05:15 pm
فوڈ پانڈا کے رائیڈر محمد نعمان اور ڈاکوئوں کی خدا ترسی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ‎

فوڈ پانڈا کے رائیڈر محمد نعمان اور ڈاکوئوں کی خدا ترسی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ‎

05:15 pm

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک وڈیو کافی مقبول ہو رہی ہے۔ یہ وڈیو کراچی میں ایک سی سی ٹی وی فوٹیج کی ہے جس میں فوڈ پانڈا کے ایک ڈلیوری رائیڈر کو لوٹنے کی کوشش کی گئی۔ محمد نعمان 15 جون کو ناظم آباد کے سیکٹر ون میں ڈلیوری کے لئے گیا تو موٹرسائیکل پر سوار دو افراد نے اسے روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔پاکستان میں اس طرح کے مناظر آئے دن کی بات ہیں لیکن اس واقعہ کی دلچسپ بات یہ ہے جس نے پورے ملک کو حیران کر دیا،
کہ پہلے تو ڈاکو ڈلیوری رائیڈر سے سب کچھ لوٹ رہے تھے جبکہ لوگ آس پاس سے گزر رہے تھے لیکن اچانک ہی انہوں نے ڈلیوری رائیڈر کو گلے سے لگایا، اس سے ہاتھ ملائے اور اس کی تمام چیزیں اسے واپس کر دیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اسی وقت محمد نعمان نے رونا شروع کر دیا اور ان کی منت سماجت کی کہ وہ اس کی چیزیں واپس کر دیں۔ ڈاکوئوں کو اس پر رحم آ گیا اور انہوں نے واقعی سب کچھ واپس کر دیا۔ خود نعمان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ پہلے تو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر خیال آیا یہ کوئی جاننے والے ہیں کیونکہ وہ میرے پاس آئے اور مجھے سلام کیا اور میرا حال چال پوچھا۔ پھر جب مجھے اندازہ ہوا کہ کیا چل رہا ہے اوروہ اپنا کام کر کے جانے لگے تو میں نے ان سے کہا میرا فون اور پیسے ہی واپس کر دیں اور پھر میں رو پڑا۔ اس پر شاید ان لوگوں کو رحم آ گیا اور انہوں نے سب چیزیں واپس کر دیں۔ فوڈ پانڈا کے سی ای او نعمان سکندر مرزا کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ رائیڈر ہمارے اصل کارکن اور ہیرو ہیں۔ یہ دلیر لوگ روزانہ مشکل حالات میں بھی لوگوں کو ان کے گھروں تک کھانے پینے کی چیزیں پہنچاتے ہیں تاکہ آپ کو باہر نہ نکلنا پڑے اور آپ اور آپ کے اہل خانہ کرونا وائرس سے محفوظ رہیں۔ اس واقعہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ شکر ہے کہ نعمان محفوظ ہے اور اس کی چیزیں اسے واپس مل گئیں لیکن میں حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمارے محنتی کارکنوں کو تحفظ دینے کے لئے مزید اقدامات کریں۔ نعمان مرزا نے بتایا کہ فوڈپانڈا اپنے تمام رائیڈرز کو روڈ سیفٹی کی تربیت، کرونا وائرس کا حفاظتی سامان، صحت اور حادثاتی موت کا بیمہ دیتا ہے جو تمام رائیڈرز کو مفت دیا جاتا ہے۔ کہیں اگر کسی رائیڈر کے ساتھ لوٹ مار کا واقعہ ہو جائے تو رائیڈر ٹکٹنگ پلیٹ فارم پر ایف آئی آر کی کاپی فراہم کرنے پر اس کی لوٹی ہوئی رقم معاف کر دی جاتی ہے اور تمام خرچ فوڈپانڈا برداشت کر لیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہررائیڈر چار سے پانچ کلومیٹر کے محدود علاقے میں کام کرتا ہے تاکہ اسے پٹرول کی بچت ہو جبکہ متعلقہ شعبہ ہر رائیڈر کی آمدنی کا خیال رکھتا ہے اور انہیں باقاعدگی سے بونس بھی دئیے جاتے ہیں۔ کرونا وائرس کی وباء کے دوران کئی ادارے اپنے ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں لیکن فوڈپانڈا، پاکستان کی ان چند کمپنیوں میں سے ایک ہے جو ایسے علاقوں میں رہنے والے رائیڈرز کو امدادی رقم اور راشن فراہم کر رہا ہے جہاں لاک ڈائون کے باعث کاروبار زندگی معطل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مایہ ناز فوڈ ڈلیوری کمپنی ہونے کے ناطے فوڈپانڈا ملک بھر میں کام کرنے والے اپنے پندرہ ہزار سے زائدرائیڈرز کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بناتا ہے۔ حالیہ واقعہ پر کچھ تسلی سی ہوئی ہے کہ پاکستانی ڈاکوئوں کے سینے میں بھی دل ہیں اور وہ بھی ایمانداری سے روزی کمانے والوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