ کہا گیا۔ ڈالر کی قیمت کو گراکر پچاس روپے کی سطح پر لانے کے وعدے ہوئے،۔ ایک کروڑ نوکریاں دلوانے کے وعدے ہوئے پچاس لاکھ گھروںکی تعمیر کے وعدے کیے گئے۔ لیکن پھر جو کچھ ہوا وہ نہ صرف پاکستانیوں بلکہ دنیا بھر نے دیکھ لیا۔ پاکستان جنوبی ایشیا کی کمزور ترین معیشت بن گیا۔ ڈالر اور سونے کی قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں۔ ملک میں مہنگائی،غربت اور بے روزگاری کی شرح خوفناک حدتک بڑھ گئی۔ لاکھوں متوسط طبقے کے لوگ غربت کی لیکر سے نچلی سطح پر چلے گئے. ۔ کاروبارتباہ ہوکر رہ گئے ۔پچاس لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے۔دیہاڑی دار طبقے کا جینا مشکل ہوگیا۔ وہ لوڈشیڈنگ جو لیگی دور میں جڑ سے اکھاڑ دی گئی تھی۔ پھر سے شروع ہوگئی۔ ایل این جی کے معاہدے کو مہنگا قرار دے کر بند کرنے کی وجہ سے فرنس آئل سے بجلی تیار کرنی پڑ گئی۔گرمیوں میں بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوگئی۔سیاسی حکومت سی پیک جیسے منصوبے کو بھی متنازعہ بنانے کے دہانے پر پہنچ گئی۔ سعودی عرب اوریو اے ای سے بھی تعلقات خراب ہوئے۔ لیکن اس دور میں چند لوگوں کا فائدہ ضرور ہوا، عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کا نام شوگر ملزسکینڈل میں آیا۔ خسرو بختیار آٹا سکینڈل میں نامز د ہوئے۔ زلفی بخاری ، شیخ رشید، غلا م سرورخان اور کئی دوسرے لوگوں کا نام رنگ روڈ سکینڈل کی زینت بنا۔ زرتاج گل وزیرنے اپنی بہن کو چئیرمین نیکٹا کا عہدہ دلوادیا۔حکومت کسی تعمیراتی منصوبےکی تکمیل تو کیا کسی پراجیکٹ میں ایک اینٹ بھی نہ لگا سکی۔ نوازشریف دور کے منصوبوں کےنام تبدیل کرنے اور نئے ناموں کی تختی لگانےکا ہی سلسلہ جاری رہا۔پشاور میٹرو بس کے نام پر صوبائی دارالحکومت کو کھڈوںکا شہر بنا دیا گیا۔اورخدا خدا کرکے 130ارب روپےخرچ کرکے جو پراجیکٹ مکمل کیا گیا ، اس کی بس آئے روز جلنے اورخراب ہونے جیسے واقعات کی وجہ سے بدنام ہوتی چلی جارہی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ڈھائی سالہ دور کو تعمیر وترقی سے تعبیر کرنا یا تو لوگوں سے جھوٹ بولنا ہے یا پھر اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔ اس دور میں ملک پیچھے گیا اور ترقی کی شرح جو لیگی دور میں ساڑھے پانچ پرتھی، اعشاریہ پانچ کر آن گری۔ اس کی وجہ موجودہ دورمیں ہرقسم کے مافیاز کا سر اٹھا لینا، حکومت میں شامل کئی شخصیات کا کرپشن کا ارتکاب کرنا اور عمران خان حکومت کا ناتجربے کارہونا اور کسی بھی ملکی اورغیر ملکی معاملےکی سمجھ بوجھ نہ رکھنا ہے۔

تازہ ترین خبریں

بریکنگ نیوز، بنی گالہ کیا ہو گیا، انتہائی افسوسناک خبر آ گئی، پولیس کی دوڑیں

بریکنگ نیوز، بنی گالہ کیا ہو گیا، انتہائی افسوسناک خبر آ گئی، پولیس کی دوڑیں

تین سال سے عوام ن لیگ کا گھسا پٹا بیانیہ سن سن کر تنگ آ چکی ہیں۔فیاض الحسن چوہان

تین سال سے عوام ن لیگ کا گھسا پٹا بیانیہ سن سن کر تنگ آ چکی ہیں۔فیاض الحسن چوہان

عمرہ کے خواہشمندہوجائیں تیار۔۔۔وفاقی وزیرنے بڑی خوشخبری سنادی

عمرہ کے خواہشمندہوجائیں تیار۔۔۔وفاقی وزیرنے بڑی خوشخبری سنادی

گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ۔۔ 10لاکھ کی گاڑی 16لاکھ کو پہنچ گئی، 15لاکھ والی 25لاکھ تک جا پہنچی

گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ۔۔ 10لاکھ کی گاڑی 16لاکھ کو پہنچ گئی، 15لاکھ والی 25لاکھ تک جا پہنچی

آرمی چیف کی مدت ملازمت ،ایک ہی جماعت کے دوبیانات  مسلم لیگ ن میں پالیسی اور قومی معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے

آرمی چیف کی مدت ملازمت ،ایک ہی جماعت کے دوبیانات مسلم لیگ ن میں پالیسی اور قومی معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے

پارٹی میں جھگڑے کارکنوں کے نہیں قیادت کے ہیں، خواجہ آصف کا اعتراف

پارٹی میں جھگڑے کارکنوں کے نہیں قیادت کے ہیں، خواجہ آصف کا اعتراف

پی ٹی آئی کی حکومت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے اورعام انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔خواجہ آصف

پی ٹی آئی کی حکومت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے اورعام انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔خواجہ آصف

کھلاڑی محنت اور دیانتداری سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔ڈاکٹر عارف علوی 

کھلاڑی محنت اور دیانتداری سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔ڈاکٹر عارف علوی 

 پولیس کو ویکسین کارڈ نہ رکھنے والوں کی گرفتاری سے روک دیا گیا

پولیس کو ویکسین کارڈ نہ رکھنے والوں کی گرفتاری سے روک دیا گیا

وزیراعظم  نے قوم کا تیل نکال دیا اور کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں: شہبازشریف

وزیراعظم نے قوم کا تیل نکال دیا اور کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں: شہبازشریف

خطرناک ترین سمندری طوفان گلاب کب تک ساحل سے ٹکرائے گا،پاکستان کو کتنا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

خطرناک ترین سمندری طوفان گلاب کب تک ساحل سے ٹکرائے گا،پاکستان کو کتنا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

امارات عرب ممالک میں سب سے آگے، بڑے اعزاز کے قریب پہنچ گیا

امارات عرب ممالک میں سب سے آگے، بڑے اعزاز کے قریب پہنچ گیا

جھگڑے کارکنوں میں نہیں بلکہ پارٹی قیادت میں ہیں، خواجہ آصف

جھگڑے کارکنوں میں نہیں بلکہ پارٹی قیادت میں ہیں، خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی