"

برج خلیفہ جتناشہاب ثاقب زمین سے ٹکرانے والا ہے

برج خلیفہ جتنا بڑا سیارہ زمین کی جانب بڑھنے لگا 9000کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ہم خلاﺅں کے سفر پر گامزن ہیں،کبھی چاند تو کبھی مریخ کی طرف پینگیں بڑھاتے نظر آتے ہیں تو یہ قیاس آرائی بھی بے جا نہیں ہو گی کہ اگر زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر بھی انسانوں کا وجود ہے تو شاید وہ بھی ہم تلاش کرتے ہوئے زمین پر آنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہوں۔ممکن ہے کہ اس مخلوق کو ہم سے ملنے کی جلدی کچھ زیادہ ہو کیونکہ ہم نے خلا میں سٹیلائٹ اور راکٹ بھیج کر جتنا انہیں تنگ کر رکھا ہے وہ کچھ ا رو ہی منصوبہ بنائیں بیٹھے ہوں۔ اس لیے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جمبو سائز سے بھی اوپر کے سیارچے زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ کائنات انسانوں کے ساتھ کوئی مذاق کرنے جا رہی ہے کیونکہ ایک نہیں بلکہ پانچ سیارچے 2020میں زمین کے ساتھ ٹکرانے کے لیے خلا سے نیچے زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ کچھ دنوں تک 2700فٹ چوڑی خلائی چٹان زمین پر آن رہے گی جو کسی بھی قسم کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس چٹان کا قطر0.51کلومیٹر ہے جسے آپ عام اندازے کے مطابق دبئی کے برج خلیفہ جتنی لمبی چوڑی سمجھ سکتے ہیں۔یہ سیارچہ بظاہر خلا میں گھومتا پھرتا نظر آ رہاہے جیسے سیر سپاٹے کے موڈ میں ہو اور اس کے حرکت کرنے کی رفتار 90000کلومیٹر فی گھنٹہ نوٹ کی گئی ہے۔ناسا کے مطابق یکے بعد دیگرے پانچ چٹانیں 2020کے آخر میں زمین کی طرف آئیں گی۔سائنسدان ہفتے کے ساتھ دن اور دن کے چوبیس گھنٹے ان سیارچوں کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں کیونکہ ان کے زمین پر پہنچنے کے ساتھ کائنات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی رونما ہو سکتی ہیں۔ سیارچوں کی آمد کی رفتار عام گولی کی رفتار سے کئی گنا تیز ہے اور ان کے سائز سے لگتا ہے کہ ایک بڑی بھاری چٹان زمین کی جانب محو سفر ہے۔ناسا کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ چٹان جو کہ دبئی کے برج خلیفہ جو کہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے کے سائز سے بھی بڑا ہے اور یہ رواں برس کے آخر تک زمین پر آ رہے گا۔اس حوالے سے سائنسدان سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ سیارچوں کی آمد کے بعد کیا حالات وقع پذیر ہوں گے اور کس قسم کی تباہی کا انسان کومنتظر رہنا چاہیے۔