"

کیلے میں موجود اس تار کے فائدے جانتے ہیں

کیلے میں تار نما یہ چیز کیا ہے؟ اس کے فوائد جان کر آپ مہنگے کیلے بھی خرید لیں گے پھل انسان کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں اور ہر انسان کو کوئی نہ کوئی پھل ضرور پسند ہوتا ہے۔ جیسا کہ کیلے جیسا پھل غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اور ہر موسم میں رہتا ہے۔ اس کا ملک شیک بھی شوق سے پیا جاتا ہے ،جبکہ اس سے وزن بھی آسانی سے بڑھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کمزور جسم والے افراد کے لیے نہایت مفید ہے۔ لیکن آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کیلے میں اکثر تار نما ایک چیز ہمیں نظر آتی ہے ، جس کو ہم چھلکے کے ساتھ اتار لیتے ہیں۔ لیکن اس تار کے فوائد جاننے کے بعد آپ یقیناً اس کو پھینکیں گے نہیں اور اس کا استعمال یقینی بنالیں گے۔ * دراصل یہ تار نما چیز فلوم بنڈلز کہلاتی ہیں جو کہ ایک ٹشو ہوتا ہے جو ہر پودے میں موجود ہوتا ہے۔ اس کا کام پھل تک تمام نیوٹریشن پہنچانا ہوتا ہے۔ * اس میں وٹامن اے، وٹامن بی 6 ، فائبر اور پوٹاشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے اور یہ تار ایک رگ کی طرح کام کرتا ہے اور پھل کو اس کی ضروریات کی تمام چیزیں فراہم کرتی ہے۔ یہ کیلے کو مزیدار اور بڑھنے میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ * اس لیے آپ جب بھی کیلا کھائیں تو اس تار کو بھی ضرور کھائیں تاکہ آپ کو زیادہ غذائیت ملے اور اگر آپ کیلا نہیں کھاتے تو اس کو اپنی غذا کا حصہ ضرور بنائیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ صحت کے لیے فائدہ مند غذا ذائقہ دار نہیں ہوتی مگر جب بات کیلوں کی ہو تو ایسا بالکل نہیں۔ کیلے نہ صرف ذائقے دار ہوتے ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی متعدد فوائد کے حامل ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر روزانہ صرف ایک کیلا کھانا ہی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، جن میں سے کچھ فوائد آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے۔ پوٹاشیم سے بھرپور پھل ایک کیلے میں 422 ملی گرام پوٹاشیم ہوتی ہے جو کہ دن بھر کے لیے جسم کو درکار مقدار کا 12 فیصد ہے۔ جسم کو اپنے افعال کے لیے پوٹاشیم کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یہ منرل مسلز، اعصابی نظام، دل کی دھڑکن کو ریگولیٹ کرنے اور جسم میں نمکیات کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔کیلا جسم میں پوٹاشیم کی کمی، ہائی بلڈپریشر اور گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے ، جسمانی طور پر کمزوری اور تھکاوٹ کا مسئلہ بھی درپیش ہوسکتا ہے، کیلا اس سے بھی نجات دلاتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا ویسے سننے میں عجیب لگے کہ ایک ٹھوس پھل پانی کی کمی کیسے پوری کرسکتا ہے، مگر یہاں بھی پوٹاشیم مددگار ثابت ہوتا ہے جو کہ ورزش یا ورک آﺅٹ کے بعد جسم میں پانی کی مقدار کو ریگولیٹ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جسم بنانے کے خواہشمند افراد کو کیلوں کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ معدے کے لیے فائدہ مند ایک درمیانے کیلے میں 3 گرام فائبر موجود ہے جو کہ روزانہ درکار مقدار کا دس فیصد ہے۔ کیلوں میں پری بائیوٹک بھی موجود ہے جو فائبر کی ہی ایک قسم ہے جس سے معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی مقدار بڑھانے میں مدد ملتی ہے، یہ بیکٹریا نظام ہاضمہ بہتر، موسمی نزلہ زکام کا دورانیہ کم اور جسمانی وزن میں کمی میں بھی مدد دیتے ہیں۔ دل کے لیے بھی بہترین پوٹاشیم دل کے لیے بہت اہم منرل ہے، مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق پوٹاشیم والی غذاﺅں کا استعمال بلڈ پریشر کی سطح کم کرتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے، پوٹاشیم دل پر تناﺅ بڑھانے والے سوڈیم کو پیشاب کے راستے خارج کرتا ہے جس سے دل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ خون کی کمی سے تحفظ خون کی کمی سے جلد کی زردی، تھکاوٹ اور سانس گھٹنے جیسی شکایات ہوتی ہیں، اور ہیموگلوبن کی سطح میں کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کیلوں میں آئرن کی کافی مقدار ہوتی ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کی پیداوار کو حرکت میں لانے والا جز ہے، اسی طرح وٹامن بی سکس بلڈ گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ یہ خون کی کمی کے شکار افراد کے لیے بھی فائدہ مند پھل ہے۔ گردوں کی صحت بہتر کرتا ہے ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ بہت زیادہ پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں، ان میں گردوں کے کینسر کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے، تحقیق کے دوران اس مقصد کے لیے فائدہ مند پھلوں کا جائزہ لیا گیا تو کیلے سب سے بہتر ثابت ہوا۔ جس کی وجہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ کی موجودگی ہے۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پوٹاشیم کا استعمال گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے اور جیسا اوپر بتایا جاچکا ہے کہ کیلے پوٹاشیم سے بھرپور پھل ہے۔