کنگ آف کامیڈی، امان اللہ

کنگ آف کامیڈی، امان اللہ

اسلام آباد (احمد ارسلان )طنزومزاح بیک وقت کئی ڈائمنشنز رکھتا ہے ، اس میں ہنسنے ہنسانے اور زندگی کی تلخیوں کو قہقہے میں اڑانے کی سکت بھی ہوتی ہے اور مزاح کے پہلو میں زندگی کی ناہمواریوں اورانسانوں کے غلط رویوں پر طنز کرنے کا موقع بھی ۔ طنز اور مزاح کے پیرائے میں ایک تخلیق کار وہ سب کہہ جاتا ہے جس کے اظہار کی عام زندگی میں توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔پاکستان اس حوالے سے بڑا ہی زرخیز ملک ہے ۔ اس خطہ ارض پر ایسے ایسے با کمال کامیڈین پیدا ہوئے جنہوں نے اس سوہنی دھرتی پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام خوب روشن کیا ۔ امان اللہ کا شمار بھی صف اول کے انہیں اداکاروں میں ہوتا ہے جن کا نام کسی بھی تھیٹر، شو یا پروگرام کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ۔ امان اللہ خان 1950کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد معروف لوک گلوکار طفیل نیازی کے گہرے دوستوں میں سے تھے ،وہ کہتے ہیں کہ طفیل نیازی داتا دربار پر ایک کچے تھیٹر میں پرفارم کر رہے تھے اور میں والد صاحب کیلئے کھانا لے کر وہاں پہنچا تبھی طفیل نیازی نے میرا ہاتھ پکڑا اور سٹیج پر کھینچ لیا ، میں نے پوچھا میں یہاں کیا کروں گا؟کہنے لگے وہی سب جو تم گھر میں کرتے ہو ۔ عوام کے سامنے یہ امان للہ کی پہلی پرفارمنس تھی جس میں انہیں 18روپے ملے اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔ ایک وقت تھا جب جب پاکستانی تھیٹرز میں عوام کا جم غفیر ہوتا تھا، کیا خواتین ، کیا نوجوان ، بچے اور بوڑھے۔ پاکستانی بڑے ذوق و شوق کیساتھ اسٹیج ڈرامے دیکھا کرتے تھے مگر صد افسوس کہ اس فن کو بل کھاتی کمر اور لہراتی زلفوں کے حوالے کر کے پاکستانیوں سے ان کی بہترین تفریح چھین لی گئی تاہم سٹیج ڈراموں کا عروج ہو یا زوال ، امان اللہ تب بھی دلوں میں راج کرتا تھا اور آج بھی ٹیلی ویژن پروگرامز کی ریٹنگ کا اکا سمجھا جاتا ہے۔ امان اللہ نے کامیڈی اس وقت شروع کی جب ٹی وی اور ریڈیو عوام میں عام نہ تھے اور سٹیج ڈرامے ہی لوگوں میں مقبولیت کا واحد اورنہایت مشکل میڈیم تھے تاہم اس دور میں بھی اس بیباک کامیڈین نے اپنی بہترین سٹینڈ اپ کامیڈی کے ذریعے اپنا نام یو ں گھر گھر پہنچایا کہ صدر پاکستان شہید ضیا الحق کے کانوں تک بھی اس کے نام کی گونج گئی ۔ وہ لاہور تشریف لائے تو اس وقت کے سیکریٹری انفارمیشن جاوید قریشی کو حکم دیا کہ امان للہ کو حاضر کیا جائے ۔ ایک طرف صدر پاکستان کا حکم تھا تو دوسری جانب امان اللہ جو کسی کا اثر قبول کیے بغیر بڑے بڑے لوگوں کی دھجیاں اپنا بنیادی حق سمجھتے ہوئے اڑایا کرتا تھا ۔ سیکریٹری صاحب کے ذہن میں ایک زلزلہ سا آگیا ، خیر امان اللہ کو بڑا سمجھا بجھا کر صدر صاحب کے سامنے محض 3منٹ کی پرفارمنس دینے کیلئے بھیجا گیا ۔ شروع کے 1,2منٹ تو تعارف میں گزرے اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا ۔ امان اللہ نے 72منٹ تک انتہائی سخت گیرصدر پاکستان کے سامنے اپنے مخصوص انداز میں روائیتی ادب آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جگتوں اورطنزیہ فقروں سے جنرل صاحب کی ایسی کلاس لی کہ جاوید قریشی کو مائنر ہارٹ اٹیک آ گیا تاہم جنرل صاحب اس نشست سے خوب محضوظ ہوئے اور آخر میں کھڑے ہوکر امان اللہ کو داد بھی دی ۔ امان اللہ گزشتہ 28سال سے مسلسل ہر رات کو کسی نہ کسی پروگرام کی زینت بنتے ہیں اور اگر وہ کسی رات کسی پروگرام میں نہ ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہوائی سفر میں ہیں اور اگلی رات وہ دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں اپنے مداحوں کے بیچ گھرے ہونگے ۔ ٹیلی ویژن وہ میڈیم ہے جس نے امان اللہ سمیت دنیا کے بڑے بڑے فنکاروں کو بچے بچے سے روشناس کروایا ۔ کامیڈی کنگ امان اللہ یوں تو پاکستان میں ٹیلی ویژن کے آغاز سے ہی مختلف پروگراموں میں اپنی کامیڈی کا سحر عوام الناس پر پھونکتے رہے مگر باقائدہ طور پہلی مرتبہ جنگ گروپ کیساتھ 2010میں منسلک ہوئے جس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی ٹی وی چینلز کو رونق بخشی ۔ فارسی کی ایک کہا وت ہے ’’ کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی ‘‘ کہ اگر تم اپنے فن کو کمال تک پہنچا سکو تو یہ ساری دنیا تم سے محبت کرنے پر مجبور ہو جائےگی اور اگر اس عظیم فنکار کے بارے میں اس کے ہم عصر کامیڈینز سے رائے لی جائے تو اکثریت کا یہ کہنا ہے کہ امان اللہ کسی شخصیت کانام نہیں بلکہ وہ اپنے اندر ایک پوری اکیڈمی رکھتاہے ، ان کے مطابق ان میں سے اکثر اس کے باقائدہ شاگرد نہ سہی لیکن وہ اس کے ساتھ بیٹھ کراور اس کی پرفارمنس دیکھ کر اپنے لیے نئی راہوں کا انتخاب کرتے ہیں گویا کہ اس کی اداکاری بھی ان کیلئے ایک کامل استاد کی حیثیت رکھتی ہے اور حقیقتاً یہ کسی بھی صاحب فن کو داد دینے کا بہترین اور با وقار طریقہ ہے ۔