09:53 am
چیف جسٹس ہاؤس کیلئے ٹی وی خریدنےکا اشتہار جاری،اعلیٰ افسران کی مراعات ان کی تنخواہوں سے زیادہ کیوں ؟تفریح کی چیزوں کیلئے عوامی پیسہ کیوں خر

چیف جسٹس ہاؤس کیلئے ٹی وی خریدنےکا اشتہار جاری،اعلیٰ افسران کی مراعات ان کی تنخواہوں سے زیادہ کیوں ؟تفریح کی چیزوں کیلئے عوامی پیسہ کیوں خر

09:53 am


لاہور(نیوز ڈیسک)صوبہ پنجاب میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے دفتر کی جانب سے حال ہی میں اُن کی سرکاری رہائش گاہ کے لیے ایک 75 انچ کے ٹی وی کی خریداری کا اشتہار سامنے آیا۔ اشتہار میں ٹی وی کی خریداری کے لیے ٹینڈر طلب کیے گئے ہیں۔اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹینڈر کے لیے بولی دینے والی کمپنیوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ 75 انچ ٹی وی کی کل قیمت کا تین فیصد سکیورٹی کے طور پر جمع کروائیں گے۔ تین فیصد سکیورٹی کی مد میں جمع کروائے جانے والی رقم 17550 روپے بتائی گئی ہے
۔اس حساب سے لاہور کے علاقے جی او آر 1 میں واقع ’چیف جسٹس ہاؤس کے لیے درکار پچھتر انچ ٹی وی‘ کی کل قیمت کا تخمینہ پانچ لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ بنتا ہے۔اشتہار سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث کی جا رہی ہے کہ کیا سرکاری افسران کے لیے اس نوعیت کی تفریح کی اشیا کی خریداری عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کی جانی چاہیے یا نہیں؟اس اشتہار کے بعد سوشل میڈیا پر ہی ایک خط بھی پوسٹ کیا گیا ہے۔ خط کے مندرجات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ خط لاہور کے علاقے عسکری الیون کے ایک رہائشی قیس محمد حسین نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے نام تحریر کیا ہے۔ خط میں انھوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی خزانے سے اس ٹی وی کی قیمت ادا نہ کریں۔انھوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ ’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارا غریب ملک اور اس کے ٹیکس ادا کرنے والے عوام اس خرچ کا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔انھوں نے اپنے اندازے کے مطابق یہ بھی بتایا کہ ایک جیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ دس لاکھ روپے سے زیادہ ہوتی ہے اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر ججوں کی تنخواہوں کے حوالے سے جاری کردہ دستیاب معلومات کے مطابق یہ دعویٰ درست ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بحث میں یہ سوال بھی پوچھا جاتا رہا ہے کہ خاص طور پر وہ سرکاری افسران جن کی ماہانہ تنخواہ اور مراعات کی مد میں ملنے والی رقم لاکھوں روپے میں ہے انھیں ایسی ذاتی نوعیت کی اشیا اپنی جیب سے کیوں نہیں خریدنی چاہییں؟تاہم پاکستان میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہ نجی شعبے کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہے۔ انھیں سرکاری مراعات دینے کی بھی یہی وجہ بتائی جاتی ہے۔ مگر کیا واقعی ہی ایسا ہے؟پاکستان میں سرکاری افسر کتنی تنخواہ لیتا ہے؟رواں برس پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس یعنی پائیڈ نے ’کیش پوئر، پرکس رچ‘ کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین میں گریڈ ایک کے ملازم کی تنخواہ 13840 روپے ہوتی ہے۔’تاہم اس میں الاؤنسز اور مراعات شامل کرنے کے بعد یہ تنخواہ تین گنا زیادہ ہو کر 43657 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔‘ تاہم رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ مراعات گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے درجے کے افسران حاصل کرتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر گریڈ 20 کے اعلیٰ افسر کی بنیادی ماہانہ تنخواہ دیکھی جائے تو وہ 100660 روپے بنتی ہے, گریڈ 21 کی 111720 روپے اور سب سے اعلٰی درجے یعنی گریڈ 22 کی بنیادی ماہانہ تنخواہ کا تخمینہ لگ بھگ 123470 روپے بنتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ’بظاہر یہ تنخواہ نجی شعبے میں کام کرنے والے افراد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔‘ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق کا کہنا تھا کہ ’حقیقت میں ان کی تنخواہ نجی شعبے کے ایک فرد سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے جب اس میں مراعات شامل کی جائیں۔‘ڈاکٹر ندیم الحق معاشیات اور سرکاری شعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور وہ خود بھی پاکستان کے پلاننگ کمیشن میں کئی برس تک کام کر چکے ہیں۔پاکستان کی سول سروس یا بیوروکریسی میں تین اعلیٰ ترین درجوں پر کام کرنے والے افسران کو ملنے والی مراعات کے حوالے سے پائیڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ انھیں ملنے والے ماہانہ تنخواہ میں اس کا تناسب ان کے بنیادی تنخواہ کے مقابلے سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق گریڈ 20 کے افسر کی تنخواہ میں مراعات شامل کریں تو وہ 100660 سے بڑھ کر 729511 روپے تک پہنچ جاتی ہے اور ان مراعات میں الاؤنسز کے علاوہ ایک سرکاری گھر، ایک گاڑی اور طبی سہولیات شامل ہیں۔اسی طرح ’گریڈ 21 کے افسر کی تنخواہ 111720 روپے سے بڑھ کر 979594 روپے پر پہنچ جاتی ہے جبکہ گریڈ 22 کے افسر کی تنخواہ 123470 روپے سے بڑھ کر گیارہ لاکھ روپے ماہانہ تک ہو جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں شدید برفباری شروع ہو گئی ، سڑکیں بند، درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں شدید برفباری شروع ہو گئی ، سڑکیں بند، درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں

مسلم لیگ (ن)کا ہر روز ایک استعفیٰ آئیگا، خبر نے ن لیگیوں پر بجلیاں گرا دیں

مسلم لیگ (ن)کا ہر روز ایک استعفیٰ آئیگا، خبر نے ن لیگیوں پر بجلیاں گرا دیں

میری خواہش ہے کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے اور اسی سیل میں رکھا جائے جہاں مجھے رکھا گیا تھا،وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ

میری خواہش ہے کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے اور اسی سیل میں رکھا جائے جہاں مجھے رکھا گیا تھا،وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ

شیریں مزاری کی گرفتاری، پی ٹی آئی نےملک گیر احتجاج کی کال دیدی

شیریں مزاری کی گرفتاری، پی ٹی آئی نےملک گیر احتجاج کی کال دیدی

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا گیا

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا گیا

منی لانڈنگ کیس کی سماعت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ عدالت میں پیش 

منی لانڈنگ کیس کی سماعت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ عدالت میں پیش 

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو نااہل قرار دے دیا

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو نااہل قرار دے دیا

پنجاب حکومت کو بڑا جھٹکا لگ گیا، لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا

پنجاب حکومت کو بڑا جھٹکا لگ گیا، لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا

بلاول بھٹو زرداری کا عمران خان کے دورہ روس کا دفاع

بلاول بھٹو زرداری کا عمران خان کے دورہ روس کا دفاع

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟  حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟ حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط  کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا