"

عمران خان نے فون کر کے اے ایس آئی محمد بخش کو شاباش دے دی۔

دل چاہتا ہے تمہارا ماتھا چوم لوں ، تمہیں گلے سے لگا لوں ، کشمور واقعہ کی متاثرہ بچی کے ملزم کو پکڑنےوالے اے آئی ایس آئی کو وزیر اعظم پاکستان کا فون ، ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کی آنکھیں بھر آئیں وزیراعظم عمران خان نے کشمور میں زیادتی کا شکار ماں بیٹی کو ملزمان سے بچانے والے بہادر پولیس افسر کو ٹیلی فون کیا اور واقعے سے متعلق بات چیت کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اے ایس آئی محمد بخش بروڑ کو شاباش دی اور ان کی بیٹی کی مثالی بہادری کو سراہا۔وزیراعظم نے اے ایس آئی کو کہا کہ میرا دل چاہتا ہے میں تمہارا ماتھا چوم لوں اور تمہیں گلے سے لگا لوں۔انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی محمد بخش نے پولیس کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئندہ ہفتے انسداد زیادتی سےمتعلق آرڈیننس لارہے ہیں۔یاد رہے چند روز قبل کشمور میں ماں کو کمسن بیٹی کے ساتھ زکا نشانہ بنایا گیا تھا۔نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اے ایس آئی محمد بخش برڑو نے ملزمان کی گرفتاری کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی بیٹی اور اہلیہ کی مدد سے وحشی درندوں کو گرفتار کیا۔دوران انٹرویو محمد بخش برڑو نے بتایا کہ متاثرہ خاتون تبسم بیگم 31 تاریخ کو تھانے آئی تھی۔ ہیڈ محرر نے مجھے بتایا کہ اس خاتون کی مدد کرو ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ یہ خاتون کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تفتیش کرنے پر خاتون نے بتایا کہ انہیں اور ان کی کمسن بچی کو کسی شخص نے ز کا نشانہ بنایا ہے، اب وہ کسی دوسری خاتون کا بندوبست کرنے تک میری بچی کو نہیں چھوڑے گا۔ اے ایس آئی نے بتایا کہ انہوں نے منصوبے کے تحت اپنی بیٹی کو متاثرہ خاتون کے ساتھ بھیجا۔انہوں نے بتایا کہ میری بیٹی متاثرہ خاتون کے ساتھ مقررہ جگہ پہنچی تو ملزم نے خود کو افسر ظاہر کر کے اسے بھی ملازمت کی پیشکش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے متاثرہ خاتون کی مدد سے ملزم پر قابو پانے کی کوشش کی، اسی دوران پولیس بھی موقع پر پہنچی اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ملزم کی نشاندہی پر چار سالہ بچی کو خالی مکان سے بازیاب کرا لیا گیا، بچی کو ایک گندے کپڑے میں لپیٹ کر فرش پر پھینکا گیا تھا۔یاد رہے ماں اور کمسن بچی کو ز کا نشانہ بنانے والا ملزم رفیق پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔پولیس رفیق ملک کو ساتھ لے کر دوسرے ملزم خیراللہ بگٹی کی گرفتاری کے لیے گئی تو وہاں موجود مسلح افراد نے پولیس پر حملہ کر دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ رفیق ملک کی نشاندہی پر جیسے روپوش ملزم خیراللہ بگٹی کے ٹھکانے پر گئے وہاں فائرنگ شروع ہو گئی۔پولیس ذرائع کے مطابق دو طرفہ فائرنگ میں رفیق ملک مارا گیا اور خیر اللہ بگٹی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔چند روز قبل کشمور میں 4 سالہ بچی اور اس کی ماں کو اجتماعی ز کا نشانہ بنایا گیا تھا، بچی پر بہیمانہ تشدد بھی کیا گیا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں۔ملزموں نے بچی کے دانت توڑ دیے، سر کے بال بھی کاٹ دیے، اس کے علاوہ اس کا گلا بھی دبایا گیا تھا۔