03:47 pm
معروف ایپ پر بنائی جانے والی ہزاروں ویڈیو ز کے ساتھ شرمناک کام ہونا شروع

معروف ایپ پر بنائی جانے والی ہزاروں ویڈیو ز کے ساتھ شرمناک کام ہونا شروع

03:47 pm

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کے انقلاب نے جرائم پیشہ لوگوں کو بھی اپنی مکروہ کارروائیوں میں بہت آسانی فراہم کر دی ہے، بالخصوص جنسی بھیڑیوں کو، جو اب ان سوشل پلیٹ فارمز کے طفیل باآسانی اپنا شکار تلاش کر لیتے ہیں۔ پہلے تو یہ بدطینت فیس بک اور دیگر ایپلی کیشنزکے ذریعے ہی سرگرم تھے اوراب معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے متعلق بھی ماہرین نے ہولناک انکشاف کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ”بچوں میں جنسی رغبت رکھنے والے درندہ صفت انسان کم عمر لڑکے لڑکیوں کو ورغلانے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹک ٹاک کا استعمال کر رہے ہیں اور ٹک ٹاک کی انتظامیہ ایسے لوگوں کے اکاؤنٹ بند کرنے میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔“ماہرین کا کہنا ہے کہ ”اگرچہ ٹک ٹاک 13سال سے زائد عمر کے لوگوں کے اکاؤنٹ بناتی ہے لیکن بچے غلط عمر درج کرکے اکاؤنٹ بنا رہے ہیں اور ایپلی کیشن کے پاس ایسا کوئی میکانزم نہیں ہے کہ ان کا سراغ لگا سکے اور انہیں ایپ پر آنے سے روک سکے۔ کئی ایسے بچوں کے بھی ٹک ٹاک پر اکاؤنٹس ہیں جن کی عمریں 8اور 9سال ہیں اور یہ بچے جنسی بھیڑیوں کا آسان شکار ثابت ہو رہے ہیں۔“ بی بی سی نے بھی اس حوالے سے تحقیقات کی ہیں جن میں معلوم ہوا ہے کہ ”بچوں کے اکاؤنٹس پر ان کی ویڈیوز کے نیچے ہزاروں کی تعداد میں ایسے کمنٹس موجود ہیں جن کا مقصد ان بچوں کو اپنی طرف راغب کرنا ہے۔ ان پیغامات کو رپورٹ کیا گیا اور کئی ڈیلیٹ کر دیئے گئے تاہم کئی اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے انہیں نہیں ہٹایا۔“کرس نامی ایک شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”میرا 10سالہ بیٹا ٹک ٹاک استعمال کر رہا تھا جس کا مجھے علم ہی نہیں تھا۔پھر اسے جنسی ہراسگی پر مبنی پیغامات آنے لگے اور کچھ لوگ تو اسے دھمکیاں دینے لگے کہ وہ آئیں گے اور اسے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اس پر خوفزدہ ہو کر اس نے مجھے بتایااور میں نے اس کے فون سے ایپلی کیشن ہی ڈیلیٹ کر دی۔“رپورٹ کے مطابق چلڈرنز کمشنر اینی لانگ فیلڈ کا کہنا ہے کہ ”ہمیں ٹک ٹاک کے ذریعے بچوں کو ورغلانے اور جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے کی سینکڑوں شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ ان شکایات کے ازالے کے لیے ہم جلد ٹک ٹاک کی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کریں گے جس میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر بات کی جائے گی۔ “ دوسری طرف ٹک ٹاک کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات اپنے پاس محفوظ کرنے کے الزامات کی زد میں بھی آ چکی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ایپلی کیشن کو امریکہ میں 13سال سے کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات اپنے پاس محفوظ کرنے پر 43لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 79کروڑ 29لاکھ روپے)جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔اس ایپلی کیشن کو بھارت میں بھی شدید تنقید کا سامنا ہے اور وہاں حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس ایپلی کیشن پر ملک میں پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ فحش مواد پھیلانے کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ اس ایپلی کیشن کو بھارت میں بھی شدید تنقید کا سامنا ہے اور وہاں حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس ایپلی کیشن پر ملک میں پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ فحش مواد پھیلانے کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں