"

کشمور میں پیش آیا ایک افسوسناک واقعہ

بیٹا آپ کا یہ حال کس نے کیا ہے ؟ کشمور میں زیادتی کا نشانہ بننے والی 4 سالہ بچی کے الفاظ نے دل دہلا دئیے، خود بھی زیادتی کا نشانہ بننے والی والدہ، بچی کے اوپر ہونے والے ظلم کا سن کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ تفصیلات کے مطابق کشمور میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جو انتہائی شرمناک اور ناقابل بیان ہے۔بتایا گیا ہے کہ کراچی کے جناح ہسپتال میں کام کرنے والی خاتون کو40ہزار روپے کے عوض کسی کی دیکھ بھال کی نوکری کا لالچ دے کر 25اکتوبر کو کشمور بلوایا گیا، خاتون کی ان افراد سے جناح ہسپتال میں ملاقات ہوئی تھی۔ پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے خاتون کو 15 روز تک اغوا کیے رکھا، اس دوران خاتون اوراس کی بچی کے ساتھ اغوا کار زیادتی کرتے رہے۔پندرہ روز بعد انہوں نے خاتون کو بچی کے بغیر رہا کیا اور کہا کہ وہ کراچی جا کر مزید خواتین لائے ورنہ اس کی بچی کو قتل کردیا جائے گا۔ متاثرہ خاتون نے کشمور پولیس کو اطلاع دی ۔ جس کے بعد پولیس ٹیم نے رفیق ملک کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا جہاں اس خاتون نے تین افراد کو دیکھا جن میں سے دو کی شناخت بطور محمد رفیق ملک اور خیراللہ بگٹی ہوئی جبکہ تیسرے کو پہچانا نہیں جاسکا۔ کشمور پولیس نے رفیق ملک کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 376 (ریپ)، 344 (حبس بیجا)، 420 (دھوکہ دہی) اور 34 (مشترکہ ارادہ) کے تحت کیس رجسٹر کیا گیا ہے۔،پولیس نے بتایا کہ رفیق ملک کشمور کا رہائشی ہے اور وہاں زمیندار ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے چند ٹرینڈز زیر گردش ہیں جس کا استعمال کرتے ہوئے صارفین ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں بچی اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے بارے میں بتا رہی ہے۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ والدہ اپنی کمسن بچی سے سوال کرتی ہے کہ بیٹا آپ کا یہ حال کس نے کیا ہے ؟ ماں کے سوال پر بچی نے روتے ہوئے کہا کہ ’ انکل نے‘ ۔ وحشیانہ تشدد اور اجتماعی زیادتی کا شکار بچی کی باتیں سن کر والدہ دھاڑیں مار کر رونے لگیں۔ اس دوران بچی اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔والدہ بچی کا جسم دیکھ کر کانپ اٹھی اور اونچا اونچا رونے لگی۔اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں شدید و غم غصہ پایا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ اب ز یادتی کرنے والوں کے ساتھ نرمی برتنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ایسے سفاک درندوں کو سزا دینے کے لیے سخت قانون لایا جائے تاکہ ایسے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔ اس بارے میں خبر بھی سامنے آئی ہے کہ محمد بخش پولیس افسر،جس نے جنسی درندوں کو گرفتار کرنے کیلئے اپنی بیٹی کی زندگی داؤ پر لگا دی ایک چھوٹے تھانیدار کو پتہ چلا تو اس نے ایک مشکل ترین فیصلہ کیا۔ملزم بااثر تھے ان پر ہاتھ ڈالنا آسان نہ تھا ان کو ٹریپ کرنے کے لئے اس نے اپنی بیٹی کو سامنے کر دیا۔ متاثرہ خاتون کے ذریعے اس درندے سے کشمور میں محمد بخش اے ایس آئی نے اپنی بیٹی کی بات کرائی۔یوں پولیس نے ہمت کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا جس نے گرفتاری کے بعد انکشاف کیا کہ اسے علاقے کے نامور سیاستدانوں کی پشت پناہی اسے حاصل ہے۔ اس کہانی میں ہمارے معاشرے کے کتنے رنگوں کی عکاسی ہوتی ہے۔۔۔ ایک بے بس ماں جو خود بھی پامال ہوئی اور اس کی آنکھوں کے سامنے 4 سالہ لخت جگر بھی۔ معاشرہ ہے یا جنگل ۔۔۔ جب جہاں کسی کا دل چاہتا ہے بے بس خواتین اورمعصوم بچیوں کو دن دیہاڑے اٹھاتا ہے روند کر کچرے کے کسی ڈھیر پر پھینک دیتا ہے۔ کیسے ظالم ہیں وہ بااثر جو ایسے درندوں کی پشت پناہی بھی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر عیش بھی۔ اے ایس آئی اور پولیس کو کیوں سلام نہ کریں جس نے ایک بچی کےساتھ درندگی کرنے والوں کو کٹہرے میں لانے کی خاطر اپنی بیٹی کی زندگی داؤ پر لگا دی۔ محمد بخش آپ اس بے حس منافقت سے اٹے معاشرے میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہو آپ نے قوم کے اجتماعی گناہ کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ محمد بخش کی با حمت بچی کیلئے حکومت سندھ حکومت کی طرف سے دس لاکھ روپےکے انعام کا اعلان کیا گیا ہے اور بچی کے بیرون ملک تعلیم لے اخراجات اٹھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