05:48 pm
نشے کا عادی شخص اپنے گھروالوں سے 17 سال بعد کیسے ملا؟

نشے کا عادی شخص اپنے گھروالوں سے 17 سال بعد کیسے ملا؟

05:48 pm

پشاور میں نشے کے عادی افراد کی بحالی کے ایک پروگرام شروع کیا گیا جس میں نشے کے عادی افراد کامختلف مراکز میں علاج جاری ہے ۔ ان میں افراد میں عنایت الرحمان بھی شامل جو سترہ برس پہلے کراچی چھوڑ کر پشاور آ گئے تھے جہاں ان کے بقول نشے بہت
داموں مل جاتا ہے۔’والد نے بہت منع کیا بیٹا نہ کرو بہت پچھتاؤ گے لیکن میں نے اپنے باپ کی بات نہیں مانی یہی وجہ ہے کہ دیکھو میں اب کہاں پڑا ہوں‘’گڈ شاٹ، گڈ شاٹ۔‘ جھریوں والے چہرے پر اچانک اس وقت رونق آ گئی جب تقریباً سترہ سال بعد ان کا رابطہ اپنے گھر والوں سے بذریعہ ٹیلیفون ہوا۔ ٹیلیفون پر ہونے والی اس گفتگو میں ساٹھ سالہ عنایت بار بار یہی بات دہراتے رہے ’گڈ شاٹ، گڈ شاٹ۔۔۔ میں اچھا ہوں آپ سب کیسے ہیں؟‘عنایت آج سے لگ بھگ 17 سال پہلے کراچی میں اپنے گھر سے بھاگ کر پشاور آ گئے تھے۔ یہاں آنے کا مقصد ہیروئن کی آسان اور سستی فراہمی تھی۔ وہ پشاور میں کارخانوں بازار اور باڑہ گیٹ کے قریب سڑک کنارے یا ویران جگہوں پر رہنے لگے۔’باپ کی بات نہ ماننے کی سزا ملی‘عنایت بتاتے ہیں کہ ’کراچی میں میری دکان تھی، میں یومیہ ایک سے ڈیڑھ ہزار روپے تک کما لیتا تھا۔ گھر کا خرچ اچھے طریقے سے چلاتا تھا لیکن یار دوستوں کے ساتھ نشے کی لت لگ گئی تھی بس پھر کیا تھا نشے کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تھا۔‘عنایت الرحمان نے مزید بتایا کہ ان کے والد نے انھیں بہت منع کیا کہ ’بیٹا نہ کرو ایسا۔۔۔ پھر بہت پچھتاؤ گے۔ لیکن میں نے اپنے باپ کی بات نہیں مانی، یہی وجہ ہے کہ دیکھومیں اب کہاں پڑا ہوں، میری حالت دیکھو کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہوں۔‘عنایت نے کہا کہ ’کسی نے میری طرف ہمدردی سے نہیں دیکھا۔ کوئی میرے قریب نہیں آیا کہ تم یہاں گندگی کےڈھیر پر زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ لوگ ہم سے ڈرتے تھے، قریب نہیں آتے تھے بڑی مشکل زندگی گزاری ہے۔‘عنایت نے بتایا کہ ان کے والد نے کراچی میں اُن کا علاج بھی کروایا لیکن ’میری سمجھ میں اس وقت کچھ نہیں آ رہا تھا بس میں پشاور پہنچ گیا۔‘ان سے جب پوچھا گیا کہ پشاور کیوں آئے؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ یہاں ہیروئن بہت سستی مل جاتی تھی، اس کے علاوہ یہاں خیبر میں دکانیں تھیں جہاں ایک گرام ہیروئن دو سو روپے میں مل جاتی تھی۔‘عنایت نے بتایا کہ پشاور میں وہ گذشتہ 17 سال بھیک مانگتے رہے اور جو کمائی ہوتی تھی اس نشہ پورا کرتے تھے کبھی ایک گرام اور کبھی دو گرام ہیروئن لے لیتے تھے۔’یہ زندگی بہت مشکل تھی، اب بہت بیماریاں ہو گئی ہیں۔‘ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے شادی نہیں کی کیونکہ وہ کسی کی بیٹی کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔’ہمیں تو پتہ نہیں تھا عنایت زندہ ہے یا مردہ‘عنایت کا اپنے گھر والوں سے رابطہ اس سرکاری مہم کے نتیجے میں ہوا جس کے تحت پشاور میں نشے کے عادی افراد کو نشے کی لت سے چھڑوانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔کمشنر پشاور ریاض محسود کی جانب سے جاری اس مہم میں جب نشے کے عادی افراد کو بحالی مراکز میں لایا جاتا ہے تو ان کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی جاتی ہیں۔عنایت الرحمان کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ سوشل میڈیا پر جب عنایت کی ویڈیو سامنے آئی۔عنایت الرحمان کے بھائی ریاض خان نے کراچی سے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے جب ویڈیو دیکھی تو پشاور میں اپنے ایک جاننے والے کو فون پر بتایا کہ وہ جانچ پڑتال کرے کہ آیا واقعی وہ ان کا بھائی ہے اور جب تصدیق ہو گئی تو سب بھائی ان سے ملنے کے لیے پشاور پہنچ گئے۔انھوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی خوشی کا مقام تھا کیونکہ ہمیں تو یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ ہمارا بھائی زندہ ہے یا مر گیا ہے۔کیئر ہسپتال میں اُن کی ملاقات کے دوران جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ وہاں موجود اہلکاروں نے بتایا کہ وہ سب بھائی سے مل کر خوش تھے جبکہ عنایت الرحمان تو پہلے باتیں نہیں کر رہا تھا لیکن بھائیوں سے مل کر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور قہقہے لگاتا رہا۔