07:48 am
ابراج انوسٹمنٹ مینجمنٹ پر 29کروڑ 93لاکھ ، ابراج کیپٹل لمیٹڈ پر ایک کروڑ 53لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد،18ماہ پر محیط تفتیش میں اہم انکشافات

ابراج انوسٹمنٹ مینجمنٹ پر 29کروڑ 93لاکھ ، ابراج کیپٹل لمیٹڈ پر ایک کروڑ 53لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد،18ماہ پر محیط تفتیش میں اہم انکشافات

07:48 am

دبئی( آن لائن ) مالیاتی معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ انہوں نے ابراج ایکویٹی گروپ سے منسلک 2 کمپنیوں پر غیر مجاز سرگرمیوں اور سرمایہ کاروں کے فنڈز کا ناجائز استعمال کرنے پر 31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا غیر معمولی جرمانہ عائد کیا ہے۔ دبئی فنانشنل سروسز اتھارٹی (ڈی ایف ایس اے) کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ انہوں نے ابراج انوسٹمنٹ مینجمنٹ 29 کروڑ 93 لاکھ اور ابراج کیپٹل لمیٹڈ پر ایک کروڑ 53 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا۔مذکورہ کمپنیاں ابراج گروپ سے منسلک ہیں جو 14 ارب ڈالر کے اثاثوں کیساتھ ایک
 
زمانے میں مشرق وسطی کی سب سے بڑی نجی سرمایہ کاری کی کمپنی تھی۔تقریبا ایک سال قبل فنڈ کے غلط استعمال کرنے کے الزامات پر سرمایہ کار اپنی رقم واپس لینے پر مجبور ہوگئے جس کے بعد اس گروپ کے مالیاتی بحران کا آغاز ہوا۔اس کمپنیوں کے چند نمایاں سرمایہ کاروں میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فانڈیشن اور عالمی بینک کی ایک منسلک ادارہ بھی شامل ہے۔ڈی ایف ایس اے کا کہنا تھا کہ 18 ماہ پر محیط تفتیش کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ابراج انویسٹمنٹ مینجمنٹ غیر مجاز مالیاتی سرگرمیوں میں ملوث تھی اور ایک طویل عرصے تک ابراج فنڈ میں سرمایہ کاروں سے غلط بیانی کرتی رہی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کمپنی نے آپریٹنگ اور دیگر اخراجات اور کیش کی کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف فنڈز میں سرمایہ کاروں کے پیسے کا غلط استعمال کرنے کیساتھ ابراج کیپٹل دیانت اور منصفانہ ڈیلنگ کے کم سے کم میعار پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئی۔یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں کائمین آئی لینڈ، جہاں ابراج گروپ رجسٹرڈ ہے، میں موجود ایک عدالت نے اس گروپ کی نظیم نو کی نگرانی کرنے کے لیے لیکویڈیٹر مقرر کیے تھے۔مذکورہ کمپنی اور اس کے کچھ اعلی ترین عہدے دار امریکا میں بھی مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ڈی ایف ایس اے کا مزید کہنا تھا کہ اس نے دوسری کمپنیوں کو اس کام سے روکنے اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے یہ جرمانہ عائد کیا۔بیان میں بتایا گیا کہ ریگولیٹر اس معاملے سے منسلک افراد اور کمپنیوں کے حوالے سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں