"

پاکستان کی مشہور ترین اداکارہ انجمن شہزادی کی کہانی

پاکستانی تاریخ کی فحش ترین اداکارہ انجمن شہزادی کی پراسرار موت اور خوفناک کیڑوں کی بارش ، ان کی قبر پر جانے والوں نے ایسا کیا دیکھا کہ توبہ استغفار کرنے لگے ،واقعی یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے یہ عبرت کی جاہے تماشا نہیں ہے ۔ ناظرین دنیا کی زندگی بے حد مختصر ہے ۔ کب شروع ہوئی اور کب ختم لگتاہے جیسے بس پلک جھپکنے تک کا وقت ہو۔ اسلام اس حوالے سے ہمیں جو احکامات دیتا ہے وہ بہت صاف اور خوبصورت ہیں جن کے مطابق زندگی گزار کر ہم نہ صرف دنیا میں عزت و احترام پا سکتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی رب کائنات کے سامنے سر خرو ہو سکتے ہیں کہ مالک جو تونے احکامات دیے ان پر ہم نے عمل کیا ۔ اس دنیا ئے آب و گل میں زندگی کا پہیہ چلانے کیلئے کچھ ایسی شعبے بھی ہیں جنہیں میعوب سمجھا جاتا ہے ۔ گو کہ یہ شعبے کُلی طور پر ایسے نہیں ہیں کہ انہیں برا سمجھا جائے تاہم ایسے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں جن کے کام کی وجہ سے پورا کا پورا شعبہ تنقید کی زد میں آجا تا ہے اور لوگ اس شعبہ کے تذکرے کو بھی وقت کا ضیان سمجھتے ہیں ۔ ایسے چند شعبوں میں سٹیج کا چکا چوند روشنیوں سے آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا شعبہ بھی ہے ۔ ایک وقت ایسا تھا جب یہ شعبہ فیملی کی سب سے بہترین انٹرٹینمنٹ سمجھا جاتا تھا لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ سب بدلتا گیا ۔ خوبصورت اورسلجھے ہوئے مذاق کی بیہودہ رقص اور ذومعنی مذاق نے لے لی ۔ اب یہ شعبہ اس قدر غلیظ ہو چکا ہے کہ جس میں وقتی شہرت کیلئے سٹیج آرٹسٹ چاہے وہ مرد ہوں یا خواتین ، ہر طرح کے کام کر گزرتے ہیں یہاں تک کہ وہ فحش حرکات اور فحش جملوں کے استعمال سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس انڈسٹری میں خواتین زیادہ بدنام ہیں کیونکہ ان کے فحش جملوں ، ادائوں اور رقص نے اس خوبصورت شعبے کو جتنا ہو سکا اتنا غلیظ بنا دیا کہ اب کوئی بھی ذی شعور شخص ایسی پرفارمنس دیکھنا نہیں چاہے گا ۔ ایسے اداکاروں کی فنی زندگی بے حد مختصر اور زندگی کا اختتام اکثر و بیشتر دردناک ہی دیکھنے میں آیا ہے ۔ اب سٹیج کی کوئین سمجھی جانے والی انجمن شہزادی کو ہی لے لیجئے ۔ انجمن کا اصل نام عظمیٰ یاسمین تھا اور انہوں نے 2000ء میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا ، انہوں نے سو سے زائد اسٹیج ڈراموں میں اپنے ہنر کا مظاہرہ کیا ۔ انجمن شہزادی نے اسٹیج پر کام کا آغاز کیا تو ابتدا میں انہیں انہیں کچھ خاص کامیابی نہ مل سکی کیونکہ اس دور میں اسٹیج نرگس جیسی صف اول کی اداکارہ کا راج تھا ۔ مگر آہستہ آہستہ انجمن شہزادی نے اپنے رقص میں بہتری لا کر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی ۔ انہیں ملک بھر کے نامور پروڈیوسرز نے اپنے ڈراموں میں کاسٹ کیا جس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوا ۔ اس کے بعد ان پر قسمت کی دیوی مہربان ہو گئی اور انہیں لالی ووڈ کے چند فلمسازوں نے اپنی آئٹم سانگ کے لئے کاسٹ کیا ۔ان فلموں میں لیڈی کمانڈو ، سوسائٹی گرل اور آوارہ حسینہ جیسی فلمیں شامل تھیں ۔ مگر پھر وہی ہوا جو اس شعبے میں ہوتا آیا ہے ۔ اداکارہ شہرت کا چسکا ایسا لگا کہ انہوںنے چند ڈرامے فلاپ ہونے پر فحش رقص ، مجروں اور بیہودہ مذاق پر مبنی ڈرامے شروع کیے جن کی سی ڈیاں ریلیز ہوتے ہی وہ زمین سے آسمان پر پہنچ گئیں اور پھر اداکارہ 15مئی 2011ی کو اچانک رات کو مردہ پائی گئیں ۔ انہوںنے اپنی زندگی میں بے پناہ شہرت اور پیسہ کمایا ، بے حد عیش و آرام بھری زندگی گزاری تاہم شاید وہ بھول چکی تھیں کہ ان کی آخری آرام گاہ ایک چھوٹی سی تنگ و تاریک قبر ہوگی۔ آج وہ کریم بلاک کے ایک قبرستان میں دفن ہیں جہاں قبرستان انتظامیہ کے مطابق ان کی قبر پر کوئی بھی نہیں آتا ۔ گو کہ ان کی پراسرار موت کا معمہ بھی آج تک حل نہ ہو سکا۔ انجمن کے گھر والے اسے قتل کہتے ہیں جبکہ ان کے شوہر قیصر نعیم کے مطابق ان کی موت منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہوئی ۔حقیقت جو بھی عظمیٰ نعیم المعروف انجمن شہزادی کی قبر کے گر د گندی اور ویران سی جھاڑیاں، ایک عجیب سی ویرانی ۔ قبر کے گرد چلتے پھرتے مکروہ سینکڑوں خوفناک کیڑے مکوڑے اور گھاس پھوس چیخ چیخ کر آنے والوں کو کہتے ہیں کہ ۔۔ یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے ۔ یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے۔