عنایت الرحمان کے والد نے دو شادیاں کی ہیں اور یہ سات بھائی ہیں۔ عنایت نے بتایا کہ ان کے والد اور والدہ فوت ہو چکے ہیں، سوتیلی والدہ اور سوتیلے بھائی زندہ ہیں اور وہ اب ان کے پاس جائے گا۔عنایت الرحمان نے سوتیلی والدہ سے فون پر بات کی تو یہی کہتا رہا ’گڈ شاٹ‘ اور اُن کا حال احوال لیتا رہا۔ ان سے پوچھا کہ بابا فوت ہو گئے ہیں اور بڑا بھائی بھی اب اس دنیا میں نہیں رہا۔عنایت الرحمان اب کراچی اپنے گھر جانے کے لیے بےتاب ہیں اور وہ بھائیوں سے بار بار یہی کہتے ہیں کہ وہ اسے کراچی لے کر جائیں کیونکہ وہ مزید یہاں نہیں رہنا چاہتا، لیکن یہ علاج چار ماہ کا ہے اور عنایت الرحمان کو چار ماہ تک یہاں اسی ہسپتال میں رہنا پڑے گا۔بحالی کے مرکز میں ایک سو افراد کے قریب ایسے افراد کا علاج ہو رہا ہےجن کی عمریں 15 سے 20 سال کے درمیان بتائی گئی ہےنشے کے عادی افراد کی صحت کی بحالی مہمیہ صرف عنایت الرحمان کی کہانی نہیں ہے بلکہ پشاور میں جاری حالیہ مہم میں 961 نشے کے عادی افراد کا علاج ہو رہا ہے اور یہ علاج مختلف مراکز میں جاری ہے۔اُن میں 60 کے قریب ایسے افراد تھے جن کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا اس لیے انھیں اپنے صوبے میں بھیج دیا گیا ہے۔کمشنر پشاور ریاض محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے لیے چند ماہ سے کام جاری تھا اور اس میں فنڈز کی دستیابی اور صوبے میں علاج کے مراکز کے علاوہ سرکاری محکموں کے عہدیداروں کو ساتھ ملایا گیا اس کے علاوہ اہم افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جس نے اس پروگرام کو ترتیب دیا اور اس کو حتمی سطح تک لے جانے کے لیے کام کیا گیا تاکہ یہ لوگ دوبارہ نشے کی طرف نہ آ سکیں۔اس لیے ان کے روزگار کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کو بھی ساتھ رکھا اور نشے کے عادی افراد کے اہم مراکز پر چھاپے مارے اور ان افراد کو ان مراکز میں لایا گیا۔انھوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ساڑھے گیارہ سو افراد کا علاج مکمل ہوا اور انھیں ان کے خاندان کے افراد کے حوالے کیا گیا اور ان میں سے کچھ کو روزگار بھی فراہم کیا گیا ہے۔بحالی مراکز میں کیا ہو رہا ہے؟عنایت الرحمان کا ان دنوں ایک منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے قائم کیئر ہسپتال میں جاری ہے۔ ان کے علاوہ اس ہسپتال میں مزید 140 منیشات کے عادی افراد بھی موجود ہیں۔ اُن میں ایسے مریض ہیں جو چار، پانچ سالوں سے اپنے گھر والوں سے نہیں ملے۔ایک شخص پانچ سال سے نشے کا عادی ہے اور وہ اپنے گھر نہیں گیا جب ان کے گھر سے رابطہ کیا تو ان کی والدہ فورا مرکز پہنچیں اور اپنے بیٹے سے مل کر رونے لگیں۔اس وقت زیر علاج افراد میں سات خواتین ہیں اور لگ بھگ ایک سو افراد ایسے ہیں جن کی عمریں 15 سے 20 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔ ان مراکز میں داخلً افراد کو کھانا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح انھیں کھیل کی سہولت اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے علاوہ ان کا نفسیاتی علاج میں بھی کیا جاتا ہے۔ان مراکز میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے ساتھ ساتھ ماہرین نفسیات موجود ہوتے ہیں جو ان مریضوں کی نفسیات کے مطابق ان کی کونسلنگ کرتے ہیں۔ کیئر ہسپتال میں موجود ماہر نفسیات عائشہ طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں جب مرکز لایا جاتا ہے تو ابتدائی 15 دنوں تک ان کا طبی علاج ہوتا ہے اور ان میں مختلف قسم کے جسمانی اورذہنی مسائل ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا ان افراد کا مکمل جائزہ لیا جاتا ہے اور جس طرح کے علاج یا کونسلگ کی ضرورت ہوتی ہے وہ فراہم کی جاتی ہے۔ان کے نفسیاتی مسائل میں بھول جانا، غصہ ہونا، مکمل خاموشی اختیار کرنا، تشدد پر اتر جانا اور دیگر مسائل شامل ہوتے ہیں اور عام طور پر انھیں پہلے 15 دن تک علیحدہ اور ادویات پر رکھا جاتا ہے اور جب یہ لوگ اس فیز سے نکل آتے ہیں تو انھیں پھر ماہرین نفسیات کے حوالے کیا جاتا ہے جہاں ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے اور ان کی تھراپی کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

