"

کرونا وائرس کا علاج سو سال پہلے ہی دریافت ہوچکا ؟ حیران کن خبر

نئے نوول کورونا وائرس کی دنیا میں پھیلنے کی رفتار سائنسدانوں کی توقعات سے بھی زیادہ ہے اور وہ اس بارے میں مسلسل جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایسے کونسے عناصر ہیں جو اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی شرح میں تیزی سے اضافہ کررہے ہیں۔۔۔گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہونے والا یہ وائرس اس وقت لگ بھگ دنیا بھر میں پھیل چکا ہے جس سے 3 لاکھ سے زائد افراد متاثر جبکہ 13 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس وبا کے نتیجے میں مختلف ممالک سمیت پاکستان میں بھی میں لاک ڈائون کیا جاچکا ہے۔۔۔ ناظرین دنیا بھر کے ڈاکٹرز طبی ماہرین اس مہلک وائرس کی ویکسین بنانے میں مصروف ہیں لیکن تا حال اس وائرس کا کوئی خاص علاج سامنے نہیں آپایا ہے۔ ایسی سورتحال میں امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق نے طبی ماہرین اور انسانوں میں امید کی ایک کرن پیدا کی ہے۔۔۔یہ ریسرچ کیا ہے اور اس میں اس وائرس کو شکست دینے کے لئے کونسا طریقہ اپنایا گیا ہے یہ سب آج اس ویڈیو میں آُپکو بتائنگے۔۔۔۔ناظرین امریکا میں ہونے والی ایک ایسئ طبی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں ایک صدی پرانے طریقے سے کورنا وائرس کو شکست دینے کی کوشش کی جائیگی۔۔۔ اس تحقیق کے مطابق نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کا خون سنگین حد تک بیمار مریضوں کے علاج بلکہ دیگر کو اس کا شکار ہونے سے بچا سکے گا۔ واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کے سائنسدان اس وقت حکومتی منظوری کے منتظر ہیں تاکہ وہ اس بیماری کو شکست دینے والے مریضوں کے بلڈپلازما کو انسانوں پر آزمائش کرکے دیکھیں کہ یہ طریقہ کار مدافعتی نظام کو بڑھانے میں کس حد تک مدد دیتا ہے۔ اس طریقہ کار کو 1918 کے اسپینش فلو کی وبا کے دوران ویکسین یا اینٹی وائرل ادویات کی دستیابی سے پہلے استعمال کیا گیا تھا۔ اس طریقہ کار میں اس حقیقت کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ صحت ند مریضوں کے خون میں ایسے طاقتور اینٹی باڈیز ہوتے ہیں جو وائرس کو لڑنے کی تربیت رکھتے ہیں۔ خیال رہے کہ اس وقت نئے نوول کورونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہیں جبکہ ویکسین کی دستیابی اس سال کے آخر یا اگلے سال کی پہلی ششماہی تک ممکن نظر نہیں آتی۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جیفری ہینڈرسن کے مطابق 'حال ہی میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کیے گیے سیرم کا استعمال بہت پرانی سوچ محسوس ہوتی ہے، مگر تاریخی طور پر یہ کارآمد طریقہ ہے'۔ انہوں نے مزید کہا 'اسے استعمال کرکے ہم وائرس انفیکشن جیسے خسرہ، پولیو اور انفولائنزا کی روک تھام اور علاج میں کامیاب رہے، مگر جب ایک بار ویکسین تیار ہوگئی تو یہ تیکنیک فراموش کردی گئی'۔ ان کا کہنا تھا 'جب تک کووڈ 19 کے حوالے سے مخصوص ادویات اور ویکسین تیار کریں گے، یہ طریقہ کار اس وقت تک زندگیاں بچانے میں مدد دے سکے گا'۔ اسپینش فلو کی عالمی وبا کے دوران ڈاکٹروں کے پاس کوئی علاج موجود نہیں تھا تو انہوں نے صحت یاب ہونے والے مریضوں کا بلڈ سیرم استعمال کرکے متعدد افراد کو صحت یابی میں مدد دی۔ بلڈپلازما اور سیرم خون کے شفاف سیال پر مشتمل ہوتے ہیں اور دونوں اینٹی باڈیز سے لیس ہوتے ہہیں، مگر پلازما میں چند ایسے دیگر مددگار پروٹینز بھی ہوتے ہیں جو سیرم میں نہیں ہوتے۔ اس طریقہ کار کو 2002 اور 2003 میں سارز کورونا وائرس کی وبا کے علاج کے لیے تجرباتی طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ سارز وائرس کو اس نئے کورونا وائرس سے ملتا جلتا قرار دیا جاتا ہے بلکہ اسے سارز کورونا وائرس 2 کا نام دیا گیا ہے۔ سارز کی وبا کے دوران ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن مریضوں کو بلڈ پلازما دیا گیا، وہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے صحت یاب ہوئے۔ واشنگٹن یونیورسٹی سے قبل جونز پوپکنز یونیورسٹی اور مایو کلینک بھی کووڈ 19 کے حوالے سے اس طریقہ کار پر ٹرائل شروع کیے تھے۔ ان کی جانب سے امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو 18 مارچ کو سفارشات جمع کرائی گئی تھیں اور وہ انسانوں پر اس کی آزمائش کے لیے اجازت کے منتظر ہیں۔ ڈاکٹر جیفری اینڈرسن نے بتایا کہ یہ ایسا قدم ہے جس پر فوری عمل کرنے کی ضرورت ہے، یہ ادویات کی تیاری سے زیادہ تیز ہے کیونکہ اس کے لیے بس پلازما کے عطیے اور پیوندکاری کی ضرورت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا 'جیسے ہی کوئی فرد کووڈ 19 سے صحت یاب ہوکر ہمارے ارگرد گھومے گا، تو وہ ہمارے کے لیے ممکنہ ڈونر ہوگا اور ہم بلڈبینک سسٹم کو پلازما کے حصول کے لیے استعمال کرکے اسے ضرورت مند مریضوں میں تقسیم کیا جاسکے گا، اگر یہ طریقہ کارآمد ہوا، یہ اس وبا کے ابتدائی مرحلے میں لائف لائن فراہم کرسکے گا'۔ تحقیقی ٹیم اب صحت مند مریضوں سے خون کے عطیے کی درخواست کرنے والے ہیں، جس میں سے ہلازما کو الگ کیا جائے گا اور زہریلے مواد اور وائرس کی اسکریننگ کے بعد اسے بیمار افراد میں منتقل کیا جائے گا۔۔۔۔