"

کرونا پوری دنیا میں پھیلا لیکن سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہی کیوں ہوئی؟ پاکستان کو اٹلی سے بھی زیادہ خطرہ؟

کرونا پوری دنیا میں پھیلا مگر سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہی کیوں ہوئیں ؟ اٹلی کے بعد پاکستان اٹلی سے بھی زیادہ خطرے میں کیوں ہے ؟ لرزا دینےوالے حقائق سامنے آگئے اٹلی کے فٹبال کلب اٹلانٹا کی تاریخ کا سب سے بڑا میچ تھا اور بیرگامو شہر کی ایک تہائی آبادی میلان کے مشہور سان سیرو سٹیڈیم میں پہنچ گئی۔اٹلی کے کلب کا میچ سپین کی ٹیم ویلنسیا سے تھا جس کے ڈھائی ہزار کے قریب مداح بھی سفر کرکے چیمپئنز لیگ کے میچ میں شرکت کے لیے پہنچے۔ 19 فروری کو ہونیوالے میچ کے ایک ماہ بعد اب اسے نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کا مرکز بیرگامو کو بنانیکی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ ایک طبی ماہر نے اسے’حیاتیاتی بم‘ قرار دیا ہے جس نے ویلنسیا کی 35 فیصد ٹیم کو کووڈ 19 کا شکار بنادیا۔میلان میں ہونیوالے میچ کو اطالوی میڈیا کی جانب سے گیم زیرو قرار دیا جارہا ہے جو اٹلی میں مقامی طور پر وائرس سے متاثر ہونیوالے پہلے کیس سے 2 دن پہلے کھیلا گیا تھا۔ بیرگامو کے میئر گیوجیو جوری نے فارن پریس ایسوسی ایشن سے فیس بک پر لائیو بات کرتے ہوئے کہا وسط فروری میں ہمیں حالات کا درست اندازہ نہیں تھا۔ اگر یہ بات درست ثابت ہوجاتی ہے تو اسکا مطلب ہوگا کہ یورپ میں یہ وائرس جنوری میں ہی پھیل چکا تھا اور میچ میں شریک 40 ہزار افراد نے اس وائرس کو ایک دوسرے کے تقسیم کیا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ اٹلی کے اس شہر کے سیکڑوں شہری رات بھر گھروں اور ہوٹلوں میں اکٹھے ہوکر میچ دیکھتے رہے ہوںگے۔ میئر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم نہیں جانتے تھے، کوئی نہیں جاتنا تھا کہ وائرس پہلے ہی یہاں پہنچ چکا ہے۔ اس میچ کے بعد ایک ہفتے کے اندر ہی بیرگامو میں اولین کیسز سامنے آئے اور اسی وقت ویلنسیا سے آنیوالا ایک صحافی اس خطے کو کووڈ 19 سے متاثرہ دوسرا شخص بنا، اور اس سے رابطے میں رہنے والے بھی اس وائرس کا شکار ہوگئے، جس میں میچ میں شریک ویلنسیا کلب کے مداح بھی شامل تھے۔ اٹلانٹا نے پہلے مصدقہ کیس کی تصدیق منگل کو کی مگر ویلنسیا میں ایک تہائی سے زیادہ سکواڈ وائرس سے متاثر ہوا۔ کورونا وائرس سے اٹلی میں مزید چھ سو تراسی افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور مجموعی تعداد سات ہزار پانچ سو تین ہوگئی ہے جسکے نتیجے میں یہ اس وبا سے اٹلی میں متاثر ہونے والا سب سے بدترین خطہ بن چکا ہے۔ ویلنسیا کے خطے میں بھی ابتک 26 سو سے زائد افراد کووڈ 19 سے متاثر ہوچکے ہیں۔ بیرگامو کے ایک ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ کے سربراہ لوکا لورینی کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ میچ میں شریک ہزروں افراد نے ایک دوسرے سے گلے ملیں گے ہوں گے، وہ بھی ایک یا دو نہیں بلکہ 4 بار، کیونکہ اٹلانٹا نے 4 گول سکور کیے، اس سے یقیناً وائرس کے پھیلنے کا عمل بہت تیز ہوگیا ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں، جب امن کا وقت آئیگا، تو میں آپکو بتائوںگا کہ ان 40 ہزار میں سے کتنے افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے، مگر اس وقت ہماری ترجیحات مختلف ہیں۔ اٹلی کے سپرئیر انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے سربراہ سلویو بروسفیرو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ میچ بیرگامو میں وائرس کے پھیلائو کی ایک وجہ ہوسکتا ہے اور اس حوالے سے تجزیہ یقیناً کیا جائیگا۔خیال رہے کہ اٹلی یورپ میں اس وبا سے متاثر سب سے بڑا ملک ہے جہاں 70 ہزار افراد بیمار جبکہ 7 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوچکی ہیں جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ سپین یورپ میں دوسرا سب سے زیادہ متاثہر ملک ہے جہاں 48 ہزار افراد متاثر جبکہ ہلاکتیں بھی چین سے زیادہ 34 سو سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ دنیا بھر میں ابتک اس وائرس سے 4 لاکھ 35 ہزار سے زائد افراد بیمار جبکہ 20 ہزار کے قریب ہلاک ہوچکے ہیں، صحت یاب افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ بیرگامو کے ایک ہسپتال کے وبائی امراض کے شعبے کے سربراہ فابینو ڈی مارکو نے کہا اس میچ کے حوالے سے میں نے متعدد خیالات سنے ہیں اور اب اپنی تھیوری بتاتا ہوں، 19 فروری کو 40 ہزار افراد یہ میچ دیکھنے میلان کے سٹیڈییم میں بسوں، گاڑیوں اور ٹرینوں سے پہنچے، بدقسمتی سے یہ ایک حیاتیاتی بم ثابت ہوا۔ ناظرین اٹلی میں مبینہ طور پر جس طرح ایک میچ نے تباہی مچائی وہیں پاکستان میں بھی کرونا کے خطرے کے باوجود رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع منعقد ہو ا ۔ گو کہ اس اجتماع کو بیچ میں ہی منسوخ کر دیا گیا تھا مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق اجتماع منسوخ ہونے سے قبل اس میں دنیا بھر سے آئے مسلمانوں سمیت پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد کم و بیش ڈھائی لاکھ کے قریب مسلمان موجود تھے اور پھر چند روز بعد ہی اسلام آباد کے نواحی علاقے بھارہ کہو میں تبلیغی جماعت کے 12 کے قریب لوگوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ اسی اجتماع میں شریک 2فلسطینی مسلمان بھی کرونا کا شکار ہوئے ۔ گو کہ ابھی پاکستان میں کرونا سے اموات کی تعداد 8کے لگ بھگ ہے تاہم اٹلی میں 40ہزار لوگوں کا ہجوم اور اس کی تباہ کاریاں اور پاکستان میں ڈھائی لاکھ لوگوں کا اجتماع ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر کب پاکستانی اس وبا کی سنگینی کو سمجھ سکیں گے ۔