کون سے قیدیوں کی سزائوں میں کمی کافیصلہ کیاگیا ہے،تفصیلات اس خبر میں

کون سے قیدیوں کی سزائوں میں کمی کافیصلہ کیاگیا ہے،تفصیلات اس خبر میں

فیصل واؤڈا کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا بڑافیصلہ ،تفصیل جانئے اس خبر میں

فیصل واؤڈا کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا بڑافیصلہ ،تفصیل جانئے اس خبر میں

افغانستان میں پاکستان کے سفارتی عملے کی حفاظت انتہائی اہمیت کی حامل ہے،وزیرخارجہ

افغانستان میں پاکستان کے سفارتی عملے کی حفاظت انتہائی اہمیت کی حامل ہے،وزیرخارجہ

انگلینڈ کے خلاف ملتان ٹیسٹ کیلئے قومی ٹیم میں 2 سے 3 تبدیلیوں کا امکان

انگلینڈ کے خلاف ملتان ٹیسٹ کیلئے قومی ٹیم میں 2 سے 3 تبدیلیوں کا امکان

خیبرپختونخوا میں پینشن کا بوجھ آنیوالے دنوں میں کتنے ارب ہوجائیگا؟تفصیل اس خبر میں

خیبرپختونخوا میں پینشن کا بوجھ آنیوالے دنوں میں کتنے ارب ہوجائیگا؟تفصیل اس خبر میں

برطانوی اخبار نے شہباز شریف سے معافی کیوں مانگ لی؟جانئے اس خبر میں

برطانوی اخبار نے شہباز شریف سے معافی کیوں مانگ لی؟جانئے اس خبر میں

وفاقی وزیرنے عمران خان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا

وفاقی وزیرنے عمران خان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا

تحریک انصاف کے رہنما کا اتحادی جماعت ق لیگ کے حوالے سے بڑا بیان سامنے آگیا

تحریک انصاف کے رہنما کا اتحادی جماعت ق لیگ کے حوالے سے بڑا بیان سامنے آگیا

امریکاکاپاکستان کے حوالے سے ایک اور بڑابیان سامنے آگیا

امریکاکاپاکستان کے حوالے سے ایک اور بڑابیان سامنے آگیا

ایک اوربھارتی اداکارہ نے اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دیا

ایک اوربھارتی اداکارہ نے اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دیا

انگلینڈ کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان ٹیم کوبڑا دھچکا

انگلینڈ کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان ٹیم کوبڑا دھچکا

وفاقی کابینہ کااجلاس جاری،ایجنڈا کیاہے؟تفصیل اس خبر میں 

وفاقی کابینہ کااجلاس جاری،ایجنڈا کیاہے؟تفصیل اس خبر میں 

کس ملک کا سیکورٹی گارڈ اپنی فٹبال ٹیم کی جیت کیلئے دعائیں مانگتارہا؟

کس ملک کا سیکورٹی گارڈ اپنی فٹبال ٹیم کی جیت کیلئے دعائیں مانگتارہا؟

اہم ترین شہر کے بازار سے ایک ساتھ 10موٹرسائیکلیں چوری،جانئے اس خبر میں

اہم ترین شہر کے بازار سے ایک ساتھ 10موٹرسائیکلیں چوری،جانئے اس خبر میں