"

ساہیوال کی چودہ سالہ لڑکی کی دکھ بھری کہانی ۔

ساہیوال میں 14 سالہ بچی حاملہ ہو گئی متاثرہ بچی کے حاملہ ہونے پر اہلخانہ کو اس کے ساتھ زیادتی کا علم ہوا، بچی کا ٹیچر ڈرا دھمکا کر زیادتی کرتا رہا تفصیلات میں جانے سے قبل۔۔۔۔۔ ہمارے ہاں جتنے بھی حیوان ہیں ان سے بڑھ کرانسانوں کے روپ جوجنسی درندے گھوم رہے ہیں وہ زیادہ خطرناک ہیں، وطن عزیز میں روز بروز ایسے ایسے خوفناک حقائق و واقعات سامنے آتے ہیں جن کو شیطانیت و درندگی کے کھلے مظاہرے کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا،زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہوس کے پجاریوں نے معصوم بچوں کو بھی نہ چھوڑا۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایسے ایسے دل دہلا دینے والے سانحات رونما ہوتے ہیں، جن کو سن کر روح تک بھی تھرتھرا اٹھتی ہے مگروہ کیسے حیوان ہیں جو ان معصوم بچوں کو حوس کانشانہ بناڈالتے ہیں جن کی عمر بمشکل 5سال،6سال7سال11سال12سال بلکہ کوئی بھی ایسی عمرنہیں جس میں بچہ محفوظ ہو۔ سانحہ کشمور کو ہی دیکھ لیجیے جہاں ایک چھوٹی سی بچی کو دو افراد تین دن تک مل کر درندگی کا نشانہ بناتی رہی اسی طرح ساہیوال میں 14 سالہ غیر شادی شدہ لڑکی حاملہ ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق تھانہ نور کے علاقے میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں 14 سالہ بچی کے حاملہ ہونے پر انکشاف ہوا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔پولیس حکام کا کہناہے کہ تھانہ نور شاہ کے علاقہ میں 32 سالہ ملزم عباس گھر پر پڑھنے کے لیے آنے والی بچی کو ڈرا دھمکا کر زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم بچی کو دھمکیاں دیتے ہوئے زیادتی کرتا رہا یہاں تک کہ وہ حاملہ ہو گئی۔متاثرہ بچی کے حاملہ ہونے پر اہل خانہ کو زیادتی کا علم ہوا۔متاثرہ بچی کے حاملہ ہونے کے بعد اس سے پوچھ گچھ کی گئی جس پر اس نے ملزم کے بارے میں بتایا جس کے بعد لڑکی کے والد کی درخواست پر ایف آئی آر درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو پکڑ کر مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کریں گے۔ایک ایسا ہی شرمناک واقعہ کشمور میں بھی پیش آیا ہے۔ اور اسی طرح جیسے ہم نے پہلے ذکر کیا کشمور میں 4 سالہ بچی اور ماں اجتماعی زیادتی کے بعد فروخت کر دی گئیں۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے شہر کشمور میں ایک 4 سال بچی اور اس کی ماں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا خوفناک واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ واقعے کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلایا گیا اور پھر ماں اور 4 سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد فروخت کردیا گیا۔ بعد ازاں زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی انتہائی تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دی گئی جہاں ڈاکٹرز کی جانب سے بچی کی جان بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا ایک ملزم کو گرفتار کر لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے امکان ہے دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ملک میں سانحہ گجر پورہ کے دلخراش واقعے کے بعد حکومتی اور عوامی سطح پر ایسے جرائم کی روک تھام کیلئے آواز بلند کرنے سمیت عملی اقدامات کرنے کی کوشش کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر زیادتی کے دلخراش واقعات رپورٹ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق یومیہ گیارہ بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ماہرین نے اس امر پر افسوس کیا کہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کی درست تعداد سرے سے دستیاب ہی نہیں کیونکہ سماجی شرم و حیا کی وجہ سے اکثر واقعات سامنے نہیں لائے جاتے جسکی وجہ سے مجرمان بھی سزا سے بچ جاتے ہیں۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی بچوں کے ذہنوں پر ایسے نفسیاتی زخم چھوڑتی ہے جس سے اِن کی شخصیت نہ صرف جارحانہ ہو جاتی ہےبلکہ وہ ذہنی تناوکا شکار ہو کر منشیات اور بعض اوقات خودکشی کا راستہ اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو کے ناصرف ان مظلوموں کے لیے بلکہ صحت مند معاشرے کے بھی کسی ناسور سے کم نہی