09:01 am
سانس کی بیماریوں کا علاج مچھلی کھانے میں پوشیدہ

سانس کی بیماریوں کا علاج مچھلی کھانے میں پوشیدہ

09:01 am

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) مچھلی کے تیل میں پولی ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز (Polyunsaturated fatty acids) اور اومیگا فیٹی ایسڈز 3اور 6وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو دماغ اور مرکزی عصبی نظام کی نشوونما اور کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔
اب سائنسدانوں نے پولی ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز کاایک اور حیران کن فائدہ بھی بتا دیا ہے۔ آسٹریلیا کی جیمز کک یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ کچھ مخصوص قسم کے پولی ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز ، جنہیں این 3بھی کہتے ہیں، ایسے ہیں جو دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں کے علاج میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جو لوگ پولی ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز لیتے ہیں ان کے دمہ جیسے امراض کا شکار ہونے کاامکان 62فیصد کم ہو جاتا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر اینڈریاس لوپاتا کا کہنا تھا کہ ” دنیا میں ہر سال 33کروڑ 40لاکھ کے لگ بھگ لوگ دمہ کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان میں ایک چوتھائی اس مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اگرچہ مچھلی کی کئی اقسام میں پارہ اور دیگر ایسے خطرناک مادے پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود مچھلی کے فوائد اس کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ تاہم سانس کے مرض سے نجات کے لیے ایسی مچھلی استعمال کرنی چاہیے جس میں این تھری زیادہ اور این 6کم مقدار میں موجود ہو، کیونکہ ہماری تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ این 6سانس کی بیماریوں میں الٹا اضافے کا سبب بنتا ہے۔“