05:40 pm
گھرسے باہرنہ جائیں ورنہ آپ کی جنس تبدیل ہوسکتی ہے  باہر سے کھانے کے رواج کو فروغ دے کر مغرب نےخود ہی بڑا اعلان کر ڈالا

گھرسے باہرنہ جائیں ورنہ آپ کی جنس تبدیل ہوسکتی ہے باہر سے کھانے کے رواج کو فروغ دے کر مغرب نےخود ہی بڑا اعلان کر ڈالا

05:40 pm

کھانے پینے میں جوپلاسٹک کی مصنوعات استعمال ہوتی ہیں ان کے بعض نقصانات سے توہم آگاہ ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے ایک ایسانقصا ن بتادیاہے کہ جان کرہرکوئی ماں باپ اپنے بچوں کوپلاسٹک کے برتنوں میںکھانانہیں کھانے دے گا،برطانوی خبررساں ادارے ڈیلی میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف کیلی فورنیانے بتایاہے کہ پلاسٹک کے برتنوں میں ایسےخطرناک کیمیکلز ہوتے ہیں جوبچوں کےجسمانی ہارمونز پرانتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں
اوران کی جنس میں تبدیلی کارحجان پیداکرتے ہیںسائنسدانوں کے مطابق ان کیمیکلز کو ’فتھالیٹس‘ (Phthalates)کہا جاتا ہے جو پلاسٹک کے برتنوں کو مضبوط اور لچکدار بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔تاہم یہ کھانے میں شامل ہو کر انسان کے جسم میںداخل ہونے اور ہضم ہو کر جسم کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ بالخصوص لڑکوں کی جسمانی نشوونما کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اوران میں جنس کی تبدیلی کا راستہ ہموار کرتے ہیں کیونکہ ان سے جسمانی ہارمونز میں تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ “ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ جولیا ورہاوسکی نے لوگوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”جو لوگ باہر کھانا کھانے کے عادی ہوتے ہیں وہ ان کیمیکلز کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ ہوٹلوں میں زیادہ تر پلاسٹک کے برتن استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ اکثر باہر کھانا کھاتے ہیں ان کی جسمانی نشوونما میں بگاڑ آنے کا امکان گھر میں کھانا کھانے والوں کی نسبت 30فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ یہ کیمیکل ہر عمر کے لوگوں پر اثرانداز ہوتے ہیں تاہم ان کا سب سے زیادہ نشانہ کم عمر افراد بنتے ہیں جن کے جسم ابھی نمو پا رہے ہوتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں